اسلام آباد(ای پی آئی) وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت (فوسپا) نے 2011میں اپنے قیام سے سال 2024کے اختتام تک 14برس میں 3725 مقدمات کافیصلہ کیاہے جبکہ گذشت ایک سال کے دوران 673مقدمات نمٹائے گئے ہیں.
آج جاری اعلامیہ کے مطابق وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپا)، فوزیہ وقار نے آج ایوانِ صدر میں صدرِ پاکستان کو 2024 کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔
اس رپورٹ میں کام کی جگہوں پر محفوظ ماحول کے قیام، خواتین کے جائیداد کے حقوق کے تحفظ، اور پاکستان میں صنفی مساوات کے فروغ میں فوسپا کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔
ملاقات کے دوران فوزیہ وقار نے کام کی جگہوں پر ہراسیت کے خاتمے اور خواتین کے جائیداد کے حقوق کے تحفظ کے لیے FOSPAH جیسے خصوصی اداروں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے 2011 میں ادارے کے قیام سے لے کر اب تک نمٹائے گئے کیسز اور گزشتہ سال کی اہم کامیابیوں کی تفصیلات پیش کیں۔
– کل موصول شدہ کیسز (2011-2024): 3,866 کیسز موصول ہوئے، جن میں سے 3,725 حل کر دیے گئے، جبکہ 141 کیسز زیر التوا ہیں۔
– 2023-2024 کے کیسز: 823 کیسز موصول ہوئے (655 ہراسیت، 168 جائیداد کے حقوق سے متعلق)، جن میں سے 673 نمٹا دیے گئے اور 150 زیر التوا ہیں۔
– کیسز کے حل کی کارکردگی: 2023-2024 کے دوران، کام کی جگہوں پر ہراسیت کی 81% اور خواتین کے جائیداد کے حقوق سے متعلق 82% شکایات حل کی گئیں، جو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے FOSPAH کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔
فوزیہ وقار نے کام کی جگہوں پر محفوظ اور باوقار ماحول کے فروغ، صنفی مساوات کے دفاع، اور خواتین کے جائیداد کے حقوق کے تحفظ کے لیے FOSPAH کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ بطور اپیلیٹ اتھارٹی، صدرِ پاکستان نے FOSPAH کی کاوشوں کو سراہا اور ہراسیت سے تحفظ اور تمام شہریوں کے لیے انصاف تک بہتر رسائی کے اقدامات کی حمایت کے عزم کا اظہار کیا۔


