1
کراچیمیںڈمپرز کی وجہ سے ہونے والے حادثات کی روک تھام کیلئے اہم فیصلہ،جس کے مطابق ٹریفک قوانین کے مؤثر نفاذ اور کسی بھی ممکنہ حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے ڈمپر گاڑیوں میں فرنٹ اور بیک کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ سے گڈز کیریئر ایسوسی ایشن کے صدر کی سربراہی میں وفد نے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور اس موقع پر انہوں نے وفد سے حادثات کی روک تھام، ٹریفک قوانین کے مؤثر نفاذ اور کسی بھی ممکنہ حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے ڈمپر گاڑیوں میں فرنٹ اور بیک کیمرے نصب کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ڈی آئی جی ٹریفک نے کہا کہ ڈمپر گاڑیوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر چلتی ہے اور ماضی میں پیش آنے والے حادثات کی تحقیقات میں مشکلات کا سامنا رہا ہے لہٰذا فرنٹ اور بیک کیمرے کی تنصیب سے نہ صرف ڈرائیورز کی نگرانی ممکن ہو سکے گی بلکہ حادثات کی صورت میں اصل وجوہات جاننے میں بھی مدد ملے گی۔ ڈمپرز میں نصب کیے جانے والے کیمروں کی ریکارڈنگ کم از کم 15 دن تک محفوظ رکھی جائے، نگرانی کے مقاصد کے لیے کراچی ٹریفک پولیس کو لائیو اور ریکارڈ شدہ فو ٹیج کے ساتھ ساتھ ٹریکر ڈیٹا تک رسائی دی جانی چاہیے۔
2
توشہ خانہ 2 کیس کی سماعت کل اڈیالہ جیل نہیں ہوگی۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے وکلا کو راولپنڈی اسپیشل عدالت کے عملے نے آگاہ کردیا ہے کہ توشہ خانہ ٹو اور 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کل اڈیالہ جیل میں نہیں ہوگی۔ 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت بھی اڈیالہ جیل نہیں ہوئی اورابھی آگاہ کیا گیا ہے کل توشہ خانہ 2 کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت نہیں ہو گی۔بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری
3
اپوزیشن گرینڈ الائنش کا کل ہر صورت قومی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان،اپوزیشن گرینڈ الائنس کے رہنما محمود خان اچکزئی ، شاہد خاقان عباسی ،عمر ایوب اور دیگر رہنماؤں نے اہم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا، پچھلے ایک ہفتے سے جگہ کے لئے کوشش کر رہے تھے، پہلی جگہ کینسل ہوئی پھر دوسری جگہ کیسل کی، کہا گیا کہ کرکٹ ٹیم نے گزرنا ہے، صحیح بات ہے کرکٹ کے لئے پورا ملک بند کرنا پڑتا ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ صرف آئین اور قانون کی حکمرانی پر بات ہوئی، یہ حکومت ایک کانفرنس سے گھبراتی ہے، یہ سڑک پر کانفرنس نہیں تھی، بند جگہ پر تھی اور حکومت اس سے بھی گھبرا گئی۔ ہوٹل انتظامیہ کو کچھ لوگوں نے آکر دھمکایا کہ کانفرنس کی صورت میں ہوٹل بند کردیا جائے گا جس پر ہم نے اُن سے تحریری طور پر لکھ کر دینے کی استدعا کی۔عمر ایوب نے کہا کہ یہ جو انسٹالڈ رجیم ہے، ان کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ کل اگر انہوں نے یہ حرکت کی تو میں بطور اپوزیشن لیڈر چیف جسٹس آف پاکستان کا دروازہ کھٹکٹاؤں گا۔
4
اسلام آباد میں دی ملینیم یونیورسل کالج میں ملینیم نیشنل موٹ کورٹ مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں شعبہ قانون کے طلبہ نے بطور وکیل اپنا کیس پیش کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت اور دیگر نے بطور جج فرائض سر انجام دیے۔ ملک کے قانونی نظام میں بہت خلا ہے اور زور دیا کہ وکلا کو عدالتوں میں مکمل تیاری کے ساتھ حاضر ہونا چاہیے ورنہ نتائج بھی ویسے ہی برآمد ہوں گے جو اس وقت دیکھنے میں آ ئیں گے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کابطور مہمان خصوصی طلبہ سے خطاب ،انہوں نے یونیورسٹیز پر زور دیا کہ وہ طلبہ کو سول پروسیجر کورٹ کے بارے میں تعلیم دیں کیونکہ پاکستان میں ہر قانون موجود ہے جو دنیا میں نہیں ہے لیکن قانون پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
5
مشتاق احمد کا مذاق اڑانے پر وسیم اکرم اور وقار یونس کو کروڑوں روپے ہرجانے کا نوٹس بھیجنے کا اعلان،مشتاق احمد نے کہا کہ وقار یونس اور وسیم اکرم میرے سابق کولیگ ہیں جن سے مجھے پیار ہیں مگر یہ دونوں میری کوچنگ کا مذاق اڑاتے ہیں تو اب میں وقار یونس کو 20 کروڑ اور وسیم اکرم کو 15 کروڑ روپے کا نوٹس بھیج رہا ہوں۔ اب سوشل میڈیا کا جدید زمانہ ہے اور قانون میں بہت زیادہ ماڈرنائز ہوگیا ہے۔ میرا وکیل دونوں کو جلد قانونی نوٹس بھیجے گا۔
6
حکومت کا زرعی ٹیوب ویل سمیت بجلی صارفین کیلیے ریلیف کا اعلان،وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے زرعی ٹیوب ویل اور 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماہانہ فیول کی مد میں ایڈجسٹمنٹ کی کمی کا فائدہ اب زرعی ٹیوب ویل اور 300یونٹ استعمال کرنے والے بجلی صارفین کو بھی ملے گا۔پاور ڈویژن کی جانب سے لکھے گئے خط کے مطابق جون 2015 سے 300یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو ماہانہ فیول ایڈجسمنٹ میں کمی کا فائدہ روک دیا گیا تھا اور دسمبر 2010سے زرعی ٹیوب ویل کو ماہانہ فیول ایڈجسمنٹ میں کمی ختم کردی گئی تھی۔
7
زرمبادلہ کی انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں کمی جبکہ اوپن مارکیٹ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آئی ایم ایف کے تیکنیکی مشن کے جائزے کے بعد پاکستان کو ایک ڈیڑھ ارب ڈالر کے کلائمیٹ فنانسنگ منظور ہونے، مارچ کے پہلے ہفتے میں دوسرے مشن کی آمد، مشن کے معیشت کا جائزہ لینے کے بعد قرض پروگرام کی دوسری قسط کی ممکنہ منظوری کے نتیجے میں آئندہ 3 سے 4ہفتوں کے دوران ایک سے ڈھائی ارب ڈالر کے انفلوز کی امیدوں سے بدھ کو ایک بار پھر روپے کی نسبت ڈالر تگڑا رہا۔ اس کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں محدود اضافہ ہوا۔ اس طرح انٹربینک اور اوپن مارکیٹ ایک دوسرے کی مخالف سمت پر گامزن رہیں۔


