1
اسلام آباد میں عوامی سہولت کے لیے کئی بڑے منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عوام کی سہولت کے لیے متعدد نئے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت سی ڈی اے میں اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں نئے منصوبوں کی باضابطہ منظوری دی گئی۔ اجلاس میں ٹریفک کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے لیے فیض آباد انٹرچینج کی ری ماڈلنگ کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ فیض آباد انٹرچینج میں توسیع کرتے ہوئے دو نئی لینز کا اضافہ بھی کیا جائے گا۔اجلاس میں فیصل چوک پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے 2+2 لین کے انڈر پاس کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محسن نقوی نے ہدایت دی کہ انڈر پاس کی پلاننگ آئندہ ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کی جائے۔ اسی طرح بلیو ایریا میں مکمل شدہ پارکنگ پلازہ کو جلد فعال کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے پارکنگ پلازہ اور فوڈ اسٹریٹ کے لیے جدید اور منافع بخش بزنس ماڈل تیار کرنے کی ہدایت دی۔ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی پارکنگ پلازوں کی تعمیر کی منظوری دی گئی جب کہ مقامات کی جلد نشاندہی کرنے کی ہدایت دی گئی۔
2
عمران خان کی نااہلی پر احتجاج؛ پی ٹی آئی رہنماؤں سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد، انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی کی نااہلی پر فیض آباد کے مقام پر احتجاج کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی جب کہ ملزمان کی جانب سے صحت جرم سے انکار کردیا گیا۔کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی ، جس میں فیصل جاوید خان، عامر کیانی، واثق قیوم اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے، جہاں پی ٹی آئی وکلا نے عدالت سوے فرد جرم مؤخر کرنے کی استدعا کی۔وکیل سردار مصروف ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ بات ان کیسز کی نہیں ہے، یہ سیاسی کیسز کی بات ہے۔ عدالت نے کہا کہ آپ کی بریت کی درخواستیں خارج ہوچکی ہیں، اب تو وہ چیلنج بھی ہوچکی ہیں۔عدالت نے راجا راشد حفیظ کو ایک لاکھ روپے کا مچلکہ جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ راشد حفیظ جب تک مچلکہ جمع نہیں کروائیں گے کورٹ روم نہیں چھوڑیں گے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی اگلی سماعت پر استغاثہ کے گواہان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 12 مئی تک ملتوی کردی۔
3
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل ملاقات نہ کروانے پر دائر توہین عدالت کی درخواست خارج کر دی۔ہائی کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست عدم پیروی پر خارج کی۔جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے صوبائی وزیر کے پی سہیل آفریدی کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کی جانب سے کوئی پیش نہ ہوا۔عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دی۔
4
جوڈیشل مجسٹریٹ قمر عباس تارڑ نے پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی۔پولیس نے جمعہ کو راولپنڈی ایئرپورٹ ایریا میں ورکرز کنونشن کے دوران سڑک بلاک کرنے اور پولیس کو دھمکیاں دینے پر مقدمہ درج کرکے عالیہ حمزہ اور پانچ کارکنوں کو گرفتار کیا تھا۔عالیہ حمزہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا تاہم جوڈیشل مجسٹریٹ نے ایک لاکھ مالیتی مچلکے جمع کروانے کے عوض رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔
5
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا اندرونی انتشار اسٹیبلشمنٹ کے لیے طاقت کا ذریعہ بن گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ فیڈریشن کو ون یونٹ نظام میں تبدیل کرنے سے باز رہے کیونکہ یہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔لیاقت بلوچ نے تجویز دی کہ قومی جمہوری جماعتیں متناسب نمائندگی کے طرزِ انتخاب پر اتفاق کر لیں تاکہ حقیقی جمہوری اقدار کو فروغ مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیرجانبدارانہ انتخاب کا مستقبل 2024کے انتخابات کے فارم 45 میں پوشیدہ ہے۔انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ زراعت اور کسانوں کے ساتھ مجرمانہ لاپروائی فوری طور پر بند کی جائے۔
6
وفاقی وزیرِ خزانہ کی عالمی مالیاتی اداروں اور بینکنگ وفود سے اہم ملاقاتیں،وفاقی وزیرِ خزانہ نے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں سے ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال، حالیہ مالی و مانیٹری پیش رفت اور جاری اصلاحاتی اقدامات سے آگاہ کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی ساختی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، جن کے باعث بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ فچ ریٹنگ ایجنسی کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری (B-) ملک کے مالیاتی استحکام کی عکاس ہے۔ملاقات کا اختتام سوال و جواب کے سیشن پر ہوا جس میں شرکاء نے پاکستان کی اقتصادی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کی۔
7
وزیراعظم نے کارکردگی پر مبنی مراعاتی نظام کا دائرہ وسیع کر دیااس فیصلے کا مقصد افسران کو مراعات دے کر ان کی دیانت داری اور کارکردگی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، تاکہ افسران مزید دل جمعی سے کام کریں اور بہترین نتائج لائیں۔ ایف بی آر میں نیا نظام اس وقت متعارف کرایا گیا جب یہ انکشاف ہوا کہ پرانے نظام کے تحت 98 فیصد افسران کوانتہائی عمدہ یابہت اچھا قرار دیا جاتا رہا ہے، واضح رہے کہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز اور ایف بی آر کے افسران کو پہلے ہی عمدہ تنخواہوں کے ساتھ مراعات دی جارہی ہیں، یہ مراعات ماضی میں تمام افسران کو یکساں طور پر دی جاتی رہی ہیں، بغیر اس کے کہ ان کی اصل کارکردگی یا نتائج کو مدنظر رکھا جائے۔


