1
پہلگام فالس فلیگ کے بعد بھارت پر جنگی جنون سوار؛ سرحدی علاقے خالی کروا لیے۔ذرائع نے بتایا کہ بھارتی فوج نے سامبا، کٹھوا اور اکھنور سیکٹر میں مزید دیہات خالی کروا لیے ہیں۔ اس سے قبل اٹاری سیکٹر میں بھی بھارت نے گرودواروں سے اعلانات کروا کر عوام کو فصلوں کی کٹائی کے لیے احکامات دیے تھے۔بھارت نے اپنے ہی عوام کو حقائق سے بے خبر رکھنے اور ہندوتوا کا زہریلا پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے سیکڑوں پاکستانی چینلز کو بھی بلاک کروا دیا ہے۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی عوام کی بڑی تعداد مودی سرکار کی غیر منطقی پالیسیوں اور انتہا پسندی سے دلبرداشتہ ہے۔ بھارت کی جانب سے بغیر ثبوتوں کے خود پر جنگی جنون سوار کرنا مودی سرکار کی ناکامی کی واضح علامت ہے۔
2
2012 سے 2023 تک 195 کاٹن ملز کا 3ارب سے زائد ٹیکس ادا نہ کرنیکا انکشاف،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر کی سربراہی میں اجلاس کے دوران کاٹن ملز سے 3 ارب چار کروڑ روپے کا ٹیکس وصول نہ ہونے کا انکشاف ہوا۔سیکریٹری غذائی تحفظ کے مطابق ملز عدالتوں میں چلی گئیں اور اب ان کے ساتھ معاہدہ طے ہونے والا ہے، اگلے چند ماہ میں امید ہے کہ تمام واجب الادا رقم ختم ہو جائے گی۔سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اس کی نوبت آتی کیوں ہے کہ ان سے یہ ٹیکس نہیں لیا جاتا۔ سیکریٹری غذائی تحفظ نے بتایا کہ ہمارے پاس کوئی طریقہ کار نہیں کہ ان سے ٹیکس پہلے ہی لے لیا جائے۔چیئرمین پی اے سی نے ہدایت کی کہ یقینی بنائیں کہ جون تک یہ رقم وصول کر لی جائے۔
3
لاہور ہائیکورٹ: آلودگی کی روک تھام کیلئے رکشہ ساز کمپنیوں پر سخت شرائط عائد،جسٹس شاہد کریم کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں رکشہ مینوفیکچررز اور ڈیلرز پر سخت شرائط عائد کرتے ہوئے ان پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ کے کوئی رکشہ فروخت نہ کریں۔فیصلے کے مطابق محکمہ ٹرانسپورٹ نے عدالتی ہدایات کی روشنی میں رکشہ مینوفیکچررز سے مذاکرات کیے جس میں رکشہ مینوفیکچررز کو ہدایت کی گئی کہ بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ اور لائسنس کے کوئی رکشہ خریدار کے حوالے نہ کریں۔عدالت نے مزید حکم دیا ہے کہ شرائط و ضوابط پر عمل نہ کرنے والے مینوفیکچررز کو جون 2025 کے بعد لائسنس میں توسیع نہ دی جائے۔فیصلے میں ایم اے او کالج کے گراؤنڈز سے متعلق بھی ایل ڈی اے کی رپورٹ کا ذکر کیا گیا ہے جس کے مطابق گراؤنڈز کو بحال کر کے کالج انتظامیہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔
4
پاکستان کا برطانیہ سے لندن ہائی کمشن پر پتھراؤ کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ، لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر ہونے والے حالیہ پرتشدد واقعات اور پھتراؤ میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے۔اپنے ایک بیان میں لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ توقع ہے حکومت برطانیہ پاکستان ہائی کمیشن کی سکیورٹی کو یقینی بنائے گی، توقع کرتے ہیں کہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا احتجاج کے دوران پاکستانی کمیونٹی کے مثبت رویے پر فخر ہے، بھارت کے مختلف ممالک میں ہوئی وارداتوں میں ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں، اگر ہمیں ہدف بنایا گیا تو مناسب جواب دیں گے۔لندن میں پاکستانی ہائی کیمشن کے باہر بھارتی شہریوں کی جانب سے ہونے والے احتجاج پر انہوں نے مزید کہا کہ توقع ہے حکومت برطانیہ پاکستان ہائی کمیشن کی سکیورٹی کو یقینی بنائے گی۔
5
اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی کا اجلاس پیر کو طلب، شرح سود میں کمی کا امکان،مرکزی بینک کی جانب سے جاری اعلان کے مطابق بینک دولت پاکستان کی زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا اجلاس بروز پیر 5 مئی 2025ء کو منعقد ہوگا، جس میں آئندہ 2 ماہ کے لیے زری پالیسی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا ۔بعد ازاں اسٹیٹ بینک اسی دن ایک پریس ریلیز کے ذریعے تفصیلی زری پالیسی بیان بھی جاری کرے گا۔
6
چین کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے ٹیلی میڈیسن کے شعبے میں بھرپور پیش رفت کی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس کے دوران چین کے نیشنل ہیلتھ کمشن سے ملاقات ہوئی جہاں چینی نیشنل ہیلتھ کمشن نے مصطفیٰ کمال کا پرتپاک استقبال اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔پاکستان میں صحت کے شعبے میں چینی سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں اور پاکستان میں ادویہ سازی کے شعبے میں چین سے ٹیکنالوجی کی منتقلی ناگزیر ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کووڈ-19 کے دوران چین کی جانب سے فراہم کی گئی امداد کو بھی سراہا خصوصاً ویکسین کی فراہمی پر وزیر صحت نے چینی حکومت کا حکومت اور عوام کی جانب سے شکریہ ادا کیا۔
7
قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کی فوجی شرٹ میں ملبوس تصویر اور ہاتھ میں چائے کے کپ نے بھارتیوں کو تلملا کر رکھ دیا۔اس تصویر کے کیپشن پر سابق آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے لکھا کہ چھوڑو جیت ہار کو! آؤ شیکھر تمہیں چائے پلاتا ہوں۔سابق کپتان کے طنزیہ میسج پر بھارتی مداحوں نے نہایت ہی نامناسب کمنٹس کیے، جس پر انہیں دنیا بھر کے صارفین نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔


