1
ججز سینارٹی کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا کوئی وکیل نہ کرنے کا فیصلہ ,جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تینوں ججوں کو نوٹس گیا تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کا وکیل کون ہے، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ مجھے تینوں ججوں کی طرف سے پیغام ملا ہے۔اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ جسٹس سرفراز ڈوگر ، جسٹس خادم سومرو اور جسٹس محمد آصف سپریم کورٹ میں کوئی وکیل نہیں کر رہے، تینوں ججوں نے کہا ہے آئینی بنچ جو بھی فیصلہ کرے گا انھیں قبول ہوگا۔
2
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کا ایکشن، خاتون کو زمین کا قبضہ واپس مل گیا.اسلام آباد کی شہری فہمیدہ بی بی کی زمین پر قبضے کیخلاف درخواست پر وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے کارروائی کی۔ فوسپاہ کے حکم پر فہمیدہ بی بی کو زمین کا قبضہ واپس مل گیا۔ فوسپاہ کے مطابق فہمیدہ بی بی نے زمین پر قبضے کیخلاف شکایت درج کروائی تھی۔ قانونی مالک ہونے کے باوجود انہیں زمین کا قبضہ نہیں مل رہا تھا۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے زمین کا قبضہ فہمیدہ بی بی کو دلوانے کی عملدرآمد رپورٹ جمع کروا دی۔
3
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ غلط معلومات کا پھیلاؤ عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔تیسری اقوام متحدہ امن مشن 2 روزہ وزارتی کانفرنس وفاقی دارالحکومت میں پاکستان اور جمہوریہ کوریا کی شراکت داری سے منعقد ہوئی، جس میں پاکستان اور مختلف ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام ، حکومتی عہدیداران اور اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔کانفرنس میں اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے امن مشنز اور انڈر سیکرٹری جنرل برائے آپریشنل سپورٹ بھی شریک ہوئے۔ علاوہ ازیں اجلاس میں 157 ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی برائے امن کے ارکان نے بھی شرکت کی ۔ عالمی امن کے لیے وزارتی تیاری کانفرنس کا انعقاد نہایت اہم ہے۔ پائیدار عالمی امن کے لیے سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔تیسری اقوام متحدہ امن مشن 2 روزہ وزارتی کانفرن سسے خطاب
4
حکومت نے ٹی بلز اور پی آئی بیز کے ذریعے 1,220 ارب روپے کا قرض حاصل کر لیامقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، جس سے ملک میں حکومتی سکیورٹیز میں سرمایہ کاروں کی بے پناہ دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق حکومت کو ٹی بلز کے لیے 1,730 ارب روپے اور پی آئی بیز کے لیے 1,592 ارب روپے کی بولیاں موصول ہوئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار 33 کھرب روپے سے زائد رقم رسک فری حکومتی کاغذات میں لگانے کو تیار ہیں، جو موجودہ معاشی حالات میں نجی شعبے کے لیے ایک تشویشناک اشارہ ہے۔ٹی بلز کی نیلامی میں حکومت نے 850 ارب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 965 ارب روپے جمع کیے، جب کہ میچیورٹی کی رقم 821 ارب روپے رہی۔ اتنی بڑی تعداد میں بولیوں کی وصولی نے بینکوں کی نجی شعبے کو قرض دینے میں ناکامی کو بھی واضح کر دیا ہے، کیوں کہ دسمبر 2024 سے نجی قرضوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کے مطابق غیر پیداواری سرکاری کاغذات میں سرمایہ کاری نجی شعبے کی ترقی کو روک رہی ہے، جس کے باعث صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں سست روی کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
5
وزیراعظم سے برطانیہ کے پارلیمانی انڈر سیکرٹری برائے مذاہب لارڈ واجد کی ملاقات,جس میں وزیراعظم نے لارڈ واجد خان کا پاکستان میں خیرمقدم کیا اور اوورسیز پاکستانیز کنونشن میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے تعاون کو سراہا اور کہا کہ آپ سب پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے شاہ چارلس سوم کے ساتھ ساتھ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔انہوں نے پاکستان برطانیہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم ، عوامی تبادلوں اور دیگر شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔
6
بلاول بھٹو زرداری دبئی سے کراچی پہنچ گئے.پارٹی ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کراچی میں صدرِ مملکت اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے اہم ملاقات کریں گے، جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور تنظیمی امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔بلاول بھٹو زرداری 18 اپریل کو ہونے والے جلسے سے بھی خطاب کریں گے،
7
منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں حجاج کیلئے نئی آرام گاہیں بنانے کا فیصلہ,یہ اقدام شدید گرمی اور رش کے دوران حجاج کو بیٹھنے اور آرام کرنے کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔مکہ مکرمہ کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشعل کو حج کی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ وادی منیٰ میں پیدل چلنے والوں کے لیے 50 ہزار مربع میٹر کا علاقہ سایہ دار بنایا جا رہا ہے، تاکہ گرمی سے بچاؤ ہو سکے۔اس کے علاوہ جبل الرحمہ میں بھی 60 ہزار مربع میٹر پر شیڈز اور پانی کے پھوار والے پنکھے نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ حجاج کو ٹھنڈک اور سکون فراہم کیا جا سکے


