1
حکومت کا طالبات کےلیے مفت ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کا اعلان,پی آئی یو نے 10 اضلاع کے ایجوکیشن افسران کو مراسلہ ارسال کردیا، ابتدائی مرحلے میں ٹرانسپورٹ کی سہولت10پسماندہ اضلاع کی طالبات کودی جائے گی۔اپر و لوئر کوہستان، کولئی پالس، تورغر، لکی مروت، ڈی آئی خان، ہنگو، کوہاٹ، بنوں اور چارسدہ شامل ہیں۔ فیصلے کا اطلاق آئندہ تعلیمی سال کےآغاز سے ہوگا۔
2
ملتان میں ٹریڈنگ اور سرمایہ کاری کے نام پر جعلسازوں نے شہریوں سے اربوں روپے لوٹ لیئے منافع کا لالچ دے کر ڈجیٹل فراڈ سے شہری جمع پونجی سے محروم ہو گئے ہیں۔ شارٹ کٹ سے جلدی امیر ہونے کا خواب شہری زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو گئے ہیں۔خبر دار ہوشیار کسی لالچ یا جھانسے میں نا آئیں۔ منافع اور انویسٹمنٹ کا جھانسہ دے کر جعل ساز شہریوں سے اربوں روپے لوٹ کر فرار ہو گئے۔ ڈجیٹل فراڈ کا شکار متاثرین پھٹ پڑے۔متاثرین کا کہنا ہے کہ رمضان شریف میں عید پروموشن نکالی تھی کہ اپ 100 ڈالر ڈالیں 200 ملے گا ڈبل ہو کر ملے گا، ہم نے 2 ہزار، 3 ہزار ڈالر انویسٹ کیا۔ اس کے بعد ودڈرا آنا بند ہو گیا ہم دیکھتے رہے لیکن ایپ بند ہو گئی ہمارا لاکھوں کروڑوں کا نقصان ہو گیا۔متاثرین کا کہنا ہے کہ شروع میں ہمیں بونس وغیرہ ملا ہے اچھی ارننگ دی ہے ، جب ہم انکے اعتماد میں آ گئے تو ہم نے زیادہ انوسٹمنٹ کی ہے کمپنی بھاگ گئی۔
3
اپنی چھت اپنا گھرپروگرام کے تحت مزید قرضوں کے اجراء کی منظوری دیدی گئی.اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت مختصر مدت میں ایک ہزار 562 گھروں کی تکمیل کا منفرد ریکارڈ قائم ہوگیا۔ 9 کروڑ 24 لاکھ روپے کے قرضوں کی وصولی کر لی گئی جبکہ 31 ہزار 797 سے زائد گھر تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہوگئے۔ساڑھے 25 ہزار سے زائد گھرانوں کو 26 ارب 97 کروڑ سے زائد کے قرضے جاری کیئے گئے۔ ساڑھے 11 ہزار گھرانوں کو گھر کی تعمیر کے لئے دوسری قسط جاری کردی گئی۔ اپنی چھت،پروگرام کے تحت ایک ہزار ایک سو چھ مزید قرضوں کے اجراء کے لئے منظوری بھی دے دی گئی ۔ پروگرام کے تحت شہری علاقوں میں ایک سے پانچ جبکہ دیہات میں ایک سے 10 مرلے تک پلاٹ مالکان کو قرضے مل رہے ہیں۔
4
سیلریڈ کلاس کےلیے ٹیکس سلیب پر نظر ثانی، استثنیٰ کی حد میں اضافے کا مطالبہ,سیلریڈ کلاس الائنس نے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کو خط لکھ کر ٹیکس سلیبز پر نظرثانی، ٹیکس سے مستثنیٰ آمدن کی حد بڑھانے، اہم کٹوتیوں کی بحالی اور غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے پر زور دیا ہے۔خط میں نشاندہی کی گئی کہ 2019 میں تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس وصولی 76 ارب روپے تھی جو 2025 میں بڑھ کر 570 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ تنخواہیں جمود کا شکار اور مہنگائی تاریخی سطح پر ہونے کے باعث تنخواہ دار طبقے کی مالی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔