1
پی ٹی اے کی خراب انٹرنیٹ سروسز پر کوئی ایکشن نہ لینے کی تصدیق,فائیو جی کے خواب دکھانے والوں نے قوم کو فور جی اور تھری جی جیسی بنیادی سہولت سے بھی محروم کر دیا مگر پی ٹی اے موبائل کمپنیوں کے خلاف کسی عملی کارروائی کے بجائے محض بیانات تک محدود ہے۔پاکستان بھر میں موبائل فون اور موبائل انٹرنیٹ سروس کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔ فائیو جی کا انتظار کرنے والی قوم آج فور جی اور تھری جی جیسی سروسز کے مسائل کا شکار ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے ٹیلی کام کمپنیوں کے خلاف کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا بلکہ محض بیانات پر اکتفا کیا گیا ۔ خراب سروسز کے معاملے پر سماء کے رابطے پر پی ٹی اے نے خود تصدیق کی کہ رواں سال اس حوالے سے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ ادارے کا مؤقف ہے کہ کوالٹی آف سروس میں بہتری ایک مسلسل عمل ہے اور سیلولر سروسز کو بہتر بنانے کے لیے مستقل اور بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
2
تیس ہزار سے زائد سرکاری ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ,کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو ملازمتوں کی اسکیل وائز تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ان میں سے 7,724 ملازمتیں ”ڈائنگ پوسٹس“ قرار دی گئی ہیں، جو مستقبل میں ختم کی جائیں گی۔اس فیصلے کے تحت سب سے زیادہ 7,305 اسکیل-1 کی ملازمتیں ختم کی جائیں گی جبکہ گریڈ 21-22 کی صرف دو ملازمتیں ختم کی جائیں گی، گریڈ 20 کی 36 اور گریڈ 19 کی 99 ملازمتیں مستقبل میں ختم کی جائیں گی۔بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ ریگولیٹری اداروں پر اس رائٹ سائزنگ کے اثرات نہیں ہوں گے لیکن انہیں مشیروں، عملے کی تعداد اور تنخواہ کے ڈھانچے کے بارے میں ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
3
سندھ لیبر اپیلیٹ ٹربیونل نے لیبرکورٹ نے فیصلہ معطل کرتے ہوئے پاکستان اسٹیل ملز کے 5 ہزار 744 ملازمین کوبحال کردیا۔پاکستان اسٹیل ملز کی انتظامیہ نے ملازمین کوفارغ کرکے لیبرکورٹ میں کیس دائر کیا تھا، عدالت نے فیصلہ معطل کرتے ہوئے پاکستان اسٹیل کے پانچ ہزار 744 ملازمین کوبحال کردیا۔
4
پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ حیدر سعید کی ضمانت منظور, انسداد دہشت گردی عدالت آسلام آباد نے پولیس کی جانب سے ریکارڈ پیش نہ کرنےپر شدید برہمی کا اظہار کیا۔حیدر سعید کے وکیل تابش فاروق نے مؤقف اپنایا کہ اس ایف آئی آر میں بعض ملزمان کی ضمانتیں ہائیکورٹ سے ہو چکیں ۔ حیدر سعید کو تھانے سے باہر ہی نہیں نکالا گیا تو ریکوری کیسے ہوئی؟ جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے پولیس پراسیکیوٹر سے کہا ریکارڈ نہ لانے سے پولیس کی بددیانتی ظاہر ہو رہی ہے ۔ پولیس یہ ڈرامے بازی بند کرے ۔ضمانت میں وقفے کے باوجود پولیس نے ریکارڈ پیش نہ کیا تو عدالت نے حیدر سعید کی ضمانت 5 ہزار مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔