1
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی صحت نے شادی سے پہلے دلہا دلہن کی مرضی سے تھیلیسیمیا ٹیسٹ کرانے کا بل منظور کرلیا۔ ارکان نے صحت سہولت کارڈ پر پمز میں مبینہ کرپش کا معاملہ اٹھایا۔ تو چئیرمین کمیٹی ڈاکٹر مہیش کمار نے تحقیقات کی ہدایت کر دی۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شادی سے پہلے دلہے اور دلہن کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ کرانے کے پرائیویٹ ممبر بل پر بحث کی گئی۔ رکن کمیٹی شرمیلا فاروقی نے بتایا کہ ٹیسٹ مرضی سے کرانے کی شق شامل کی گئی ہے۔ اس کا مقصد تھیلیسیمیا کے مریضوں کی تعداد میں کمی کرنا ہے۔ اعجاز جکھرانی کا کہنا تھا کہ بل کی اپنی اہمیت ہے۔ روڑے نہ اٹکائے جائیں۔ کمیٹی نے بحث کے بعد بل کثرت رائے سے پاس کردیا۔
2
پنجاب میں پاکستان کی پہلی ماحولیات ڈرون سرویلنس شروع کردی گئی۔تھرمل ٹیکنالوجی سے لیس ڈرونزنے فیلڈ میں کام شروع کردیا۔ماحول دشمن انڈسٹری سمیت دیگرعناصر کوڈرون سرویلنس کے ذریعے پکڑا جائے گا۔ڈرون سرویلنس کے ذریعے محمود بوٹی لاہورمیں تین پائرولیسس پلانٹس پکڑ لئے گئے۔ ماحول کونقصان پہنچانے والی چار انڈسٹریز، سینکڑوں کاربن بوریاں بھی پکڑلی گئیں۔ایریل سرویلنس کمپنی کی رپورٹ تیارکرکےافسران سے وضاحت طلب کرلی گئی۔
3
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی ترقی و منصوبہ ی گوادر میں بلڈرز کو مراعات دینے کی سفارش، آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی کیے بغیر گوادر میں بلڈرز اور ڈیویلپرز کو مراعات دینے کی سفارش بھی کر دی۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ خصوصی اقتصادی زونز سی پیک روٹ کے ساتھ منسلک نہیں جبکہ ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے مقابلے میں زیادہ پورٹ چارجز، مینجمنٹ اور سیکیورٹی کے مسائل گوادر بندرگاہ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔کمیٹی ارکان نے خصوصی اقتصادی زونز فعال نہ ہونے اور گوادر بندرگاہ سے پورا تجارتی فائدہ نہ اٹھانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ چیئرپرسن قرۃ العین مری نے کہا کہ گوادر بندرگاہ کو ترقی دینے کیلئے بلڈرز اور ڈیویلپرز کو راغب کیا جائے۔
4
سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ہوگیا، فی تولہ قیمت تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔امریکا اور چین کی ٹیرف جنگ کے عالمی معیشت پر انتہائی سنگین اثرات پڑرہے ہیں، سونے کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر جا پہنچیں، تاریخ میں پہلی بار فی تولہ سونا ساڑھے تین لاکھ اور دس گرام سونا تین لاکھ روپے سے تجاوز کرگیا۔
5
شبمن گل پر سلو اوور ریٹ کے باعث 12 لاکھ روپے جرمانہ,آئی پی ایل کے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.22 کے تحت شبمن گل پر کم سے کم جرمانہ عائد کیا گیا۔
6
پاکستان کو مالی سال 2024-25 کے پہلے 9 ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران بیرونی ذرائع سے مجموعی طور پر 5 ارب 50 کروڑ 75 لاکھ ڈالر کی مالی معاونت موصول ہوئی، جو سالانہ ہدف 19 ارب 39 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں صرف 28.40 فیصد ہے۔دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق، موصول شدہ فنڈز میں 5 ارب 37 کروڑ ڈالر بطور قرض جبکہ 13 کروڑ 56 لاکھ ڈالر بطور گرانٹس شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس میں آئی ایم ایف سے ملنے والی ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط شامل نہیں ہے۔اقتصادی امور ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق، اس عرصے میں پاکستان کو پچھلے مالی سال کے مقابلے میں 1.39 ارب ڈالر کم فنڈز حاصل ہوئے۔ گزشتہ سال جولائی سے مارچ کے دوران پاکستان کو 6 ارب 89 کروڑ ڈالر کی بیرونی مالی معاونت موصول ہوئی تھی۔


