1
فخرزمان اوپننگ نہ کرسکے، بابر کے ساتھ سعود شکیل نے اننگز کا آغاز کیاپاکستان کی جانب سے سعود شکیل اور بابر اعظم نے اوپننگ کی۔ فیلڈ سے باہر رہنے کی وجہ سے فخرزمان کو 20 منٹ انتظار کرنا پڑا اور وہ چوتھے نمبر بیٹنگ کیلئے آئے۔
گھٹنے کی تکلیف کے سبب دو مرتبہ میدان سے باہر جانا پڑا، ٹریٹمنٹ کے بعد دوبارہ میدان میں آگئے پھر اننگز کے آخر تک فیلڈنگ کی۔فخر زمان نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں فیلڈنگ کے دوران پہلے اوور میں ہی انجری کا شکار ہوگئے تھے۔
2
چیمپئنز ٹرافی کا افتتاحی میچ: نیوزی لینڈکے 321 رنز کے جواب میں پاکستان کے 6 کھلاڑی آؤٹ ہوگئے۔پاکستان کے پہلے آؤٹ ہونے والے بیٹر سعود شکیل تھے جو 6 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، 22 کے مجموعی اسکور پر کپتان رضوان بھی پویلین لوٹ گئے انہوں نے 3 رنز بنائے۔
پاکستان کی تیسری وکٹ 69 رنز پر گری جب فخرزمان 24 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ پاکستان کے چوتھے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی سلمان آغا تھے جنہوں نے مزاحمت کی کوشش کی تاہم وہ بھی 28 گیندوں پر 42 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
3
دبئی میں ہونے والے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے میچز میں شائقین کی دلچسپی کے لیے ٹکٹس کی نئی کیٹیگری متعارف کرادی گئی ہے۔50 ہزار درہم والا پیکج متعارف کرایا گیا ہے، جس میں 4 میچز دبئی اسٹیڈیم میں دیکھیں جاسکیں گے۔ لگ بھگ 38 لاکھ پاکستانی روپے میں 4 ٹکٹس ملیں گے۔چاروں ٹکٹس وی آئی پی سوئٹ کے ہیں، انمول ٹکٹ پیکج سے بھارت کے 3 میچز اور ایک سیمی فائنل دیکھنےکا موقع ملےگا۔ یہ انمول پیکج بھی آن لائن خریدا جاسکتا ہے۔
4
کراچی میں دوست کے ہاتھوں قتل ہونے والے مصطفیٰ عامر کیس میں گرفتار مرکزی ملزم ارمغان سے تفتیش کے دوران اہم انکشافات سامنے آگئے۔تفتیشی حکام کے مطابق ملزم ارمغان ماضی میں بھی پولیس اور اے این ایف کے ہاتھوں گرفتار ہوچکا ہے اور ملزم کےخلاف دہشتگردی، اقدام قتل اور منشیات فروشی کے 6 سے زائد مقدمات درج ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ارمغان پر اےاین ایف، درخشاں، ساحل، گزری اور بوٹ بیسن تھانوں میں مقدمات درج ہوئے، یہ مقدمات 2019 سے 2024 کے درمیان درج ہوئے۔حکام نے بتایاکہ ملزم گزری میں اپنی گھر پر غیر قانونی سافٹ ویئر ہاؤس اور کال سینٹر چلاتاتھا، سافٹ ویئر ہاؤس اور کال سینٹر سےملزم نے غیرملکیوں سے کروڑوں ڈالر لوٹے، ملزم ارمغان نے ڈیجیٹل کرنسی کی ہیرپھیر کیلئے درجنوں ڈیجیٹل کرنسی اکاؤنٹس بنائے تھے۔حکام کے مطابق ملزم نے گرفتاری سے قبل گھر میں موجود تمام لیپ ٹاپس کا ڈیٹا ڈلیٹ کردیا تھا اور لیپ ٹاپس کو خالی کرنے کیلئے ملزم پولیس سے چار گھنٹے تک مقابلہ کرتا رہا۔