1
رہنما پاکستان تحریک انصاف رؤف حسن کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے اور ایک سیاسی کردار ادا کر رہی ہے، کچھ نہیں ہو رہا سوائے اس کے کہ فوکس ہے ہمارا خان صاحب کی رہائی کے اوپر اور اسی سلسلے میں جو آپ نے اپنے ابتدایے میں بھی فرمایا ہے، ہم لوگ مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور عید کے بعد ان کو امپلیمنٹ کرنے کی کوشش کریں گے۔ پارٹی خان صاحب چلا رہے ہیں کوئی اور نہیں چلا رہا۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ خاص کر میں چاہوں گا کہ ہر پاکستانی یہ سمجھ جائے کہ اس وقت ہم ہائبرڈ وار کے سیریس وکٹم ہوئے ہیں، سیریس ایپلی کیشن ہے ہائبرڈ وار کی، ففتھ جنریشن وار کی، پراکسی کی اور اسٹیٹ سپانسرڈ ٹیررازم ، مکس ہے، یہ آ کائنڈ آف اے انسرجنسی کی ایک سچویشن کریئیٹ کی گئی ہے۔ دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل(ر) زاہد محمود
2
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے 138 ڈبل کیبن گاڑیوں کی خریداری کیخلاف درخواست مسترد کردی۔ ہائیکورٹ میں آئینی بینچ کے روبرو اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے 138 ڈبل کیبن گاڑیوں کی خریداری کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں ایڈووکیٹ جنرل جواد ڈیرو، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے درخواستگزار سے استفسار کیا کہ بتائیں آپ لوگ اس سے اسکیم سے کیسے متاثر ہوئے ہیں۔ عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے مؤقف دیا کہ درخواستگزار رکن سندھ اسمبلی ہے۔ درخواست گزار نے اسمبلی میں بھی مخالفت کی تھی، لیکن اس کے باوجود گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دی گئی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ لیکن یہ معاملہ اسمبلی میں کیسے گیا ہوگا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہاں درخواست پر تو کوئی بل یا ایکٹ نظر نہیں آرہا۔ وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار نے گاڑیوں کی خریداری کیخلاف قرار داد پیش کی تھی۔ بحیثیت شہری ڈبل کیبن گاڑیاں خریدی جائیں گی تو میں بھی متاثر ہوں گا۔
3
آئی سی سی ریونیو کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں.عالمی کرکٹرز ایسوسی ایشن نے بے ترتیب کرکٹ کو سلجھانے کا فارمولا پیش کر دیا، بھارتی بورڈ کا حصہ موجودہ تقریباً 40 سے کم کرکے 10 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے بے ترتیب کرکٹ کو سلجھانے کیلیے مکمل ریویو کے بعد سفارشات پیش کر دی گئی ہیں، اس کی تیاریوں میں 64 اسٹیک ہولڈرز سے فیڈ بیک حاصل کیا گیا جس میں دنیا کے معروف مرد اور خواتین پلیئرز، موجودہ کپتان، مختلف بورڈز اور ٹی 20 لیگز کے موجودہ ایڈمنسٹریٹرز بھی شامل ہیں.ڈبلیو سی اے کو توقع ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کیلیے الگ ونڈوز مختص کرنے اور باہمی سیریز میں زیادہ مسابقت سے اضافی 246 ملین ڈالر ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے، ایسوسی ایشن نے آئی سی سی ریونیو کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ تقسیم کی حد مقرر کرنے کی بھی تجویز دی ہے، جس کے تحت ٹاپ 24 ممالک کو کم سے کم 2 اور زیادہ سے زیادہ 10 فیصد ریونیو سے حصہ دیا جائے، اس صورت میں موجودہ فارمولے کے تحت آئی سی سی کی کمائی میں سے 38.5 فیصد حصہ حاصل کرنے والے بھارتی بورڈ کا شیئر 10 فیصد تک محدود ہوجائے گا۔
4
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے صحافی فرحان ملک کے مقدمے میں عدالتی احکامات نہ ماننے پر ڈائریکٹر ایف آئی اے کو 15 دن میں انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت کے روبرو صحافی فرحان کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جس میں فرحان ملک کے مقدمے میں عدالتی احکامات نہ ماننے پر ڈائریکٹر ایف آئی عدالت میں پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ یہ بتایا جائے کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کس نے کی۔ ملزم فرحان ملک کو جیل منتقل کرنے کے بجائے دوسرے مقدمے میں گرفتار کیوں کیا گیا۔ عدالت نے 15 دن میں انکوائری کرکے رپورٹ کرنے کا حکم دیدیا۔
5
نظربندی قانون کی معطلی کیخلاف درخواست پر لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، جس کے مطابق عدالت نے نظر بندی قانون کی معطلی کے خلاف درخواست پر لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔لارجر بینچ 7اپریل کو نظر بندی قانون کے سیکشن کے خلاف درخواست پر سماعت کرے گا۔
6
وفاقی حکومت کا بجلی صارفین کو مزید ریلیف دینے کیلیے نیپرا سے رجوع،نیپرا میں سبسڈی سے متعلق سماعت 4 اپریل کو ہوگی، اپریل سے جون تک 3 ماہ کے لیے سبسڈی میں اضافہ کیا جائے گا۔ڈسکوز اور کے الیکٹرک صارفین کو 1 روپے 71 پیسے فی یونٹ ریلیف ملے گا اور لائف لائن صارفین کے علاوہ تمام صارفین کو سبسڈی دی جائے گی۔گزشتہ روز، آئی ایم ایف نے بجلی ٹیرف میں ایک روپے فی یونٹ کمی کی اجازت دی تھی، یہ ریلیف کیپٹیو پاور پلانٹس پر لیوی سے حاصل ریونیو سے دیا جائے گا، کیپٹیو پاور پلانٹس کی جانب سے گیس کے استعمال پر لیوی عائد کی گئی ہے۔حکومت کی جانب سے بجلی صارفین کے لیے ریلیف پیکیج پر کام بھی جاری ہے۔ آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے گا۔
7
پنجاب ہتک عزت ایکٹ آزادیٔ اظہار و صحافت کیلیے خطرہ قرار،ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی قانون سازی واچ سیل کی تازہ رپورٹ میں پنجاب ہتک عزت ایکٹ 2024 پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزادیٔ اظہار اور صحافت کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ قانون اگرچہ جھوٹی معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہے، لیکن اس میں اختلاف رائے کو دبانے کے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔ہیومن رائٹس کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ اس قانون میں عوامی شخصیات اور ریاستی اداروں کو بے جا تحفظ فراہم کیا گیا ہے، جس سے جائز تنقید کو بھی ہتک عزت قرار دے کر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں سخت سزاؤں اور غیر ضروری مقدمات کے باعث اختلافی آوازوں کو خاموش کرانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جب کہ عدالتی نظام پر بھی بوجھ بڑھنے کا اندیشہ ہے۔


