1
پشاور ہائی کورٹ نے پولیس لائن دھماکے میں گرفتار پولیس اہلکاروں سمیت 6 ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرلیں۔پشاور ہائی کورٹ میں پولیس لائن دھماکے میں گرفتار پولیس اہلکاروں سمیت 6 ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، درخواستوں پر سماعت جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے کی، عدالت نے تمام 6 ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرلیں۔
وکیل درخواست گزارنے کہا کہ ملزم فضل خالق، ہلال اور عبد الرحمان پولیس اہلکار ہیں، ملزم عثمان واپڈا میں ہے، 2 دیگر ملزمان عنایت الرحمان اور عبد الصابر کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے، واقعے میں گرفتار مرکزی ملزم محمد ولی، فضل خالق کا بہنوئی ہے، درخواست گزار ملزمان کی مرکزی ملزم محمد ولی کے ساتھ تصویر آئی ہے۔ وکیل درخواست گزار مؤقف اپنایا کہ مرکزی ملزم کے ساتھ تصویر کی بنا پر ان کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے، صویر کے علاؤہ درخواست گزاروں کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہے۔
2
کرم میں حالات کشیدہ؛ عدالت میں ویڈیو لنک کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ،کرم میں کشیدہ حالات کے باعث دیوانی مقدمے کے ٹرانسفر سے متعلق درخواست پر سماعت پشاور ہائی کورٹ میں قائم مقام چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی ، جس میں عدالت نے کرم میں ویڈیو لنک کی سہولت فراہم کرنے کرنے کا فیصلہ کیا۔
قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ کرم صورتحال کے باعث عدالتوں میں گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے میں انجینئرنگ یونیورسٹی کے ملازم گواہ ہیں۔ حالات خراب ہیں، صدہ سیشن کورٹ میں گواہ کا بیان قلمبند نہیں ہورہا۔قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ویڈیو لنک کی سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کریں گے۔
3
کراچی میں عادی جرائم پیشہ افراد کے خلاف رینجرز اور پولیس کا مشترکہ آپریشن تیز کرنے کا فیصلہ،پاکستان رینجرز سندھ کے ہیڈکوارٹر میں ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد شمریز کی زیر صدارت سیکیورٹی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں کراچی شہر کے امن و امان کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران یومِ علیؓ، رمضان کے آخری عشرے، چاند رات اور عید الفطر کی مناسبت سے خصوصی سیکیورٹی لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کراچی میں موجودہ امن و امان کی صورتحال اور لاء انفورسمنٹ ایجنسیز کی جانب سے عادی جرائم پیشہ افراد کے خلاف رینجرز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن تیز کرنے اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کے عمل کو مزید سخت بنانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
4
مصطفی عامر قتل کیس میں مقتول کی والدہ نے اہم انکشافات کیے ہیں، انہوں نے گفتگو میں بتایا کہ ان کے بیٹے کی لاش ٹھکانے لگانے کا آئیڈیا کس کا تھا۔ مصطفیٰ عامر قتل کیس کی تحقیقات کے حوالے سے مقتول کی والدہ وجیہہ عامر نے گفتگو میں بتایا کہ تفتیش سے مطمئن ہوں، ملزم ارمضان ایک جملہ بولنے کے بعد گھنٹوں کے لیے سُن ہو جاتا ہے۔ ارمغان کو ہینڈل کرنا آسان نہیں، اس لیے پولیس اس کا بار بار ریمانڈ حاصل کررہی ہے۔
ملزم شیراز کے بیان کی کوئی حیثیت نہیں، اس نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے بیان دیا۔ مصطفیٰ کے کیس میں ارمغان کے حوالے سے پہلے دن سے مجھے ڈرایا جا رہا ہے۔ شیراز نے من گھڑت کہانی بناکر سنائی، وہ وعدہ معاف گواہ نہیں بنے گا۔وجیہہ عامر نے گفتگو میں کہا کہ مصطفیٰ، ارمغان کے گھر منشیات فروخت کرنے نہیں گیا تھا۔ ارمغان نے اپنے والد کو واقعے کا بتایا تو اس نے کہا کہ تم فرار ہو جاؤ۔ ارمغان کے والد کامران قریشی کو بھی تو شاملِ تفتیش کیا جائے۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے مصطفیٰ کا موبائل فون توڑکرپھینک دیا تھا۔
5
روس نے امریکا سے یمن پر حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ کردیاامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کو حوثیوں کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا۔روس کی وزارت خارجہ کے مطابق لاوروف نے اس کے جواب میں امریکا سمیت دیگر ممالک کو یمن میں طاقت کا استعمال "فوری طور پر” بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔15 مارچ کو امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے روس کے وزیر خارجہ کو حوثیوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے کے امریکی فیصلے سے آگاہ کیا تھا۔
6
حزب اللہ کے ہاتھوں شامی فوجیوں کا مبینہ قتل، شام کا جوابی حملہ،لبنانی عسکریت پسند گروپ نے مبینہ طور پر شام میں حمص کی مغربی سرحد کے قریب فوجیوں پر گھات لگا کر حملہ کیا جس کے بعد انہیں لبنان میں لے جاکر مارا گیا۔یہ دعویٰ شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی صنعا نے وزارت دفاع کے حوالے سے کیا ہے۔ شام کی وزارت دفاع نے حزب اللہ کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے اسے "خطرناک حد سے تجاوز” قرار دیا ہے۔وزارت نے اس حملے کے جواب میں تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔


