1
ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان اسلام آباد پہنچ گئے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف نے ابوظبی کے ولی عہدشیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کوخوش آمدید کہا۔ ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان اپنے ایک روزہ دورہ پاکستان میں پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
معززمہمان کی صدر مملکت اور وزیراعظم سے ملاقاتیں شیڈول ہیں، معزز مہمان کو نشان پاکستان سے نوازا جائے گا۔ دورے کے دوران سرمایہ کاری،معاشی وتجارتی تعاون پرگفتگو،معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔ابوظبی کے ولی عہد دورے کے دوران پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، اس دوران تاریخی تعلقات کو مستحکم اور اقتصادی اور سرمایہ کاری تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
2
وزیراعلیٰ نے پنجاب میں 5 سالہ ٹرانسپورٹ پروگرام کی منظوری دے دی۔مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پٹرولیم کا اجلاس ہوا جس دوران پیٹرولیم مصنوعات کی ڈی ریگولیشن پالیسی اور ڈیلرز کے تحفظات کا معاملہ زیر غور آیا ارکان قائمہ کمیٹی نے کہا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کے اس پر تحفظات ہیں، ان کو بلایا جائے۔
وزارت کے حکام نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ تبدیل ہوں یا ہفتہ واراس پر بات چیت جاری ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ ہوئیں تو کچھ علاقوں کو نقصان ہوگا۔حکومت 12روپے فی لیٹر مارجن دیگر قیمتوں کو یکساں رکھتی ہے، ڈی ریگولیشن پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ چیئرمین اوگرا نے کہا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے ہڑتال کی اپیل غلط فہمی کا نتیجہ ہے، ڈیلرز کو خطرہ ہے،آئل کمپنیاں ان کو مارجن نہیں دیں گی ۔وزارت پٹرولیم حکام
3
صدر مملکت نے ابوظہبی کے ولی عہد کو نشان پاکستان سے نواز دیا۔اسلام آباد کے ایوان صدر میں ایک پروقار تقریب کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری نے ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کو نشان پاکستان سے نوازا۔اس تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف نے خصوصی شرکت کی جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی بھی موجود تھے۔تقریب میں وفاقی کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی شرکت کی۔یہ اعزاز پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گہرے تعلقات اور دوطرفہ تعاون کے فروغ کے اعتراف میں دیا گیا۔
4
وفاقی کابینہ میں توسیع، 13 وفاقی وزراء،11وزرائے مملکت اور 3 مشیر حلف اٹھائیں گے۔ وفاقی کابینہ کا حصہ بنے والے وزراءمیں حنیف عباسی،معین وٹو،مصطفیٰ کمال، سردار یوسف ، اورنگزیب کھچی ، رانا مبشر اقبال،رضا حیات ہراج، طارق فضل چوہدری ، شزہ فاطمہ ، جنید انوار چودھری، خالد حسین مگسی اورعمران احمدشاہ وفاقی شامل ہیں ۔وزرائے مملکت میں بیرسٹر عقیل،ملک رشید،ارمغان سبحانی، کھیئل داس، طلال چوہدری،عبدالرحمٰن کانجو ، بلال اظہرکیانی،ڈاکٹر مختار بھرتھ، شذرہ منصب،عون چودھری اور وجیہہ قمر وزیر مملکت کاحلف اٹھائیں گے۔
5
بیرسٹر گوہر کا ایک بار پھر 26 ویں آئینی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ،عام انتخابات میں تحریک انصاف کا مینڈیٹ چوری کیا گیا اور کراچی میں ہماری نشستیں پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم کو دی گئیں لیکن اُس کے باوجود ہم نے مذاکرات کی بات کی۔26 ویں ترمیم ایل ایف او اور پی سی او کے بعد سب سے زیادہ متنازعہ قانون سازی ہے، یہ ہر صورت واپس ہونی چاہیے، کیوں شب خون مارا جاتا ہے، کیا 26 ویں ترمیم کو روکنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔
ہمیں تعین کرنا ہوگا ہم نے تاریخ کی کس سمت کرنا کھڑا ہونا ہے، ہم کسی کے خلاف بغاوت کا عالم بلند نہیں کرتے ، ہم چاہتے ہیں پولیٹیکل چینج کی وجہ سے سسٹم بدلے۔پاکستان کی عدلیہ متنازع رہی ہے عدلیہ ازاد ہونا لازمی ہے، جن لوگوں کے ہاتھ میں اُسترا ہے کچھ کرنا ہوگا اُن کے ہاتھوں سے استرا لینا ہوگا ، سیاسی جماعتوں کو فیصلہ کرنا ہے ، ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملانا پڑے گا ، ہم ایک دوسرے کو زیر کریں گے تو سسٹم نہیں چل پائے گا۔اسلام آباد میں اپوزیشن کی قومی کانفرنس سے خطاب
6
رویت ہلال ریسرچ کونسل نے پہلا روزہ اتوار کے روز ہونے کا امکان ظاہرکردیا۔رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کل اوقاف ہال پشاور میں ہوگا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے۔رویت ہلال ریسرچ کونسل نے پہلا روزہ اتوار کے روز ہونے کا امکان ظاہر کردیا۔ ماہرین فلکیات کے مطابق جمعتہ المبارک 28 فروری کی شام ہلال کی رویت ممکن نہیں، جمعہ کو غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر14 گھنٹوں سے بھی کم ہوگی۔
رویت ہلال کیلئے چاند کی عمر19گھنٹوں سے زائد ہونی چاہیے۔ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ چاند کا سورج سے زاویائی فاصلہ کم از کم 10 ڈگری ہونا چاہیے جو کہ5 ڈگری ہوگا، غروب آفتاب اورغروب قمرکےدرمیان فرق کم از کم 40 منٹ ہونا چاہیے، کوئٹہ اور جیوانی میں فرق30 منٹ جبکہ دیگر تمام علاقوں میں 29 منٹ ہوگا، چاند کی رویت کھلی آنکھ سے درکنار، ٹیلی سکوپ سے بھی ممکن نہیں۔