1
سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل نے بچوں کے اغوا سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ملک میں قوانین تو موجود ہیں مگر ان پر عمل نہیں ہوتا۔ملک بھر میں بچوں کے اغوا کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے کی، جس میں عدالت نے قومی کمیشن برائے تحفظ اطفال کے متعلقہ نمائندے کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن نے کہا کہ آئی جیز کے ساتھ اٹارنی جنرل کی ملاقات ہوئی تھی، جس پر وکیل نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے ادارے تو قائم ہیں لیکن کام نہیں ہو رہا۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ جس کا کام ہے اسی نے کرنا ہے۔ ہم ہر کام خود نہیں کر سکتے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے قوانین موجود ہیں۔ اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ قوانین تو موجود ہیں، لیکن عمل درآمد نہیں ہوتا۔بعد ازاں کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔
2
ہم سے جو استعفے کا مطالبہ کرتے ہیں سب سے پہلے تو ان کو اس بات کا جواب دینا چاہیے کہ جعفر ایکسپریس کا جو سانحہ ہوا اس کے ملزم بنی گالہ سے آج گرفتار ہو رہے ہیں۔ وہ لاتعلقی کا اعلان ضرور کریں گے، تحریک انصاف انیس ، بیس ہزار سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی لاتعلقی کا اعلان کرے گی، آپ چیلنجز کی بات کرتے ہیں سب سے پہلے تو اپنے گھر میں جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ان کو اپنی پوزیشن کلیئر کرنی چاہیے، باہر کے دشمن سے تو لڑنا بڑا آسان ہے، پالیسی بنانا کوئی مشکل کام نہیں۔ رہنما مسلم لیگ (ن) اختیار ولی خان کی نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو،
3
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کیلیے پالیسی کیا اختیار کی گئی ہے، ابھی تک تو پالیسی نہیں بنی ہے، ابھی تک تو صرف یہی بلیم گیم ہے کہ پی ٹی آئی ہے، اب شکر الحمدللہ یہ تو تسلیم کر لیاکہ اگر پی ٹی آئی چاہے تو ملک میں بہتری آ سکتی ہے۔ آپ نے8 فروری کو دیکھ لیا کہ عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے اب یہ عوام کے فیصلے کو کہہ رہے کہ یہ غلط ہے،اپنی نالائقی چھپانے کے لیے پی ٹی آئی کو ہر بندہ آ کر جی پی ٹی آئی ذمے دار ہے۔ رہنما تحریک انصاف شوکت یوسفزئی
4
رہنما تحریک انصاف نعیم حیدر پنجھوتا کا کہنا ہے کہ خان صاحب اس لیے ضروری ہیں کیونکہ خان صاحب وہ لیڈر ہیں جن کے پیچھے پورا پاکستان کھڑا ہے، جتنے بھی لوگ ہیں وہ تمام تر لوگ عمران خان صاحب کے اوپر اعتماد کرتے ہیں۔ عمران خان پارٹی کے سربراہ ہیں اگر ان 14 لوگوں کو بھی ووٹ ملا ہے تو وہ عمران خان کی وجہ سے ملا ہے، عمران خان پر لوگ اعتماد کرتے ہیں۔
5
سب سے پہلے تو یہ خوش آئند بات ہے کہ کوئٹہ میں اے پی سی کا اعلان کیا، اس کا ایک کہہ لیں کہ پارلیمنٹ کے اندر جو دیگر جماعتوں ریپریزنٹیشن ہے اسے کے ساتھ جو ہے یہ جو نیشنل سیکیورٹی کمیٹی ہے پارلیمنٹ کی اس کے اندر سب کی رائے آئے گی اور ایک اتفاق رائے کی طرف ہم بڑھنے جا رہے ہیں، یہ بڑی پازیٹو اور خوش آئند بات ہے کہ پولیٹیکل کنسینسس جس کی ضرورت ہے حکومت اس کو پرسو کر رہی ہے۔رہنما مسلم لیگ (ن) رانا احسان افضل
6
پاکستان نے جعفر ایکسپریس میں اپنی سرزمین کے استعمال پر افغانستان سے باضابطہ طور پر شدید احتجاج ریکارڈ کرا دیا، ذرائع کے مطابق افغان سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔دفتر خارجہ نے طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ ٹرین حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں پاکستان کی مدد کرے، یاد رہے 11 مارچ کو دہشت گردوں نے درہ بولان پر جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا اور اسے ہائی جیک کر کے400 سے زائد مسافروں کو30 گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا، ٹرین کوئٹہ سے پشاور جا رہی تھی۔
فضائیہ اور ایلیٹ آرمی کے کمانڈوز کی مدد سے پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے 350 سے زائد مسافروں کوبازیاب کرایا۔حکام کے مطابق آپریشن شروع ہونے سے قبل دہشت گردوں نے 26 مسافروں کو ہلاک کر دیا تھا، تمام 33 دہشت گردوں کو سیکیورٹی فورسز نے بے اثر کر دیا۔
7
آئینی بینچ 4 ماہ میں کسی اہم معاملے کا فیصلہ نہ کر سکا۔4 نومبر 2024 ء کو جوڈیشل کمیشن نے اکثریت سے 8 ججوں کو آئینی بینچ کیلیے نامزد کیا تھا۔توقع تھی جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بینچ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات کی قسمت کا فیصلہ کرے گا۔ تاہم بینچ نے انھیں 9 مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان کے مقدمات کے فیصلے کرنے کی مشروط اجازت دی۔
آئینی بینچ نے 46سماعتوں کے باوجود فوجی عدالتوں کے مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل نہیں کی۔ اس معاملے کی سماعت آئندہ ماہ دوبارہ شروع کی جائے گی۔وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا ہے انہیں اپنی تردید کے نتیجے میں کم از کم 8 سماعتوں کی ضرورت ہے۔
8
وزیراعظم شہباز شریف نے چینی کی قیمتوں میں کمی کیلیے شوگر ملز مالکان سے بات چیت کیلیے اسحق ڈار کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔کمیٹی کا پہلا اجلاس گزشتہ روز ہوا، حکومت نے شوگر ملز مالکان کو بتایا کہ چینی کی اوسط پیداواری قیمت 153 روپے کلو ہے اور انڈسٹری کو خود ہی قیمتیں کم کرنی چاہئیں۔چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کے بعد سے ملک میں چینی کی قیمت میں 19 فیصد اضافہ ہوا اور فی کلو گرام قیمت 180 روپے تک بڑھ گئی ہے۔کمیٹی پی ایس ایم اے کے ساتھ چینی کی ایکس مل قیمت میں کمی پر بات چیت کرے گی۔
کمیٹی کے ارکان میں وفاقی وزراء رانا تنویر، اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر توقیر شاہ، طارق باجوہ، پی ایس ایم اے کے چار نمائندے شامل ہیں.سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار سیکرٹریٹ سپورٹ فراہم کرینگے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت ہارون اختر خان کو کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا۔ کمیٹی کو تین دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنیکی ہدایت کی گئی ہے۔
9
وزیراعلیٰ کے پی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت کیلیے پہنچ گئے۔ذرائع کے مطابق سیاسی کمیٹی کی جانب سے علی امین گنڈاپور کو قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت کی اجازت دے دی گئی۔سیاسی کمیٹی کا موقف ہے کہ علی امین گنڈاپور صوبے کے چیف ایکزیکٹیو ہیں اس لیے ان کو شرکت کرنی چاہیے، علی امین گنڈاپور بطور وزیراعلیٰ کے پی اجلاس میں شرکت کریں۔
پی ٹی آئی نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت عمران خان سے ملاقات کرانے سے مشروط کی ہے۔ تمام ممبران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ پی ٹی آئی اس وقت تک سلامتی کمیٹی کی میٹنگ میں شرکت نہیں کرے گی جب تک پارٹی کے رہنماؤں کو بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دی جائے۔
10
قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے لیے مدعو کیے گئے رہنماؤں کی فہرست سامنے آگئی جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور گورنرز کو بھی دعوت دی گئی ہے۔اجلاس میں وزیراعظم میاں شہباز شریف سمیت 122 ارکان شریک ہوں گے، فہرست کے علاوہ کوئی بھی شخص غیر متعلقہ قرار دیا جائے گا۔قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بھی شریک ہوں گے۔
فہرست میں مولانا فضل الرحمٰن، عمر ایوب، مولانا غفور حیدری، صاحبزادہ حامد رضا، فاروق ایچ نائیک، سینیٹر راجا ناصر عباس، محمود اچکزئی، اختر مینگل، اسد قیصر اور زرتاج گل،ایمل ولی خان، خالد مقبول صدیقی، خالد مگسی، فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال شریک ہوں گے۔ آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کی سیاسی قیادت بھی قومی سلامتی اجلاس میں مدعو کی گئی ہے۔
11
پیپلزپارٹی کا پی ٹی آئی کے قومی سلامتی اجلاس میں عدم شرکت کے فیصلے پر اظہار مایوسی،نیئر حسین بخاری نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پھر قومی سلامتی کے معاملے پر سیاست کو ترجیح دی ہے، قومی سلامتی کے امور کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہئے۔قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی میں شرکت نہ کرنا طالبانائزیشن کی حمایت کے مترادف ہے۔ پی ٹی آئی کے پاس موقع تھا کہ وہ قومی اہمیت کے معاملے پر پارلیمنٹ میں یک زبان ہوتی۔ ہمیں اپنے ملک سے دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے مشترکہ قومی پالیسی اپنانا ہوگی۔
12
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ غیر آئینی وزیراعظم کی دعوت پر قومی سلامتی کے اجلاس میں کیسے جائیں؟۔ تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا تحریک انصاف کا کوئی نمائندہ اجلاس میں نہیں جائے گا، علی امین گنڈاپور بطور وزیراعلیٰ شریک ہوں گے۔پاکستان انتہائی نازک صورتحال سے گزر رہا ہے، دوران الیکشن رات کے وقت جیتی ہوئی پارٹی کو ہرایا گیا۔ یہ پارلمینٹ ان اداروں کی مدد سے بنی جنہوں نے دھاندلی کی، پاکستان کے سخت ترین حالات اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں پارلیمنٹ کا جوائنٹ سیشن رکھا جائے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پاکستان کے عوام اس حکومت پر اعتماد نہیں کرتے، عدلیہ میں ریفارمز کرکے اس کو بھی کمزور کردیا گیا، بانی پی ٹی آئی کو آن بورڈ لیے بغیر جو بھی فیصلہ کیا گیا وہ عوامی فیصلے نہیں ہونگے، عوام قبول نہیں کرے گی۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم نے اس میٹنگ میں شریک ہونے سے انکار کردیا ہے، گزشتہ روز سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں ہم نے فیصلہ کیا، ہماری طرف سے کوئی نمائندہ میٹنگ میں نہیں جائے گا ، علی امین گنڈا پور بطور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اس اجلاس میں شریک ہونگے۔صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ ہم نے اس کمرے میں بیٹھ کر ان کیمرہ اجلاس کا مطالبہ کیا تھا، بلوچستان کے جن علاقوں میں دہشت گردی ہورہی ہے ان علاقوں کے نمائندوں کو بلائے بغیر حل نہیں نکل سکتا، گزشتہ روز ہم نے اپنے نمائندوں کے نام دیے جو مشروط تھے، ہم نے سیاسی کمیٹی کا اجلاس بلایا جس میں ہم نے فیصلہ کیا کہ کمیٹی میں نہیں جائیں گے۔
عمر ایوب نے کہا کہ میں نے کل اسپیکر قومی اسمبلی کو مشروط خط لکھا ہے، ہمیں کورٹ آرڈر کے ساتھ بھی بانی پی ٹی آئی سے ملنے نہیں دیا جاتا ہے، کل ایک اچانک قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا، اچانک اجلاس بلایا گیا مگر ہمیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس
13
تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسگی کیس، لاہور ہائیکورٹ کی کمیٹی بنا کرتفتیش کی ہدایت،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسگی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے معاملہ چیف سیکرٹری پنجاب کو بھیجتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے چیف سیکرٹری پنجاب کو کمیٹی بنا کر تفتیش کرنے کی ہدایت کی۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ پولیس کے کہنے اور ڈاکومنٹس میں بہت فرق ہوتا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیس کی ایف آئی آر کون سی ہیں؟ کیا متاثرہ طالبہ کا بیان شامل کیا گیا۔وفاقی حکومت کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ جھوٹی ویڈیو اپ لوڈ کرنے والی خاتون سارہ خان سمیت 4 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ متعلقہ اداروں نے ایکشن لیا ہوتا تو ابہام پیدا نہ ہوتا۔ لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں خواتین غیرمحفوظ ہیں۔ جنسی ہراسگی اور تشدد کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ لاہور کے تعلیمی اداروں میں ہراسگی کے بڑھتے واقعات کی اعلی سطح انکوائری کروائی جائے۔
14
پی ٹی آئی ایم پی اے علی شاہ کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت کے دوران انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ اس وقت تمام ڈیپارٹمنٹ کسی اور طاقتوں کے ہاتھ میں ہیں۔کیس کی سماعت شروع ہوئی تو جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ ریکارڈ انہوں نے پیش نہیں کرنا ایسے ہی ہونا ہے نا؟پراسیکیوٹر نے بتایا کہ آئی او منڈی بہاالدین ہے واپس نہیں آیا، عدالت کو ان کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔
جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ آئی او اگر عدالت نہیں آتا تو کس کی ذمہ داری ہے؟ اسلام آباد کے پراسیکیوٹر بہت ضدی ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ججز کے برابر ہیں، اگر میں پولیس کو نوٹس کر سکتا ہوں کیا آپ کو نوٹس نہیں کر سکتا۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت کے پاس بہت پاور ہے اس کے باوجود پولیس ریکارڈ پیش نہیں کر رہی۔جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ ہم سب ایک غیر معمولی صورتحال سے گزر رہے ہیں، اس وقت تمام ڈیپارٹمنٹ کسی اور طاقتوں کے ہاتھ میں ہیں، کل صبح تک دیکھ لیتے ہیں ریکارڈ آجائے گا، آپ کو تنخواہ اس لیے ملتی ہے کہ آپ معاشرے میں انصاف کو یقینی بنائیں۔عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
15
غزہ میں رمضان المبارک کے دوران اسرائیلی فورسز نے جنگ بندی ختم کرتے ہوئے نہتے فلسطینیوں پر خوفناک بمباری کی، جس کے نتیجے میں 308 سے زائد شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق، اسرائیلی طیاروں نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا، جب لوگ گھروں، اسکولوں اور پناہ گزین کیمپوں میں سو رہے تھے۔ غزہ کے مختلف علاقوں جبالیہ، غزہ سٹی، نصیرات، دیر البلح اور خان یونس میں کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، جبکہ خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد شہید ہوگئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیل کی تازہ بمباری کے بعد غزہ میں شہادتوں کی مجموعی تعداد 48 ہزار 572 تک جا پہنچی، جبکہ سرکاری میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 61 ہزار 700 سے تجاوز کر چکی ہے، کیونکہ ہزاروں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔حماس نے اسرائیل کے اس حملے کو ’غدارانہ حملہ‘ قرار دیتے ہوئے عالمی سطح پر احتجاج کی اپیل کی اور عرب و اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کریں۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ یہ جنگ بندی کا خاتمہ ہے اور حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تمام یرغمالی آزاد نہیں ہوجاتے۔ دوسری جانب، اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر نے بھی کہا کہ اگر جنگ روکنی ہے تو تمام یرغمالیوں کی واپسی کو یقینی بنایا جائے۔
16
کراچی کورنگی کے علاقے چار نمبر میں پیر کو ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والا سیکورٹی گارڈ امیر احمد 24 گھنٹے سے زائد زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد دوران علاج چل بسا۔مقتول کے ورثا نے پولیس کارروائی کے بعد سرد خانے سے لاش وصول کی اور آبائی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان روانہ ہوگئے۔ غم سے نڈھال ورثا کا کہنا تھا کہ امیر احمد کے سر میں 2 گولیاں لگی تھیں جو جان لیوا ثابت ہوئیں۔مقتول کے کزن نے سرد خانے پر بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول امیر احمد اپنی بیوی اور 4 ماہ کی بچی کا واحد کفیل تھا، ایک ماہ قبل ہی سیکورٹی کمپنی میں ملازمت اختیار کی تھی۔


