1
این ایف سی ایوارڈ کا معاملہ، سینیٹ کمیٹی کا چاروں صوبائی وزراء کو بلانے کا فیصلہ,ذرائع کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس آئندہ ہفتہ بلائے جانے کا امکان ہے۔ مرکزی حکومت صوبوں کو منتقل ہونے والے محکموں کو فنڈز فراہم نہیں کرنا چاہتی، کے پی حکومت کا دعویٰ ہے فاٹا اضلاع کے انضمام کے بعد صوبے کی آبادی بڑھ چکی ہے۔خیبر پختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ آبادی بڑھنے کے باعث این ایف سی ایوارڈ میں حصہ بڑھنا چاہیے، ہر پانچ سال بعد قومی مالیاتی کمیشن کے تحت وسائل کی تقسیم آئینی تقاضا ہے۔
2
پنجاب اور سندھ کے مختلف اضلاع میں گندم کٹائی کا عمل شروع ہوگیا۔سندھ میں سرکاری سطح پر خریداری اور ریٹ مقرر نہ ہونے پر کاشتکار پریشان ہیں جبکہ پنجاب کا کسان قیمت کم ملنےپرپریشان ہے۔ زراعت بہتر ہوگی تو معیشت بہتر ہوگی۔مرکزی صدر کسان اتحاد خالد کھوکھر کی میڈیا سے گفتگو
3
وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہےکہ عدالتی فیصلے کے بعد ہمیں کسی کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے روکنے کی ضرورت نہیں ہے، بہت سارے لوگوں سے وہ خود نہیں ملنا چاہتے۔ پی ٹی آئی میں ہر ایک کی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے، اِن سے بنی بنائی جماعت بھی نہیں سنبھل رہی۔عدالتی فیصلے کے بعد ہمیں کسی کو بانی پی ٹی آئی سے روکنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ بہت سارے لوگوں سے وہ خود نہیں ملنا چاہتے، بشریٰ بی بی جس سے چاہتی ہیں بانی پی ٹی آئی اس سے ملتے ہیں۔جیو نیوز کے پروگرام ‘آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ’ میں گفتگو
4
عمران خان نے حکومت کیساتھ مذاکرات کو مسترد کر دیا، اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کیلئے تیار,منگل کو اڈیالہ جیل میں پارٹی رہنماؤں اور وکلاء کے ساتھ بات چیت میں عمران خان نے اس بات پر زور دیا کہ رابطے کی یہ کوشش ان کے قانونی مقدمات سے متعلق نہیں بلکہ یہ صرف اور صرف پاکستان کی خاطر تھیں۔باخبر ذرائع کے مطابق عمران خان نے ملاقات کیلئے آنے والوں کو بتایا کہ انہوں نے کبھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کا دروازہ بند نہیں کیا تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی نے موجودہ حکومت کے ساتھ بات چیت ختم کر دی ہے کیونکہ اس کے پاس اصل اختیارات نہیں۔پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین سے ملاقات کرنے والوں میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی، سینیٹر علی ظفر اور وکلاء ظہیر عباس، مبشر اعوان اور علی عمران شامل تھے۔ ملاقات کے دوران سینیٹر علی ظفر نے اعظم سواتی کے حالیہ ویڈیو بیان پر عمران خان سے جواب طلب کیا۔ ویڈیو میں اعظم سواتی نے انکشاف کیا تھا کہ عمران خان نے انہیں بات چیت کی نوعیت خفیہ رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اعظم سواتی نے مزید کہا تھا کہ اگرچہ عمران خان عوامی سطح پر عسکری قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں لیکن پس پردہ مذاکرات کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔
5
فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ غزہ میں جنگ ہمیشہ نہیں چل سکتی، اس لیے جنگ بندی بہت ضروری ہے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے حماس کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے کہا کہ یہ جنگ ہمیشہ نہیں چل سکتی، اس لیے جنگ بندی تک پہنچنا ضروری ہے۔ثالثوں سے رابطہ اب بھی جاری ہے لیکن تاحال کوئی نئی تجاویز سامنے نہیں آئیں۔حماس ایسے تمام اقدامات کے لیے تیار ہے جو جنگ بندی اور فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کو روکنے کا سبب بنیں۔
6
اسرائیلی فوج کے غزہ پر حملے جاری ہیں، تازہ کارروائی میں مزید 60 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں کم از کم 60 فلسطینی شہید اور 213 زخمی ہوئے۔وزارت صحت نے بتایا کہ صحافی احمد منصور، جو پیر کو جنوبی غزہ کے خان یونس میں ناصر اسپتال کے قریب میڈیا ٹینٹ پر اسرائیلی حملے میں شدید جھلس گئے تھے، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ بھی شہید ہو گئے۔17 ماہ سے جاری اسرائیلی جنگ میں 211 فلسطینی صحافی شہید ہوگئے۔
7
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف 10 اپریل کو اسلام آباد میں کنونشن اور 13 اپریل کو کراچی میں احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ اسلامی دنیا کے حکمران، امریکا اور مغرب کے سامنے جھک رہے ہیں،امت مسلمہ اپنے حکمرانوں پر سیاسی دباؤ بڑھائے۔غزہ کے مسلمانوں پر جو بیت رہی ہے یا بیت چکی تاریخ کے صفحات پر سیاہ دھبوں کے سوا کچھ نہیں، اسرائیل نے امن معاہدہ توڑ کر غزہ پر شب خون مارا ہے۔ غزہ میں شیر خوار بچے زندگی اور موت کی کشمکش میں تڑپ رہے ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جنگی مجرم ہے،اسے عالمی عدالت انصاف نے گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔