1
پاکستان نے بھارتی ایٹمی تنصیبات اور مواد کی سکیورٹی کا جائزہ لینے کا مطالبہ کردیاترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر دفاع کے پاکستانی ایٹمی اثاثوں سے متعلق بیان کی شدید مذمت کی اور کہا یہ غیر ذمہ دارانہ بیان بھارتی عدم تحفظ اور ناکام دفاعی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، پاکستان کی روایتی دفاعی صلاحیت بھارت کی جارحیت کو روکنے کے لیے کافی ہے۔پاکستان نے مطالبہ کیا کہ بھارت میں ایٹمی تنصیبات اور مواد کی سکیورٹی کا جائزہ لیا جائے۔
2
وزیراعظم شہباز شریف نےکہا ہےکہ آذربائیجان کی قیادت اور عوام کی حمایت نے دنیا کو دکھا دیا کہ ہم حقیقی بھائی ہیں۔ صدر الہام علیوف سے آج دوپہر گفتگو کی جس میں آذربائیجان کی بھرپورحمایت پرشکریہ ادا کیا۔حالیہ جنوبی ایشیائی بحران میں آذربائیجان نے پاکستان کا ساتھ دےکربھائی چارےکا ثبوت دیا، پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید بڑھانے پربات چیت ہوئی۔آذربائیجان کی سرمایہ کاری پاکستان میں بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال ہوا۔وزیراعظم نے بھارتی قیادت کے حالیہ اشتعال انگیز بیانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا بھرپور دفاع کرےگا۔
3
پاکستان نے امریکا کو زیرو ٹیرف دو طرفہ تجارتی معاہدے کی پیشکش کردی۔ذرائع کا بتانا ہے کہ امریکی صدر کے پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھانےکے جواب میں پاکستان نے یہ تجویز دی، پاکستان منتخب ٹیرف لائنز پر زیرو ٹیرف کے ساتھ باہمی مفادات کی بنیاد پر دوطرفہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔پاکستان امریکا کے ساتھ متعدد شعبوں میں دوطرفہ تجارت کو توسیع دینا چاہتا ہے۔یہ پیشکش امریکی صدرکی طرف سے پاک بھارت فائر بندی کا معاہدہ کرنے کے بعد کی گئی، جنگ بندی کے بعد امریکی صدر نے کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے ساتھ ’بہت سی تجارت‘ کریں گے۔
4
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس آج تاریخ کی بلند ترین سطح پر بند ہوا ہے۔ بجٹ میں تعمیراتی شعبے پر توجہ دیے جانے کی امیدوں پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا آغاز مثبت رجحان سے ہوا اور یہ رجحان کاروبار کے اختتام سے قبل اسٹاک ایکسچینج پر نیا ٹیکس نہ لگائے جانےکی اطلاع پر تیز ہوگیا۔100 انڈیکس نے کاروبار کا اختتام ایک ہزار 425 پوائنٹس اضافے سے ایک لاکھ 19 ہزار 961 پرکیا ہے۔بازار میں آج 69 کروڑ 89 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے جن کی مالیت 39 ارب روپے سے زائد رہی۔
5
وزیراعظم آزاد کشمیربھارتی گولہ باری سے شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے گھر پہنچ گئے۔وزیراعظم آزاد کشمیرنے زخمی ہونے والوں میں چیک تقسیم کیے۔ شہری دفاع کی ضرورت جتنی بڑے شہروں میں ہے اتنی ہی ایل اوسی پربھی ہے،مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کارکردگی بہتر بنارہے ہیں۔پاکستان کی مسلح افواج نے مودی کی جارحیت کا جواب بھرپورانداز میں دیا۔
6
آذربائیجان کی بھارتی جارحیت کیخلاف شاندار کامیابی پر پاکستان کو مبارکباد، واضح حمایت کا اعلان،وزیراعظم نے بھارتی قیادت کے حالیہ اشتعال انگیز بیانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا بھرپور دفاع کرے گا۔آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کی شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔


