1
وکیل رہنما احسن بھون جوڈیشل کمیشن کے رُکن منتخب ہوگئے۔احسن بھون جوڈیشل کمیشن میں پاکستان بار کونسل کی نمائندگی کرینگے۔پاکستان بارکونسل کے اجلاس میں ووٹنگ کے عمل کے دوران 19 ممبران نے شرکت کی، چار ممبران نے مخالفت کی، ایک ممبر نے رائے نہیں دی۔
2
حکومتی سطح پر صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کاوشیں جاری، خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کے ذریعےصنعتی شعبےمیں سرمایہ کاری کے مواقع، صنعتی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگیا،پاکستان کا صنعتی شعبہ نوجوان، ہنر مند اور سستی لیبر فورس کی وجہ سے خطے میں مسابقتی حیثیت کا حامل ہےخصوصی اقتصادی زونز صنعتی شعبےکی ترقی اور سرمایہ کاروں کی رغبت کے لیے جدید طرز پر تیار کیے گئے ہیں،خصوصی اقتصادی زونز کا بنیادی مقصد برآمدات کی صلاحیت میں اضافہ، تجارتی خسارے کو کم کرنا اور اقتصادی سیکیورٹی کو فروغ دینا ہے۔
3
سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پانچ ججز متفق تھے کہ سویلینز کا ملٹری ٹرائل نہیں ہوسکتا، جسٹس امین الدین نے کہا کہ لارجر بینچ پہلے فیصلے کا پابند نہیں ہوتا۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 7 رکنی بینچ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کی۔دوران سماعت سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خصوصی عدالتوں کے خلاف 5 رکنی بینچ کا ایک نہیں تین فیصلے ہیں، جسٹس عائشہ ملک،جسٹس منیب اختراورجسٹس یحیحی آفریدی نے فیصلے لکھے، تمام ججز کا ایک دوسرے کے فیصلے سے اتفاق تھا، ججزکے فیصلے یکساں اوروجوہات مختلف ہوں توتمام وجوہات فیصلہ کا حصہ تصورہوتی ہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ججز نے اضافی نوٹ نہیں بلکہ فیصلے لکھے تھے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تمام پانچ ججزمتفق تھے کہ سویلینز کا ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکتا۔جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ ملزم کو تفتیشی افسر کے حوالے بھی مجسٹریٹ ہی کرسکتا ہے، کیا تفتیشی افسر ملزم کو کسی اور کے حوالے کرسکتا ہے، جس پر فیصل صدیقی کا موقف تھا کہ تفتیشی افسر کو اختیار نہیں کہ اپنے طور پر ملزم کسی اور کے حوالے کر سکے۔ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹراتل سے متعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی، سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی کل بھی دلائل جاری رکھیں گے۔
4
بلوچستان کی اعلیٰ تعلیم کے لیے متحدہ عرب امارات کے اسکالرشپ پروگرام کا اعلان، منتخب کیےگئے 25 طالبِ علموں میں 5 طالبات بھی شامل ہیں،سکالرشپ حاصل کرنے والے طلباء متحدہ عرب امارت کےبہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کریں گے۔اس سکالرشپ کامقصد پاکستان بالخصوص بلوچستان کےنوجوانوں کو عالمی سطح پرتعلیم حاصل کرنے کےمواقع فراہم کرنا ہے۔سکالرشپ حاصل کرنے والے طلباء و طلبات نے اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے پر حکومت پاکستان ، متحدہ عرب امارات اور پاک فوج کاشکریہ ادا کیا۔
5
دن رات عدالتیں لگانے پر 768 ججز رضا مند، 979 نے معذرت کرلی۔پنجاب کے تمام ججز نے اپنی اپنی رپورٹس ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری کوارسال کردیں جس میں کہا گیا کہ مجموعی طور پر پنجاب کے ایک ہزار 747 ماتحت عدلیہ کے ججز ہیں جن میں 44 فیصد نے دن رات عدالتیں لگانے سے متعلق رضامندی ظاہر کی ہے جبکہ 979 ججز نے دن رات عدالتیں لگاکر کیسز کی سماعت سے معذرت کرلی۔ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی تعداد 152، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی تعداد 504، سئنیر سول ججز کی تعداد 110 اور سول ججز کی تعداد 981 ہے ۔پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں 14 لاکھ سے زائد کیسز زہر التوا ہیں اور ماتحت عدالتوں میں ججز کی 700 سے زائد آسامیاں خالی ہیں۔
6
آئی سی سی پلئیرز رینکنگ جاری،فخر زمان کی3 ،رضوان کی 4 درجے تنزلی،فخرزمان تین درجے تنزلی کے بعد 18 ویں، رضوان 4 درجے تنزلی کے بعد 20 نمبر پر چلے گئے۔آئی سی سی کی جانب سےون ڈے اورپلئیرزرینکنگ جاری کردی گئی،بھارت کے شھبمن گل ون ڈے بیٹرز کی رینکنگ میں پہلے نمبر پر براجمان ہیں،پاکستان کےبابراعظم دوسری پوزیشن جبکہ بھارت کےویرات کوہلی ایک درجے ترقی کے بعد 5 ویں نمبر پر آ گئے ۔نیوزی لینڈ کےول ینگ 8 درجےترقی کے بعد 14 ویں نمبرپرآگئےانگلینڈ کے بین ڈکٹ 27 درجےترقی کے بعد 17 ویں نمبر پر آ گئے،فخر زمان تین درجےتنزلی کےبعد 18 ویں اورمحمد رضوان 4 درجےتنزلی کےبعد 20 ویں نمبر پر چلے گئے۔
7
پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب گیا۔گزشتہ سال 285 ارب روپے ٹیکس کی مد میں دیے ۔ جون تک تنخواہ داروں سے ٹیکس وصولی پانچ سو ستر ارب تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔پاکستان میں ملازمت پیشہ طبقہ ٹیکس دینے والا تیسرا بڑا شعبہ بن گیا۔ جس پر عائد ٹیکس کی شرح رواں مالی سال 35 سے 40 فیصد ہے۔ پہلے سات ماہ میں 285 ارب روپے وصولی بھی ہو چکی۔ یہ رقم گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 100 ارب روپے زیادہ ہے۔ جون 2025 تک تنخواہ داروں سے ٹیکس وصولی 570 ارب تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔