1
علی امین گنڈاپور سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری،اے ٹی سی لاہور کے ایڈمن جج منظر علی گل نے 5 اکتوبر کو پی ٹی آئی کے لاہور میں احتجاج اور پولیس پر تشدد سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔پولیس نے موقف اختیار کیا کہ علی امین گنڈا پور سمیت دیگر شامل تفتیش نہیں ہو رہے۔انسداد دہشتگردی عدالت نے پولیس کی درخواست پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، حماد اظہر، سعید سندھو اور شہباز احمد کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے۔
2
مراد علی شاہ اور ان کی جماعت 16 سال سے سندھ پر حکومت کر رہے ہیں، وہ اپنی کارکردگی بتائیں، وزیراعلیٰ سندھ کو علی امین گنڈا پور سے مختلف نظر آنا چاہیے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد دعلی شاہ کی پریس کانفرنس پر شدید ردعمل دیتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ مراد علی شاہ کو سندھ کے کسانوں سے زیادہ پنجاب کے کسانوں کی فکر لاحق ہےخ پنجاب کے کسانوں کی فکر کرنے کیلئے پنجاب کے وارث خود موجود ہیں۔ کیا سندھ میں کاشتکار نہیں؟ اور کیا سندھ حکومت نے گندم کی قیمت مقرر کی ہے؟ انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ کیا سندھ حکومت نے کسانوں سے گندم خرید لی ہے؟مراد علی شاہ اور ان کی جماعت گزشتہ 16 سالوں سے سندھ میں حکمران ہیں، اب انہیں اپنی کارکردگی بتانی چاہیے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایک سال میں پنجاب کے کسانوں کو 110 ارب روپے کا تاریخی پیکیج دیا ہے۔
3
بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ کی تشکیل مکمل نہ ہونے کی وجہ سے کاز لسٹ منسوخ کر دی گئی۔بنچ کے سربراہ جسٹس شہباز رضوی کی عدم دستیابی کی وجہ سے 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں کی کازلسٹ منسوخ کی گئی۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں پر نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
4
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈز کیس میں اپیلیں مقرر کرنے سے متعلق ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل سے پالیسی طلب کر لی ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس انعام امین منہاس نے حکم جاری کیا۔حکم نامے کے مطابق اپیلیوں پر جلد سماعت کی درخواست دائر ہوئی، کیس فکس کرنے کی پالیسی سے متعلق ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل رپورٹ جمع کرائے۔
5
جی ایچ کیو حملہ کیس میں شیخ رشید کی بریت کی اپیل پر مہلت مانگنے پر سپریم کورٹ نے سپیشل پراسیکیوٹر پنجاب پر برہمی کا اظہار کیا۔سپریم کورٹ میں جی ایچ کیو حملہ کیس میں شیخ رشید کی بریت کی اپیل پر سماعت ہوئی، جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی بنچ کا حصہ ہیں۔دوران سماعت پنجاب حکومت نے شیخ رشید کی بریت کی اپیل پر شواہد پیش کرنے کیلئے وقت مانگ لیا۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے التوا مانگنے پر پنجاب حکومت کے سپیشل پراسیکیوٹر کی سرزنش کر دی اور تنبیہ کی کہ التوا مانگنا ہو تو آئندہ اس عدالت میں نہ آنا، التوا صرف جج، وکیل یا ملزم کے انتقال پر ہی ملے گا۔
6
ججز ٹرانسفر کیس: وکیل درخواست گزار کو جواب الجواب دینے کیلئے مہلت مل گئی۔سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔جسٹس محمد علی مظہر نے درخواست گزار ججز کے وکیل منیر اے ملک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین کے تحریری جوابات آچکے ہیں، کیا آپ ان پر جواب الجواب دینا چاہیں گے؟سینئر وکیل منیر اے ملک نے جواب دیا کہ جی میں جواب الجواب تحریری طور پر دوں گا، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا آپ کو کتنا وقت چاہیے ہوگا؟ وکیل نے جواب دیا کہ آئندہ جمعرات تک وقت دے دیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اتنا وقت کیوں چاہیے بہت سے وکلا نے دلائل دینے ہیں، اس کیس کو اتنا لمبا نہ کریں، آئندہ سماعت سے کارروائی 9:30 بجے سے 11 بجے تک ہوگی، فوجی عدالتوں کا کیس 11:30 بجے معمول کے مطابق چلے گا۔بعدازاں عدالت نے وکیل درخواست گزار کو جواب الجواب جمع کرانے کیلئے مہلت دیتے ہوئے سماعت 29 اپریل تک ملتوی کر دی۔
7
لاہور میں مذہبی جماعت کے رہنما حاجی نواز کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں خاتون سمیت 6 افراد زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ سندر میں جلیانہ گاؤں میں پیش آیا، زخمیوں میں حاجی نواز، ان کی اہلیہ، بیٹا، بھائی اور دو گن مین شامل ہیں، تمام زخمیوں کو فوری طور پر جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔واضح رہے کہ مذہبی جماعت کے رہنما حاجی نواز پی پی 166 سے صوبائی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑ چکے ہیں۔ادھر واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے فوری کارروائی کی ہدایت کر دی، جس کے بعد پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا، گرفتار ملزمان میں طاہر عباس، علی مرتضیٰ اور محمد رستم حیات شامل ہیں۔
8
آئی ایم ایف کا ترقیاتی بجٹ سے صوبائی ترقیاتی منصوبے ختم کرنے کا مطالبہ،آئی ایم ایف نے صوبائی امور کے ترقیاتی منصوبے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد وفاق آئندہ بجٹ میں 168 صوبائی منصوبے وفاقی بجٹ سے نکالنے پر مجبور ہے۔عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ وفاق 18 ویں ترمیم کے بعد منتقل صوبائی منصوبوں پر ترقیاتی بجٹ خرچ نہ کرے۔ذرائع کے مطابق وفاق آئندہ بجٹ میں 168 صوبائی ترقیاتی منصوبے وفاقی بجٹ سے نکالنے پر مجبور ہے، ترقیاتی بجٹ میں 168 صوبائی نوعیت کے منصوبے سست روی کا شکار ہیں جن کی لاگت 1100 ارب روپے ہے، صوبائی نوعیت کے 168 ترقیاتی منصوبوں پر وفاق 300 ارب روپے خرچ کر چکا ہے۔