1
وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 5 ججز سمیت تمام درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کر دی۔ججز سنیارٹی کیس میں وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروا دیا۔وفاقی حکومت نے جواب میں لکھا ہے کہ ججز کا تبادلہ آئین کے مطابق کیا گیا ہے، ججز کو تبادلے کے بعد نیا حلف لینا ضروری نہیں۔ آرٹیکل 200 کے تحت تبادلے کا مطلب نئی تعیناتی نہیں ہوتا، ججز کا تبادلہ عارضی ہونے کی دلیل قابل قبول نہیں۔جمع کروائے گئے جواب میں لکھا ہے کہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ ججز کا تبادلہ عارضی ہوگا، ججز کے تبادلے سے عدلیہ میں شفافیت آئے گی نا کہ عدالتی آزادی متاثر ہوگی۔
2
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان کا کہنا ہے کہ فلسطین کے ساتھ کشمیر میں نسل کشی کی جارہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا ایک خوفناک سلسلہ جاری ہے۔ دانستہ طور پرعالمی فورم پر یہ بات ایجنڈا سے ہٹائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز پر ہمیں مسئلہ کمشیر کو مزید بہتر انداز میں اٹھانا ہوگا۔ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر میں ڈیمو گرافی تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل ہے۔ جو کچھ فلسطین اور کشمیر میں ہورہا ہے وہ دنیا کے امن کیلئے خطرناک ہے۔کشمیر کانفرنس سے خطاب
3
بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے پاس کیا کوئی جادو کی چھڑی ہے؟ عمران خان انہیں اپنا مرشد کیوں کہتے ہیں؟ اس حوالے سے کئی سوالات کا جواب سامنے آ گیا۔سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی شادی کی پس پردہ کہانی سامنے آگئی ہے، جسے خود بشریٰ بی بی کی بہن مریم وٹو نے ایک حالیہ انٹرویو میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔دبئی میں رہائش پذیر مریم وٹو نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں نہ صرف موجودہ سیاسی صورتحال بلکہ اپنی بہن بشریٰ بی بی اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے درمیان تعلقات کے آغاز پر بھی روشنی ڈالی۔جو لوگ بشریٰ بی بی پر کالے جادو، ٹونے یا تعویز جیسے الزامات لگاتے ہیں، انہیں سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ایسی باتیں صرف ذہنی الجھن میں مبتلا افراد ہی کرتے ہیں۔
4
پشاور میں تعینات افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ شاکر نے کہا ہے کہ افغانستان آزاد ہے اور وہاں امن قائم ہوچکا، افغان مہاجرین واپس اپنے وطن آجائیں اور اپنے ملک کو آباد کریں۔ پاکستان سے واپس افغانستان جانے والوں کے لیے کیمپ بنایا گیا ہے، واپس جانے والوں کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، واپس جانے والوں کو سہولیات دے رہے ہیں، ہم واپس جانے کے لیے آمادہ ہیں، افغان حکومت بھی واپس آنے والوں کے لئے تیار ہے۔پشاور میں پریس کانفرنس
5
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل سے متعلقہ جج کے رضامندی کے بغیر کیسز ٹرانسفر کرنے کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے مشال یوسفزئی کیس میں بینچ تبدیلی پر ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل سلطان محمود عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ کوئی ایسی فائل دکھائیں جس میں جج کی مرضی کے بغیر کیس ایک بینچ سے دوسرے میں ٹرانسفر ہوا ہو۔ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل نے ایک کیس کا ریکارڈ اور فائل عدالت میں جمع کروا دی۔جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے کہ اس فائل کے مطابق تو چیف جسٹس صاحب یہ کیس خود سن رہے تھے، اور انہوں نے دو جج اور شامل کر دیے، سوال یہ ہے کہ کیا چیف جسٹس جج کی منظوری کے بغیر کیس ٹرانسفر کر سکتا ہے کہ نہیں۔جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے سلطان محمود سے استفسار کیا کہ مجھے آپ کی مجبوریوں کا علم ہے، مجھے آپ کو سزا دینے کا کوئی شوق نہیں آپ سچ بولیں۔ میرا پورا ارادہ ہے اس پر باقاعدہ ججمنٹ لکھوں اور اس کیس میں عدالتی معاون مقرر کرنا پڑے گا۔ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 30 اپریل تک ملتوی کر دی۔
6
سویلینز کا ملٹری ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کی۔آئینی بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل،جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی،جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل ہیں۔دورانِ سماعت وزارتِ دفاع کے وکیل خواجہ حارث کے جواب الجواب میں دلائل دیے۔ خواجہ حارث کل بھی اپنا جواب الجواب جاری رکھیں گے۔
7
ہائی کورٹ بار کی جانب سے ٹرانسفر ججز کے خلاف درخواست واپس لینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ بار نے ٹرانسفر ججز کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواست واپس لینے کا فیصلہ کرلیا ہےا ور اس سلسلے میں آئینی پٹیشن واپس لینے کے لیے اتھارٹی لیٹر بھی جاری کر دیا ہے۔ہائی کورٹ بار نے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ انیس محمد شہزاد کو آئینی درخواست واپس لینے کا اختیار دے دیا۔ بار کے صدر واجد گیلانی اور سیکرٹری منظور ججہ کے دستخط سے اتھارٹی لیٹر جاری کر دیا گیا۔