1
پاکستان نے دہشتگردی سے متعلق اقوام متحدہ کے بعض ماہرین کے بیان کو یکطرفہ اور غیر مصدقہ قرار دیدیا۔عوامی بیانات میں معروضیت، حقائق کی درستگی اور مکمل سیاق و سباق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، اقوام متحدہ کے بعض ماہرین کے تبصرے متوازن نہیں، دہشت گرد حملوں میں شہری ہلاکتوں کو کم کرکے پیش کیا گیا، شرپسند عناصر جان بوجھ کر عوامی خدمات میں خلل اور شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ شرپسند عناصر کے جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نظر انداز نہیں کی جا سکتیں، احتجاج کی آڑ میں دہشت گردوں کے ساتھ ملی بھگت ثابت ہو چکی ہے، ریاستی اقدامات کو روکنے کے لیے منظم رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، دہشت گردوں کی مدد کے لیے سڑکوں کی بندش اور دیگر تخریبی سرگرمیاں ناقابل قبول ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان
2
افغان باشندوں کیلئے 31 مارچ تک ملک چھوڑنےکی ڈیڈلائن میں توسیع نہ کرنےکا فیصلہ، وزارت داخلہ کے اجلاس میں افغان باشندوں کے لیے 31 مارچ تک ملک چھوڑنےکی ڈیڈلائن پر سختی سے عمل کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس حوالے سے راولپنڈی اور اسلام آباد میں غیرقانونی مقیم افغان باشندوں کو پہلے ہی نکالنے کی ہدایت کی جاچکی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے غیر قانونی طورپر مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا پلان واپس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔پاکستان کی31 مارچ تک کی ڈیڈلائن افغان شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کرےگی۔
3
سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کا کہنا ہے کہ پاکستانی ائیرلائنز کی برطانیہ میں بحالی کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ترجمان سی اے اے کا کہنا ہے کہ برطانوی محکمہ ٹرانسپورٹ اور یوکے سی اے اے نے حالیہ دورہ پاکستان میں سی اے اے اور ائیرلائنز کا سیفٹی آڈٹ کیا تھا، سول ایوی ایشن کو برطانوی حکام کے فیصلے اور جواب کا انتظار ہے۔برطانوی حکام نے تاحال سول ایوی ایشن اتھارٹی کو تحریری طور پر آگاہ نہیں کیا، اسی رپورٹ کی روشنی میں پاکستان سی اے اے اور ائیرلائنز کے برطانیہ کے آپریشن سے متعلق فیصلہ ہوگا۔


