اسلام آباد(محمداکرم عابد) پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس میں ڈاکوؤں سے ریکوری سے متعلق حیران کن کاروائی اس وقت دیکھنے کو ملی جب کمیٹی نے ریکوری کاطریقہ کارپوچھ لیا۔ارکان نے استفسار کیا کہ کچے کے ڈاکوتھے یا پکے کے یہ تو بتادو۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر خان کی زیر صدارت اجلاس میں وزارت خزانہ اور اقتصادی امور کے حسابات کی جانچ پڑتال کی گئی۔ سندھ بالخصوص سکھرریجن میں سرکاری رقوم ڈاکوؤں کی جانب سے چھیننے سے متعلق آڈٹ پیرازمتعلقہ رقوم کی عدم وصولی کے حوالے سے بنائے گئے ،
سید نویدقمرنے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکوؤں سے ریکوری کا آڈٹ والے طریقہ کاربھی بتادیتے۔ ریجنل ڈائریکٹوریٹ نیشنل سیونگز سینٹرز کراچی کو ڈکیتی اور غبن سے ہونے والے نقصان کی ریکوری نہ ہونے سے متعلق آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیاگیاتھا۔ڈاکوؤں سے ریکوری کے بارے میں کمیٹی ارکان کے دلچسپ ریمارکس سے ماحول خوشگوارہوگیا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ طریقہ بھی بتادیں ڈاکوؤں سے کس طرح رقم لیں گے؟ ریاض فتیانہ اورخواجہ شیرازنے کہا کہ کچے کے ڈاکو تھے یا پکے کے ڈاکو؟ ریاض فتیانہ کا استفساریہ بھی تھا کہ ڈکیتی اور کرپش بے قاعدگیوں کے الگ الگ آڈٹ پیرازہونے چاہییں۔
چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ جو ممکن ہو جتنی ریکوری ہو جائے اس کی آڈٹ کو تصدیق کرائی جائے،چیئرمین کمیٹی نے نیب اور ایف آئی سے پی اے سی کی جانب سے 5 سال میں بھجوائے گئے کیسز پر پیشرفت کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ہدایت کی گئی ہے کہ نیب اور ایف آئی اے والے بتائیں پانچ سال میں کمیٹی نے کتنے کیسز بھیجے اور ان کا اسٹیٹس کیا ہے؟
چیئرمین کمیٹی نے اقتصادی امور کی 58 ارب کی گرانٹ لیپس ہونے پر تشویش کا اظہارکیاہے۔اورکہا کہ ہر منسٹری میں تقریبا یہی حالات ہیں، چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ سرنڈر کرنے والے جو آپ سے زیادہ پیسہ مانگ رہے ہیں ان کو تو ذمہ دار ٹھہرائیں، صحیح جاب پر لوگ نہیں لگتے ، سفارشی لگتے ہیں،
اجلاس کے دوران پی اے سی کی مزید تین ذیلی کمیٹیوں کا اعلان کردیاگیاایک کمیٹی کے کنوینر طارق فضل چوہدری ہوں گے، ممبران میں ثناء اللہ خان مستی خیل ، رانا قاسم نون اور حنا ربانی کھر شامل جب کہ دوسری کمیٹی کے کنوینر سیدنوید قمر ہوں گے، ممبران میں، شبلی فراز ،شذرا منصب، اور معین عامر پیرزادہ شامل ہونگے۔تیسری کمیٹی کے کنوینر ملک عامر ڈوگر ہوں گے، ممبران میں شازیہ مری ، ریاض فتیانہ اور افنان اللہ خان شامل ہیں۔
فنانس ڈویژن سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ فنانس ڈویژن کی گرانٹ لیپس ہونے کا معاملہ بھی زیربحث آیا کمیٹی کو بتایا گیا کہ سپلیمنٹری گرانٹ ڈبل سے بھی زیادہ لی گئی ہے،
ارکان نے سوال اٹھایاکہ صوبوں کے بقایاجات پر آڈٹ پیرے بنتے ہیں یا نہیں ؟ کمیٹی نے سپلیمنٹری گرانٹ لئے جانے اور گرانٹ لیپس ہونے پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ایسے رولز ہوں کہ ایک فیصد سے زیادہ رقم سرینڈر یا لیپس ہو تو وہ سیکرٹری اپنی سیٹ سے ہٹادیا جائے۔
فنانس ڈویژن کی جانب سے منظور شدہ پالیسی کے بغیر ملازمین کو 24 کروڑ روپے اعزازیہ دینے سے متعلق آڈٹ اعتراض کا جائزہ بھی لیا گیا ،مالی سال 2022-23 کے دوران یہ اعزازیہ دیا گیا، رقم کیش کی صورت میں ادا کی گئی، آڈٹ حکام کے مطابق یہ اعزازیہ صرف فنانس کو نہیں ملتا، باقی وزارتیں بھی ہیں،
سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ پہلے ہی ایک پالیسی ہے، ہم نے ایک نئی پالیسی بنائی، ہم یہ دوبارہ کابینہ کے سامنے لے کے جارہے ہیں، سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ جن ملازمین کو یہ ملا ہے اس سے ٹیکس کی کٹوتی ہوئی ہے ۔
ارکان نے کہا کہ بجٹ بنانا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے، اعزازیہ کیوں دیا جارہا ہے؟کچھ محکموں کو اعزازیہ ملے کچھ کو نہ ملے، یہ آئین کی خلاف ورزی ہے، سیکرٹری نے کہا کہ پچاس سے ساٹھ محکموں کو ملتا ہےاس میں اسمبلی سینیٹ کا بھی اسٹاف ہوتا ہے.


