اسلام آباد (محمد اکرم عابد) وفاقی بجٹ 2025.26کی تیاری شروع کردی گئی۔پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں کی قائمہ کمیٹیوں کو متعلقہ وزارتوں کا مجوزہ نئے بجٹ کی تفصیلات موصول ۔بحث شروع۔31مارچ2025تک منظوری کا ٹائم فریم۔ تاخیر پر منظور ی تصورہوگی۔قومی اسمبلی کے ضابطہ کار کے مطابق نئے بجٹ کی ترقیاتی منصوبوں سے پیشگی متعلقہ کمیٹی کو اس کی توثیق ضروری ہے۔سینیٹ کوصرف اعتماد میں لیا جاتا کیونکہ مالیاتی بل پر سینیٹ کا اختیار محدود ہے۔

دفاع۔خارجہ امور۔داخلہ۔توانائی دیگرنئے بھاری سرکاری اخراجات کی تفصیلات اہم ہونگی۔کمیٹیوں میں بحث شروع ہوگئی ہے۔اپوزیشن نے بھی اپنی تحریک کو تیز کردیا ہے تاہم یہ معاملات اندرون خانہ مفادات کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں ۔اراکان پارلیمنٹ کی اضافی مراعات تنخواہوں کی منظوری پرسمجھوتہ کرنا ریکارڈ پر موجود ہے۔اب بجٹ کی تیاری کی شروعات ہوگئی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں پیش اور جائزہ لیا جارہا ہے۔کمیٹی کو تجاویز شامل کرنے کا اختیار ہے۔حکومتی ارکان اپنی کمیٹیوں میں زیادہ بحث کی بجائے منظور ی شروع کر چکی ہیں۔کمیٹیوں کے اپوزیشن سے سربراہوں کی جانب سے زیادہ سرگرمی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا یہ تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی وجہ سے ممنون احسان نظرآتے مرعوبیت کی فضا حکومت اپوزیشن کی تمیز ختم کر چکی ہے۔

کمیٹیوں میں رسمہ جائزہ جاری ہے اور بجٹ تجاویز کے بارے میں 31مارچ تک فیصلہ کرناہے۔ناقدین کا کہنا ہے بجٹ پر نمائشی بائیکاٹ مخالفت ہوگی۔شورشرابا ہوگا آور اس آڑ میں ٹھپہ لگادیں گے۔رولزآف بزنس میں اسی لئے ردوبدل کیا گیا کہ بجٹ کے حوالے سے جمہوری حکومتوں کو منشور کی یاددہانی کرواتے ہوئے پیشگی تجاویز سے آ گاہی دی جائے۔

مگرمقصد اس ضابطہ کار سے اوجھل ہوتا جارہا ہے بس رسمی اس اختیار کو کمیٹیوں میں بجٹ کے پیشگی پوسٹمارٹم سے متعلق استعمال کیا جارہا تاہم دوسری طرف بجٹ ایوان میں پیش ہونے سے قبل اپوزیشن قائدین محمود خان اچکزئی ۔اسدقیصر۔شاہدخاقان عباسی بڑی احتجاجی تحریک کے دعوے کررہے ہیں ۔