1
مصطفی قتل کیس کے ملزم کا ریمانڈ نہ دینے والے منتظم جج سے انتظامی اختیارات واپس ,سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس ظفر راجپوت کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق عدالت نے ریکارڈ ٹیمپرنگ کے الزامات کے بعدجج سے اختیارات واپس لینے کی سفارش کی۔
سندھ ہائیکورٹ میں مصطفیٰ عامر قتل کیس میں پراسیکیوشن نے اے ٹی سی کے منتظم جج کے خلاف 4 درخواستیں دائر کی تھیں جن میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ اے ٹی سی کے منتظم جج نے ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کی تھی۔
گزشتہ سماعت پر رجسٹرار اے ٹی سی نے کیس کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا اور موجودہ تفتیشی افسر نے بتایا کہ ٹرائل کورٹ میں پہلے پولیس ریمانڈ دیا گیا تھا اور شام 7 بجے جیل کسٹڈی کی گئی۔
2
انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کو جوڈیشل کمپلیکس میانوالی پر حملے کے مقدمہ میں اپوزیشن لیڈرعمریوب و دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں پر فرد جرم عائد کردی۔سرگودھا کی انسداد دہشتگردی عدالت میں 9 مئی کو میانوالی میں جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کیس کی سماعت ہوئی، اے ٹی سی کے جج محمد نعیم شیخ نے مقدمہ کی سماعت کی، اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر ، رکن قومی اسمبلی بلال اعجاز و مقدمہ میں نامزد دیگر متعدد کارکنان عدالت پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران عدالت میں عمر ایوب ، ملک احمد خان بھچر ، بلال اعجاز و مقدمات میں نامزد دیگر متعدد کارکنان پر فرد جرم عائد کردی، ملزمان نے فرد جرم میں عائد کیے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ملزمان نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ ہمارے کیخلاف جھوٹے اور من گھڑت مقدمات درج کر کے ہمیں سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔بعدازاں عدالت نے آئندہ پیشی پر مقدمہ کے گواہان کو طلب کرنے کا حکم جاری کردیا اور کیس کی مزید سماعت 28 فروری تک ملتوی کردی۔
3
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ دہشتگردی عالمی مسئلہ ہے، مشترکہ اقدامات سے ہی اس ناسور پر قابو پایا جا سکتا ہے۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سے روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں انسداد دہشت گردی و انسداد منشیات کے سلسلے میں باہمی تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی، دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی ڈائیلاگ کو فعال کرنے اور وفود کے زیادہ سے زیادہ تبادلوں پر بھی اتفاق ہوا۔
4
مزید 45 آئی پی پیز سے مذاکرات کا آغاز،21 ارب سے زائد کی بچت ہوگی . پاور ڈویژن ذرائع کے مطابق ان آئی پی پیز میں سولر اور ونڈ کے پاور پلانٹس شامل ہیں، ان پلانٹس میں وہ بجلی گھر بھی شامل ہیں جو غیر ملکی فنڈنگ سے بنے ہیں، فارن فنانسنگ والے 23 پلانٹس بھی مذاکرات کا حصہ ہیں، جن بجلی گھروں کے ساتھ بات چیت ہورہی ہے وہ 2500 میگاواٹ کے حامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت سے 21 ارب 25 کروڑ روپے سے زائد کی بچت ہوگی جس کا فی یونٹ پر 20 پیسے اثر پڑے گا۔
پاور ڈویژن کے اعلی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ان آئی پی پیز کا ریٹرن ان ایکویٹی بھی کم کیا جائے گا، ریٹرن ان ایکویٹی کو 17 فیصد سے کم کرکے 13 فیصد پر لایا جائے گا اور اس کے ساتھ یو ایس انڈکشن والی شرط کو بھی ختم کیا جائے گا، ان آئی پی پیز کو منافع ڈالر کے بجائے روپیہ میں دینے پر بات چیت کی جائے گی۔


