1
لاہور ہائی کورٹ نے قصور میں لڑکے لڑکیوں کی گرفتاری کے بعد ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے کیس میں ریمارکس دیے کہ پولیس کو یہ اختیار کس نے دیا کہ لوگوں کو گنجا کر کے ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کریں۔قصور میں لڑکے اور لڑکیوں کی گرفتاری کے بعد ویڈیو وائرل کرنے سے متعلق کیس میں توہین عدالت کی درخواست پر سماعت لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے کی۔عدالتی حکم پر ڈی پی او قصور عدالت میں پیش ہوئے، جس دوران جسٹس علی ضیا باجوہ نے استفسار کیا لوگوں کو گنجا کر رہے ہیں اور ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر ڈال رہے ہیں؟ پولیس کو یہ اختیار کس قانون نے دیا ہے؟ کیسے کسی بندے کو پکڑ کر گنجا کرکے ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر ڈال دیتے ہیں؟جسٹس علی ضیا باجوہ نے پوچھا اس ملک میں کوئی قانون رہ گیا ہے یا نہیں؟ ویڈیو میں بھارتی فلم کا کلپ مکس کرکے پولیس کے آفیشل سوشل میڈیا پیج پر اپلوڈ کیا گیا۔عدالت نے ڈی آئی جی کو کل پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی واقعے کی رپورٹ پیش کریں۔عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بھی پیش ہوں گے، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بتائیں گے دنیا میں کسی زیر حراست ملزم کو ایکسپوز کرنے کا قانون موجود ہے؟لاہور ہائی کورٹ نے قصور پولیس کے تفتیشی افسر صادق، کانسٹیبل اور ایس ایچ او کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر کیوں نہ پولیس والوں کو 6 ماہ کیلئے جیل بھیج دیا جائے۔
2
پرائیویٹ اسکیم کے 67 ہزار عازمین حج کی سعادت سے محروم ہوجائیں گے .10ہزار کا کوٹہ ملنے کے بعد نجی اسکیم کے عازمین حج کی تعداد 24 ہزار ہوگئی اور مزید 67 ہزار کی بکنگ کی جاچکی ہے جب کہ حج آرگنائزرز نے 70کروڑ ریال سعودی عرب بھجوادیے۔ حج کوٹہ کے لیے وزیراعظم سے مداخلت کی اپیل بھی کردی گئی ہے اور پاکستان کا کل حج کوٹہ 179210 ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ کو فون کیا جس کے نتیجے میں سعودی حکومت نے مزید 10 ہزار عازمین کو اجازت دے دی۔
3
ریفائنریوں کوپیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف سے حصہ دیے جانےکا امکان, حکومت 16 اپریل سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریفائنریوں کو بھی ریلیف کا کچھ حصہ فراہم کرے گی۔آئل ریفائنریز کو یہ ریلیف پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس استثنیٰ، نونٹری نقصانات اور سکڑتے مارجنز پر ہوگا۔ ریفائنریوں نے رواں مالی سال کے اول 9 ماہ میں 13 ارب روپے کے نقصانات برداشت کیے ہیں، درست اقدامات نہ کئے جانے کی صورت یہ نقصانات بڑھ کر 18 ارب روپے ہوسکتے ہیں۔
4
عمران خان سے جیل میں امریکی پاکستانی شخص کی ملاقات کا انکشاف, یہ مذاکرات عمران خان کی رہائی اور پی ٹی آئی اور طاقتور حکام کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے ممکنہ طریقے تلاش کرنے کے بارے میں ہیں۔ انتہائی موقر ذرائع نے اس نمائندے کو بتایا ہے کہ امریکی پاکستانیوں کے ایک گروپ کے گزشتہ ماہ (مارچ) کے تیسرے ہفتے میں عمران خان کے ساتھ مذاکرات سے بہت پہلے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور ایک ایسے شخص کے درمیان بات چیت کے کئی سیشنز منعقد ہوئے تھے، یہ شخص اب حالیہ مذاکرات اور بات چیت کا حصہ ہے۔ عمران خان اور طاقتور پاکستانی انتظامیہ کے درمیان تعطل کو ختم کرنے کیلئے جو کوششیں ہو رہی ہیں اُن میں فوُڈ اور ریئل اسٹیٹ کی امریکی پاکستانی شخصیت تنویر احمد، تحریک انصاف امریکا چیپٹر کے سینئر رہنما عاطف خان، سردار عبدالسمیع، ڈاکٹر عثمان ملک، ڈاکٹر سائرہ بلال اور ڈاکٹر محمد منیر شامل ہیں۔جیل میں عمران خان سے ملاقات کرنے والے امریکی پاکستانی افراد دو دہائیوں سے عمران خان کے ذاتی دوست اور انہیں عطیات دیتے رہے ہیں، جب عمران خان وزیراعظم تھے تب بھی ملاقات کیلئے آتے رہتے تھے اور امریکا سے پاکستان آنے والے وفد کو جوڑنے میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔
5
بجٹ میں بیکری اور کنفیکشنری آئٹمز پر 20فیصد ہیلتھ ٹیکس کی تجویز,وزارت صحت نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ 2025-26 کے آئندہ بجٹ میں سینکڑوں تیار شدہ اور انتہائی تیار شدہ خوراک اور مشروبات، جنہیں عام طور پر بیکری اور کنفیکشنری آئٹمز کہا جاتا ہے، پر 20 فیصد ہیلتھ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ بعض اشیاء پر، جہاں پہلے سے 20 فیصد کی شرح سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ ہے، آئندہ بجٹ میں اسے بڑھا کر 40 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ غیر صحت بخش مصنوعات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے آئندہ چند سالوں میں، یعنی 2028-29 تک، اس ٹیکس کی شرح کو بڑھا کر 50 فیصد تک کر دیا جائے۔
6
پاکستان سولر پینلز درآمد کرنیوالا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیابرطانوی توانائی تھنک ٹینک "ایمبر” کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان نے تمام ممالک سے زیادہ سولر پینلز درآمد کیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے صرف 2024 میں 17 گیگا واٹ کے سولر پینلز درآمد کیے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سولر درآمدات اِس لیے حیران کن ہیں کہ یہ کسی عالمی سرمایہ کاری ، قومی پروگرام یا بڑے پیمانے پر منظم منصوبے کے تحت نہیں ہوا بلکہ صارفین کی ذاتی کوششوں سے ممکن ہوا ۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ سولرز پینل کی زیادہ تر مانگ گھریلو صارفین، چھوٹے کاروباراور تجارتی اداروں کی طرف ہے جو مہنگی اور غیر یقینی سرکاری بجلی کے مقابلے میں سستی اور قابلِ اعتماد توانائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔