1
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا گندم کے کاشتکاروں کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان, ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ساڑھے 5 لاکھ کاشت کاروں کو براہ راست گندم سپورٹ فنڈ کے تحت 15 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دے دی۔ترجمان نے بتایا کہ گندم کے کاشتکاروں کو کسان کارڈ کے ذریعے براہ راست پیسے ملیں گے۔اس کے علاوہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے اس سال گندم کے کاشتکاروں کے لیے آبیانہ اور فکس ٹیکس میں بھی چھوٹ کا اعلان کر دیا۔گندم کو موسمی اثرات اور کسانوں کو مارکیٹ کے دباؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے 4 ماہ تک مفت اسٹوریج کی سہولت مہیا کی جائے گی جبکہ صوبائی اور ضلعی سرحدوں پر گندم اور آٹا کی نقل وحمل پر عائد پابندی بھی ختم کر دی گئی ہے۔
2
عالمی بینک (ورلڈ بینک) نے پاکستان کے ٹیکس نظام کو "انتہائی غیر منصفانہ اور بے ہودہ” قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ جائیداد کو مؤثر طریقے سے ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور اس کا درست اندراج و ٹیکس لگایا جائے۔عالمی بینک کے مطابق تنخواہ دار طبقے پر بڑھتا ہوا بوجھ صرف اسی صورت میں کم ہو سکتا ہے جب ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جائے اور تمام آمدن کو اس میں شامل کیا جائے۔ محصولات کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ نظام سے قلیل مدتی فائدے تو حاصل ہو رہے ہیں لیکن طویل مدتی آمدنی کے مواقع ضائع ہو رہے ہیں۔ اخراجات کے حوالے سے پائڈ کے وائس چانسلر ندیم جاوید نے انکشاف کیا کہ ترقیاتی بجٹ کا 40 فیصد کمیشن کی صورت میں ضائع ہو جاتا ہے کیونکہ آڈیٹر جنرل پاکستان (AGPR) کے بغیر 5 سے7 فیصد کمیشن دیے کوئی بل کلیئر نہیں ہوتا۔
3
سندھ بھر میں ملیریا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس سال دماغی ملیریا کا کیس بھی سامنے آیا ہے۔محکمہ صحت کے مطابق رواں سال دماغی ملیریا میں مبتلا حیدرآباد کا شہری اسپتال میں داخل ہے، دماغی ملیریا ایک خطرناک قسم کا ملیریا ہے جس میں جراثیم دماغ کی رگوں میں سوجن پیدا کردیتے ہیں جس کا بروقت علاج نہ ہو تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔محکمہ صحت نے بتایا کہ یکم جنوری سے 16 اپریل تک سندھ بھر میں ملیریا کے 20 ہزار 57 کیسز سامنے آئے جب کہ جنوری سے 16 اپریل تک کراچی سے ملیریا کے 201 کیسز رپورٹ ہوئے۔
4
لاہور: پنجاب حکومت نے مختلف قسم کی تعمیرات کے لیے بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کا سسٹم لازمی قرار دیدیا۔جیو نیوز کے مطابق پنجاب حکومت نے پولٹری، فش فارمز، پیٹرولیم ریفائنریز، ٹیکسٹائل انڈسٹری، گارمنٹس یونٹس، فوڈ انڈسٹری، فلور، رائس ملز، گھی آئل ملز، پیٹرول پمپس اور سیمنٹ پلانٹس میں پانی ذخیرہ کرنے کا سسٹم لازمی قرار دیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق شوگر ملز، کیمیکل انڈسٹری، فارما انڈسٹری، پیپر ملز، کھادوں کے یونٹس، ائیرپورٹس، ہاؤسنگ سوسائٹیز، کمرشل بلڈنگز، ہوٹلز اور میرج ہالز میں بھی بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کا سسٹم لازمی قرار دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ تمام تعلیمی اداروں، بسوں، ویگنوں کے اسٹینڈز پر بھی بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کا سسٹم لازمی ہوگا۔


