1
دہشت گردی کی صورتحال پر غور کے لیے ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ملک کی سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں عسکری قیادت، پارلیمانی کمیٹی کو ملک کی موجوہ سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔
قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر سیاسی اور سیکیورٹی رہنما شریک ہوئے، عسکری قیادت کی جانب سے ملک کی سیکیورٹی کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں وزیراعظم، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم او، سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمٰن، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، وزیراعظم آزاد کشمیر، وزیر خزانہ، وزیراعلیٰ کے پی، گورنر پنجاب، وزیر دفاع اور دیگر شریک ہوئے۔
2
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو اجلاس میں نہ دیکھ کر مایوسی ہوئی۔قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اجلاس میں نہ دیکھ مایوسی ہوئی، پی ٹی آئی مجھ سے مشورہ کرتی تو انہیں شرکت کا مشورہ دیتا، 1988ء سے ملک سے وفاداری کا حلف اٹھا رہا ہوں۔ ملک ہے تو سب کچھ ہے، متعدد بار اپنی تقاریر میں کہہ چکا ہوں کہ یا تو میرا استاد شہید ہے یا اس کو مارنے والا مجاہد، دونوں باتیں ایک ساتھ درست نہیں ہوسکتیں مگر میں اپنے استاد کو شہید کہوں گا۔
3
اڈیالہ جیل راولپنڈی میں عمران خان سے ملاقات کے بعد ان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا کہ مینوئیل کے مطابق بشری بی بی اور بانی کو آدھا، آدھا گھنٹہ فیملیز اور پھر آپس میں ملاقات کرنی چاہیے، یہ مجموعی طور پر ڈیڑھ گھنٹہ کی ملاقات بنتی ہے لیکن کرائی 30 منٹ جاتی ہے، ہم نے احتجاجا آج ملاقات 45 منٹ تک کی۔عمران خان نے کہا کہ ملکی کی سالمیت، آزادی، قانون کی حکمرانی اور ظلم کے خلاف کھڑا ہوں، اگر یہ ان چیزوں کے لئے مجھے میں رکھیں گے تو میں تیار ہوں، اگر یہ سمجھتے ہیں انکے ان حربوں سے میں ٹوٹ جاؤں گا تو یہ انکے غلط فہمی ہے، یہ جو مرضی کرلیں میں اپنے اصول سے نہیں ہٹوں گا۔
افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے، آپ اسے دشمن بنانے کی کوشش نہ کریں، آپ کیوں بلاوجہ مسلمان بھائیوں سے لڑائی مول لے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے بتایا کہ انھیں اخبار نہیں مل رہا اور ٹی وی بھی بند ہے، وہ بے خبر تھے، ہم نے انھیں اے پی سی کے بارے میں بتایا،بولے اسی لئے میرا اخبار اور ٹی وی بند کیا گیا۔بانی پی ٹی آئی نے کہا میری اجازت بغیر پارٹی والے اس اے پی سی میں شرکت نہیں کر سکتے۔
4
سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا اور اس حوالے سے تحقیقات کے لیے قائم جے آئی ٹی میں پی ٹی آئی کا کوئی رکن پیش نہیں ہوا جب کہ 16 پی ٹی آئی ارکان کو آج طلب کیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی کہ 16 ارکان کو طلبی کے نوٹس جاری کر رکھے ہیں، طلب کیے گئے پی ٹی آئی ارکان میں سید فردوس شمیم نقوی، محمد خالد خورشید خان، میاں محمد اسلم اقبال، حماد اظہر شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ عون عباس، محمد شہباز شبیر ،وقاص اکرم اور تیمور سلیم خان بھی شامل ہیں، اس کے ساتھ صبغت اللہ ورک، اظہر مشوانی، محمد نعمان افضل، جبران الیاس، سلمان رضا، ذلفی بخاری، موسیٰ ورک اور علی ملک کو بھی طلبی کا نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
5
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گردی اہم قومی مسئلہ ہے جس میں اگرمگر کی گنجائش نہیں، دنیا کو بھی افغان حکومت کے کردار سے آگاہ کرنا ہو گا، اپنی خارجہ پالیسی کو مزید مؤثر بنانا ہو گا۔ افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے، جو آگ پاکستان میں لگی ہے، ہمارے اردگرد رہنے والے مت سمجھیں کہ ان تک نہیں پہنچے گی، دہشتگردوں کی مالی مدد کرنے والوں کا بھی پتہ لگانا ہو گا، افغانستان میں دہشتگردی کا معاملہ بھرپور انداز میں سفارتی سطح پر اٹھانا ہو گا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا قومی سلامی کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس سے خطاب
6
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ترکمانستان کے ساتھ تعلقات کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی تعاون کے فروغ سے ہی خطے میں ترقی ممکن ہے۔وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے پاکستان میں تعینات ترکمانستان کے سفیر عطاجان مولاموف نے ملاقات کی جہاں پاکستان ترکمانستان توانائی شراکت داری کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ترکمانستان کے سفیر نے وزیر علی پرویز ملک کو وفاقی وزیر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد پیش کی اور توانائی کے شعبے میں پائیدار ترقی کے لیے علی پرویز ملک کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا۔
7
افغان حکام کی طرف سے جرگہ فیصلہ پر عمل میں تاخیر، طورخم گزرگاہ نہ کھولی جا سکی۔پاکستانی جرگہ کے سربراہ سید جواد حسین کاظمی نے کہا ہے کہ گزشتہ روز پاکستان اور افغان جرگہ کے درمیان فیصلہ کن نشست کا انعقاد ہوا جس میں افغان فورسز کی متنازعہ تعمیرات بند کرنے اور طورخم تجارتی گزرگاہ ہر قسم آمد و رفت کیلیے کھولنے پر اتفاق کیا گیا۔
جرگہ سربراہ سید جواد حسین کاظمی نے کہا کہ وہ اب بھی افغان جرگہ کے رابطے کے انتظار میں ہیں۔ واضح رہے کہ 24 روز قبل افغان فورسز پاکستانی حدود میں تعمیرات کر رہی تھیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی اور پاک افغان سرحدی گزرگاہ ہر قسم آمدورفت کےلیے بند کردی گئی۔
8
قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا فیصلہ،اعلامیے کے مطابق اجلاس میں قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی نے دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کی واضح الفاظ میں مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ گہری یکجہتی کا اظہار کیا۔کمیٹی نے انسداد دہشت گردی آپریشنز کے انعقاد میں سیکیورٹی فورسز و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کو اس کی تمام شکلوں میں ختم کرنے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
9
اسلام آباد ہائیکورٹ؛ بانی پی ٹی آئی ملاقاتوں کے کیسز میں بڑی پیش رفت،اسلام آباد ہائی کورٹ میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں سے کیسز میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے جہاں سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔بانی پی ٹی آئی ملاقاتوں کے کیسز کی سماعت کے لیے تشکیل دیے گئے لارجر بینچ کے سربراہی قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کریں گے۔لارجر بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس اعظم خان بھی شامل ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کا لارجر بینچ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے 20 سے زائد کیسز کی سماعت کرے گا۔
10
وزیراعظم شہباز شریف کراچی کیلیے اربوں روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کریں گے۔وزیراعظم ترقیاتی پیکیج کا اعلان تفصیلی مشاورت کے بعد شیڈول کے مطابق اپنے دورہ کراچی میں کریں گے، اس ترقیاتی پیکیج کا حجم 10 ارب سے 50 ارب روپے تک یا اس سے زائد ہوسکتا ہے۔وفاقی حکومت کے اہم حکام نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی اہم اتحادی جماعت ایم کیوایم پاکستان کی قیادت اور گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے وزیر اعظم شہباز شریف کو گذشتہ ملاقاتوں میں کراچی کے مسائل پر تفصیلی آگاہ کیا تھا اور وزیراعظم سے شہر قائد کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج دینے پر زور دیا تھا۔
11
جعفر ایکسپریس حملہ اور قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے متعلق عمران خان کا بیان سامنے آگیااڈیالہ جیل راولپنڈی میں عمران خان سے ملاقات کے بعد پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج بانی سے وکلاء کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات جعفر ایکسپریس سانحہ کے بعد پہلی ہے۔
بانی پی ٹی آئی نے اس سانحہ پر افسوس کا اظہار اور مذمت کی ہے، دہشتگردی کی نئی لہر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، بانی نے کہا دہشتگردی کو ایک آواز سے دبانے کی ضرورت ہے، بانی نے پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی کے فیصلہ کی تائید کی ہے، بانی نے کہا پی ٹی آئی چاروں صوبوں کی جماعت ہے،ستر فیصد عوام کی پارٹی ہے۔بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ چھ ماہ میں صرف دو مرتبہ بیٹوں سے بات، پارٹی ممبران سے دو مرتبہ ملاقات نہیں کروائی۔


