1
وزیراعظم شہباز شریف دو روزہ دورے پر ترکیہ روانہ ہوں گے۔ وفاقی وزرا بھی وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ہوں گے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم اپنے دورے کے دوران ترکیہ کے صدر طیب اردوان سے ملاقات کریں گے، وزیراعظم کے دورے میں مزید ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ملاقاتوں کے دوران پاکستان اور ترکیے کے درمیان دوطرفہ علاقائی اور عالمی امور پر بات چیت ہوگی۔
2
جے یو آئی کے ساتھ اتحاد نہ ہونے کا معاملہ: بیرسٹر گوہر کا ردِ عمل ،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی نے اپنے ردِ عمل میں کہا کہ جے یو آئی ایک بڑی جماعت ہے، اُن کا جو بھی فیصلہ ہو گا قبول ہو گا، ہمارے پاس آفیشل اُن کی طرف سے ابھی ایسا کچھ نہیں آیا، ہمیں بھی ایک سورس سے ہی یہ خبر پتا چلی ہے۔بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ اسلم غوری نے بیان دیا کہ ہم نے کچھ فیصلے کیے ہیں، جے یو آئی کی پریس ریلیز کے بعد ہم اپنا ردعمل دیں گے۔ خان صاحب سے ملاقات کے لئے ہم بہت عرصے سے عدالت کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں، عدالت کو چاہئے بنیادی حق دے ، عدالت کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ آزاد ہو۔
3
سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ جے یو آئی ف اور جماعت اسلامی کے اتحاد سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔ ملکی معیشت ترقی کررہی ہے، صرف ایک جماعت کی جانب سے معمولی نوعیت کے سیاسی بلبلے بنتے ہیں، مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی کا اتحاد سیاسی طورپر خوش آئند ہے۔ دونوں جماعتیں ماضی میں بھی متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے کاوشیں کر چکی ہے، حکومت کا کام کسانوں کو سہولت فراہم کرنا ہے، حکومت جب سپورٹ پرائس کےمسئلے سے باہر نکل رہی ہے تو اسے کسانوں کے دیگر مسائل کو بھی دیکھنا ہوگا۔
4
بلوچستان عوامی پارٹی کا صوبہ بھر میں عوامی رابطہ اور تنظیم سازی کا فیصلہ،بلوچستان عوامی پارٹی کی اہم بیٹھک ہوئی جس میں صدر خالد مگسی، سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، سینیٹر عبدالقادر، جان جمالی اور نصیب اللہ بازئی شریک ہوئے۔اجلاس میں جعفر مگسی، ثناء جمالی اور سینیٹر دینش کمار بھی شریک ہوئے، بی اے پی کی بیٹھک میں ملکی و بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ بی این پی مینگل نے بی اے پی سفارشات پر غور کیا جس سے صوبے میں مثبت نتائج آئے، اتحادی حکومت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ صوبے کے عوام تک پہنچنا چاہئے۔
5
اقتصادی امور ڈویژن نے غیر ملکی امداد اور قرضوں کی رپورٹ جاری کردی۔اقتصادی امور ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 19 ارب 39 کروڑ ڈالر تخمینہ میں سے جولائی سے مارچ کے دوران محض 5 ارب 50 کروڑ ڈالر ملے، گزشتہ مالی سال 17 ارب 61 کروڑ ڈالر تخمینہ میں سے جولائی سے مارچ تک 6 ارب 90 کروڑ ڈالر ملے تھے۔دستاویز کے مطابق گزشتہ ماہ مارچ کے دوران 55 کروڑ 52 لاکھ ڈالر کی بیرونی فنانسنگ حاصل کی گئی، جولائی سے مارچ مالیاتی اداروں سے 2 ارب 82 کروڑ 76 لاکھ ڈالر موصول ہوئے، جولائی سے مارچ باہمی معاہدوں کے تحت 35 کروڑ 84 لاکھ ڈالر کا قرض حاصل کیا گیا۔