1
بجٹ 2025-26 کے حوالے سے وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ کرلیا۔آئی ایم ایف کے مطالبے پر غیرضروری اخراجات کم کرنے کےلیے وفاقی حکومت نے 168غیر اہم اور زیرالتوا ترقیاتی منصوبے ہمیشہ کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزارت ترقی و منصوبہ بندی حکام نے سماء کو بتایا ہے کہ 1.1ٹریلین مالیت کے ان منصوبوں پر اگلے مالی سال میں 850 ارب روپےخرچ ہونے کا تخمینہ تھا جبکہ اب تک ان پر 300 ارب روپے خرچ ہو چکے۔ ان میں سے بعض منصوبے سیکیورٹی وجوہات اور بعض مقدمات کے باعث زیر التوا ہیں ۔ مزید نقصان سے بچنے کیلئے انہیں بند کرنے کا فیصلہ ہوا ۔ نامکمل اور غیر اہم منصوبوں کی فہرست فائنل کی جا رہی ہے ۔ منصوبوں کا تعلق توانائی، چھوٹے ڈیمز اور انفراسٹرکچر سے ہے۔ حکام کے مطانق آئندہ بجٹ میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں کیلئے نئی حکمت عملی تیار کی گئی ہے ۔ آئی ایم ایف شرائط کےباعث فارن فنڈڈ منصوبوں کی تکمیل اولین ترجیح ۔ وزارت منصوبہ بندی نے2900ارب کا ترقیاتی بجٹ مانگ لیا ۔رواں مالی سال کے بجٹ میں1071 ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ 30 جون تک ان میں سے 276 مکمل کر لئےجائیں گے۔ اگلے3 سے4 سال میں زیادہ اہمیت کے حامل منصوبوں کی تکمیل کا ہدف ہے۔
2
صوبہ پنجاب میں گندم کی خریداری کےلیے جامع پلان تیار کرلیا گیا۔سیکرٹری زراعت پنجاب افتخارعلی کا کہنا ہے کہ گندم کی خریداری نجی شعبہ کے ذریعے کی جائیگی۔ پرائیویٹ سیکٹر کو گندم خریداری کیلئے وسائل حکومت پنجاب مہیا کریگی۔سیکرٹری زراعت افتخارعلی سہو کےمطابق گندم کی خریداری کیلئے فری مارکیٹ کا نظام تمام صوبوں میں رائج ہوچکا ہے۔ حکومت پنجاب نے گندم کے کاشتکاروں کے مالی تحفظ کیلئے متبادل نظام متعارف کرایا ہے۔
3
مزید ہزاروں افغان باشندوں کو واپس بھیج دیا گیا، مجموعی تعداد ایک ملین تک پہنچ گئی۔ حکومت پاکستان کی جانب سے دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد ان افراد کو ملک چھوڑنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اعداد وشمار کے مطابق 21 اپریل کو مزید 3 ہزار 956 زائد غیر قانونی افغان باشندوں کو وطن واپس روانہ کیا گیا۔ مجموعی طور پر پاکستان چھوڑنے والے غیر قانونی افغان باشندوں کی تعداد لاکھ 83 ہزار 442 پہنچ چکی ہے۔حکومتی حکام کے مطابق غیر قانونی رہائش پذیر افراد، غیر ملکیوں اور افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری ہے۔ تاہم، حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ انخلاء کے عمل کو باعزت اور منظم انداز میں یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی قسم کی بدسلوکی یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو۔
4
عالمی مارکیٹ میں امریکی ڈالر 3 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین پر جاری تنقید نے امریکی معیشت پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مجروح کردیا ہے۔امریکی کرنسی سوئس فرانک کے مقابلے میں گزشتہ روز کی دہائی کی کم ترین سطح کے قریب رہی، جبکہ یورو کے مقابلے میں ساڑھے تین سال کی کم ترین سطح پر برقرار رہی۔ٹرمپ نے پیر کو ’ٹروتھ سوشل‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے فیڈ چیئرمین جیروم پاول کو بڑا ناکام شخص قرار دیا اور زور دیا کہ وہ ابھی شرح سود میں کمی کریں، بصورت دیگر معاشی سست روی کا خطرہ ہے۔


