1
لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب پر عائد22 لاکھ روپے کا جرمانہ برقرار،سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو جرمانے اور 9 مئی سے متعلق کیسز کی سماعت کی۔عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو کیا گیا 22 لاکھ روپے کا جرمانہ برقرار ہے جب کہ سپریم کورٹ نے 9 مئی سے متعلق کیس میں اے ٹی سی راولپنڈی جج سےمقدمات منتقلی کی اپیلیں نمٹادیں۔دوران سماعت پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ ٹرائل عدالت نے ضمانت کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں کیا، اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا ضمانت کےفیصلوں میں بعض عدالتی فا ئنڈنگز درست نہیں اگر کوئی ملزم ضمانت کا غلط استعمال کرے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا، آپ سوچ لیں ہم 3 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا آرڈر کر دیتے ہیں۔
2
نیوزی لینڈ کیخلاف تیسرے ون ڈے میں بھی پاکستانی ٹیم کو جرمانہ،پاکستان کو نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے دو ون ڈے میچز میں بھی جرمانہ ہوا تھا، پاکستان ٹیم نے جرمانوں سے بھی سبق نہ سیکھا اور تیسرے میچ میں جرمانہ کروا بیٹھے۔پاکستان ٹیم مقررہ وقت میں ایک اوور پیچھے رہی جس کے باعث آئی سی سی کی جانب سے سلو اوور ریٹ پر پاکستانی ٹیم پر میچ فیس کا 5 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا۔کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم محمد رضوان نے اپنی غلطی تسلیم کر لی۔