1
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کا بجٹ 290 روپے فی ڈالر ریٹ پر بنانے کا تخمینہ لگایا ہے۔ذرائع کے مطابق ریٹ تعین کرنے کا مقصد بیرونی امداد، ادائیگیوں اور قرضوں کا تخمینہ روپوں میں لگانا ہے جبکہ رواں مالی سال 25-2024 کا وفاقی بجٹ 295 روپے فی ڈالر ریٹ پر بنایا گیا تھا۔بجٹ میں لگ بھگ 8.5 ٹریلین قرضوں پر سود ادائیگیوں کے لیے تخمینہ لگایا گیا ہے۔ رواں مالی سال کی نسبت آئندہ بجٹ کے لیے ڈالر ریٹ میں 5 روپے کی کمی کی گئی ہے۔آئندہ مالی سال ڈیٹ سروسنگ کا حجم کم، امپورٹ بل اور مہنگائی کنٹرول میں رہ سکے گی۔ کرنسی مستحکم اور پالیسی ریٹ میں کمی کے باعث رواں مالی سال ڈیٹ سروسنگ کم ہوگی۔
2
غیر قانونی مائیگریشن کی روک تھام کیلئے ڈی پورٹ افراد کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا گیا۔وزیر داخلہ کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان سیریئس کرائم اینڈ لا انفورسمنٹ پروگرام (اپسکیل) کے حکام اور وزارت داخلہ کے اعلی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں غیر قانونی امیگریشن، آن لائن چائلڈ ہراسانی، میوچوئل لیگل اسسٹنس و ایکسٹراڈیشن، کریمنل ریکارڈ کے تبادلے، غیر قانونی فنڈنگ اور انسداد منشیات کے لئے اٹھائے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے غیر قانونی امیگریشن اور منشیات سمگلنگ کی روک تھام کیلئے کوآرڈینیشن بہتر کرکے مربوط اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی اور کہا کہ آن لائن چائلڈ ہراسانی کے واقعات پر فوری اور سخت ایکشن ہونا چاہیئے۔ بچوں کی آن لائن ہراسانی کے تدارک کیلئے تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے، سیریس اور آرگنائزڈ کرائمز کی روک تھام کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ غیر قانونی امیگریشن پر قابو پانا ترجیح ہے، غیر قانونی مائیگریشن کی روک تھام کیلئے ڈی پورٹ افراد کو 5 سال کے لیے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے، غیر قانونی امیگریشن سے نمٹنے کیلئے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ برطانوی معاونت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
3
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن ایک بار پھر جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو بھرپور دفاع بھی کرے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیا کے حالیہ بحران میں پاکستان کے ساتھ آذربائیجان کی مضبوط یکجہتی اور حمایت پر صدر علیوف کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر علیوف کی مستقل حمایت پاکستانی عوام سے ان کی بے پناہ محبت اور پیار کا ایک اور مظہر ہے۔جمہوریہ آذربائیجان کے صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو, پاکستان نے علاقائی امن کے لیے بھارت کے ساتھ جنگ ​​بندی مفاہمت پر اتفاق کیا ہے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، تاہم انہوں نے بھارتی قیادت کے حالیہ اشتعال انگیز بیانات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں کسی بھی جارحیت کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا بھرپور دفاع کرے گا۔
4
حکومت اور عمران خان کے درمیان ڈیل کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کا واضح اعلان، پارٹی کے بانی عمران خان اور حکومت کے درمیان کسی بھی خفیہ معاہدے یا مفاہمت کی بات سراسر بے بنیاد ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے اسمبلی فلور پر مذاکرات کی دعوت کو مثبت انداز میں لیا گیا، تاہم اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے پارٹی مشاورت اور عمران خان کی رائے کو ترجیح دی جائے گی۔ عمران خان کی طرف سے کبھی بھی خفیہ مفاہمت یا سودے بازی کا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا۔ عمران خان کی ذاتی زندگی، خصوصاً ان کے بیٹے قاسم اور سلیمان موجودہ حالات سے پوری طرح باخبر ہیں اور ان کی جانب سے بھی اس قسم کی کسی ڈیل کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت
5
حکومت کی انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024ء منظور کرانے کی کوشش ناکام، قومی اسمبلی میں حکومت کی طرف سے انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024منظور کرانے کی کوشش کی گئی، تو اس موقع پر اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کردی ۔دورانِ اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب کی گنتی میں تحریک تو منظور ہوگئی ، تاہم اپوزیشن کی جانب سے بروقت نشاندہی پر کورم کی رکاوٹ سامنے آ گئی اور انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024پر اپوزیشن نے تحریک کی منظوری کے لیے گنتی چیلنج کردی ۔اس وقت حکومتی اتحاد کے 67ارکان ایوان میں موجود تھے جب کہ اپوزیشن کے 32ارکان موجود تھے۔ اپوزیشن نے تحریک منظوری کا بدلہ کورم کی نشاندہی کرکے پورا کرلیا۔بعد ازاں ایوان میں گنتی کی گئی تو کورم پورا نہیں نکلا، جس پر اجلاس میں وقفہ کیا گیا، تاہم حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام رہی، جس پر قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
6
وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں عوام اور صنعت کار اچھی خبریں سنیں گے، بجٹ میں پٹرول، بجلی کی قیمتیں اور شرح سود مزید کم ہوں گے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی معاشی سرگرمیاں نواز شریف کے وژن کی عکاس ہیں، وہ معاشی ترقی کی شرح کو 7 فی صد تک پہنچانا چاہتے ہیں، اور اس شرح کو 10 سال کے لیے مستحکم رکھنے کے خواہش مند ہیں۔ وزیر اعظم برآمدات میں اضافے کو معاشی ترقی کی لائف لائن قرار دیتے ہیں اور معاشی معاملات پر بھرپور توجہ دیے ہوئے ہیں۔ معاشی مشکلات کے لیے شہباز شریف الگ الگ کمیٹیاں بنا کر مسائل حل کیے جا رہے ہیں، وزیر اعظم معاشی مسائل کے حل کا ٹاسک دینے کے بعد اس پر پوچھ گچھ کرتے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف سرمایہ کاروں کو تحفظ اور اعتماد دینا چاہتے ہیں، اور پاکستان کو خطے میں سرمایہ کاری کی جنت بنانا چاہتے ہیں، ملک میں کاروبار چلیں گے تو ہی ترقی ہوگی۔
7
امریکی پابندیوں کے خاتمے پر ایران اپنا جوہری پروگرام بند کرنے کیلئے راضی ہوگیا اگر امریکہ تمام اقتصادی پابندیاں ختم کر دے تو تہران نہ صرف جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ ترک کرے گا بلکہ اپنا ایٹمی پروگرام ہمیشہ کے لیے روکنے پر بھی آمادہ ہے۔ یہ بیان ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے اعلیٰ مشیر علی شمخانی نے دیا ہے۔ ایران بین الاقوامی معائنہ کاروں کو اجازت دے گا کہ وہ یورینیم کی افزودگی کے عمل کی نگرانی کریں، بشرطیکہ تمام امریکی اقتصادی پابندیاں فوری اور مکمل طور پر اٹھا لی جائیں۔ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کے حق میں نہیں رہا اور صرف شہری مقاصد کے لیے کم سطح کی یورینیم افزودگی پر قائل ہے۔
8
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کے خلاف سینیٹر افنان اللہ پر تشدد کیس میں تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود چوہدری کی جانب سے تحریری فیصلہ جاری کیا گیا جس میں شیر افضل مروت کو مقدمے سے بری کر دیا گیا۔تحریری فیصلے کے مطابق شیر افضل مروت کو مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا، دوران تفشیش شیر افضل مروت سے کوئی مجرمانہ مواد برآمد نہیں ہوا، مدعی مقدمہ عدالت میں پیش نہیں ہوا جس سے اس کی مقدمہ میں عدم دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اس کیس کا ٹرائل چلایا بھی جائے تو ملزم کو سزا کا کوئی امکان موجود نہیں ہے، لہٰذا شیر افضل مروت کی بریت کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔