1
سابق وزیراعظم نواز شریف کی بلآخر طویل عرصے بعد سیاسی میدان میں واپسی ہوگئی۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے عوامی رابطے کے لیے ملک گیر جلسے جلوسوں کا پروگرام بنالیا جس کا آغاز پنجاب سے ہوگا۔سابق وزیر اعظم بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے لیے بھی کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک نے نواز شریف کے ساتھ لاہور میں بیٹھک لگائی جس میں انہوں نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے نواز شریف سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔نواز شریف نے اپنا سیاسی اور جمہوری کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
2
پولیس کو گاڑیاں جلانے والے افراد کو گرفتارکرنےکے احکامات دیے ہیں۔صوبائی وزیر داخلہ نے ڈمپر حادثات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ حادثات میں ملوث ڈرائیوروں کو گرفتار کرنےکے واضح احکامات ہیں تاہم کسی کو بھی ڈمپرز یا ہیوی گاڑیوں کو جلانےکی اجازت نہیں۔ جوبھی شہرکا امن خراب اور دہشت پھیلانے میں ملوث ہے اسے گرفتار کیا جائے گا، پولیس کو گاڑیاں جلانے والے افراد کو گرفتارکرنےکے احکامات دیےہیں۔گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے رات گئے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور کہا کہ ہیوی ٹریفک سے اموات پر شہریوں کا غصہ برحق ہے مگرقانون شکنی نہ ہو۔ قانون کی بالادستی یقینی بنائیں، اشتعال انگیزی سےگریزکریں، سڑکوں پر اسی لیے نکلا تاکہ لوگوں میں تحفظ کا احساس رہے۔
3
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کا کہنا ہے پاکستان تحریک انصاف میں کلچر بن چکا ہے کہ کسی کو گندا کرنا ہو تو اس پر اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہونے کا الزام لگا دو۔ چند لوگوں نے بانی پی ٹی آئی کو حصار میں لیا ہوا ہے، جو لوگ پہلے میرے اور علی امین گنڈاپور کے خلاف ہوئے وہی اب بیرسٹر گوہر کے خلاف بول رہے ہیں۔سلمان اکرم راجا نے بیرسٹر گوہر کو ساتھ بٹھا کر ان کی تضحیک کی، کبھی ایسا فیصلہ نہیں ہوا کہ بہنیں نہیں جائیں گی تو ملاقات کا بائیکاٹ ہو گا، پہلے بہنیں نہیں گئیں تو سلمان اکرم راجا خود بھی ملاقات کے لیے چلے گئے تھے۔جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں بات چیت
4
پارٹی رہنماؤں کے ایک دوسرے پر الزامات، عمران خان نے وارننگ دیدی.ذرائع کے مطابق پارٹی میں بڑھتی ہوئی اندرونی چپقلش نے ایک اصلاحاتی قانون کو ذاتی مفادات کی جنگ میں تبدیل کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے رہنماؤں اور ورکروں کے درمیان ایک جنگ چھڑ گئی ہے۔تحریک انصاف کے چند یوٹیوبرز نے اس بل کو پارٹی کے نظریے کیخلاف قرار دیتے ہوئے اسے “غیر منتخب قوتوں کے حوالے کرنے” کا الزام لگایا جبکہ بعض ناراض رہنماؤں نے کہا کہ اس کے ذریعے مقامی نمائندوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق بیرون ملک تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور یوٹیوبرز نے بل پر ہنگامہ برپا کردیا اور بل کو اسٹیبلشمنٹ اورامریکا سے نتھی کردیا ۔


