1
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں انکی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست میں ترمیم کی استدعا منظور کرلی۔جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت نے وکیل عمران شفیق کو ایک ہفتہ میں ترمیم شدہ پٹیشن دائر کرنے کی ہدایت کردی، سماعت کے موقع پر درخواست گزار کے وکیل عمران شفیق، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور عدالتی معاون زینب جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ حکومت کیوں اس درخواست کو نمٹانا چاہتی ہے، اس میں حکومت کا کیا فائدہ ہے جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم اس کیس میں جس حد تک جو کچھ کر سکتے تھے کر چکے ہیں۔جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ یہ لمبی جہدوجہد والا کام ہے، عافیہ صدیقی کیس اب ایک تحریک بن چکا ہے، اس پٹیشن کو ختم کرنے سے مسئلہ ختم نہیں ہوگا نہ حل ہوگا۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ عدالتی مداخلت کے بعد ہی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی انکی بہن عافیہ صدیقی سے ملاقات ممکن ہو سکی، عدالت کے حکم پر پاکستانی وفد امریکہ گیا اور عافیہ صدیقی سے ملاقات بھی ہوئی، عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کردی۔
2
چینی قونصل خانے پر حملے کے مقدمے میں گواہ کو پیش کرنے کا حکم،دورانِ سماعت عدالت نے کیس پراپرٹی پیش نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیس پراپرٹی اور گواہوں کو پیش کیوں نہیں کررہے۔ بعد ازاں عدالت نے آئندہ سماعت پر کیس پراپرٹی اور گواہوں کوپیش کرنے کا حکم دیدیا۔پولیس کے مطابق مقدمے میں کالعدم بی ایل اے کے کارندے علی حسنین، عبداللطیف سمیت 4 ملزم گرفتار ہیں۔ مقدمے میں کالعدم بی ایل اے کے سربراہ حربیار مری سمیت 16 ملزم اشتہاری ہیں۔عدالت نے کیس کی سماعت 31 مئی تک ملتوی کردی۔
3
سپریم کورٹ میں فواد چوہدری کی 9 مئی مقدمات کے خلاف درخواست پر سماعت ، سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ فواد چوہدری نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے مقدمات کے خلاف درخواست پر اعتراضات لگائے، اپیل میں ججز نے اعتراضات کو برقرار رکھا۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے اعتراضات برقرار رکھنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی، ہائی کورٹ کا آرڈر فیصلہ کم اور شاہی فرمان زیادہ لگ رہا ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ 9 مئی کے بعد سات ماہ جیل میں رہا جیل سے نکلے تو 35 مقدمات مختلف شہروں میں درج تھے، ملتان، فیصل آباد، لاہور اور راولپنڈی میں اعانت جرم کے مقدمات ہیں، اعتراض لگایا گیا کہ برانچ رجسٹری کے ہوئے ہوئے ہائیکورٹ کی پرنسپل سیٹ پر درخواست دائر نہیں ہوسکتی۔پراسیکیوشن کی جانب سے فواد چوہدری کی درخواست پر اعتراض کردیا گیا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اگر ہائی کورٹ وجوہات پر مبنی تفصیلی فیصلہ کر دے تو پراسیکیوشن کو کیا مسئلہ ہے؟ فواد چوہدری نے کہا کہ پراسیکیوٹر صاحب آپ بلاوجہ جذباتی ہو رہے ہیں۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے فواد چوہدری سے کہا کہ آپ سیاسی آدمی ہیں جیل سے نہ ڈریں، جیل تو سیاست دانوں کو لیڈر بناتی ہے، گھبرائیں نہیں آپ محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔اس پر فواد چوہدری نے کہا کہ پہلے بھی جیل گئے ہیں دوبارہ چلے جائیں گے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ شائستہ لودھی کے ویڈیو کلپ پر 85 مقدمات درج ہوئے، کوئٹہ میں 84 مقدمات میں نے خارج کیے تھے، ہائی کورٹ کی پرنسپل سیٹ کے اختیارات ختم نہیں ہوسکتے، مختلف شہروں میں بنچ تو لوگوں کی سہولت کیلئے بنائے جاتے ہیں۔عدالت نے مزید سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کردی۔
4
بھارتی جارحیت: وزیر اعلیٰ سندھ کا شہداء کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان, وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ سیکریٹریٹ میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی اور پرچم کشائی کی۔ ترجمان عبدالرشید چنا کے مطابق پرچم کشائی کی تقریب نیو سیکریٹریٹ کے آنگن میں منعقد ہوئی جس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری اور اعلیٰ افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ سیکریٹریٹ میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی اور پرچم کشائی کی۔ ترجمان عبدالرشید چنا کے مطابق پرچم کشائی کی تقریب نیو سیکریٹریٹ کے آنگن میں منعقد ہوئی جس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری اور اعلیٰ افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، قوم کا جذبہ حب الوطنی قابلِ تقلید ہے، وطن کی عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، پوری قوم دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہے اور عوام ہمیشہ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔تقریب سے خطاب
5
پاکستان اور بنگلہ دیش کا ثقافتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق،رپورٹ کے مطابق لاہور میں پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن اور بنگلہ دیش کے حکومتی وفد کی ملاقات ہوئی جس میں دونوں ممالک کی کمرشلز بنیادوں پر فلمی وفود کا تبادلہ، ٹیکنالوجی، فلم میں ارتقائی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شہزاد رفیق نے گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ یہ ہمارے لئے یہ سنہری موقع ہے کہ ہم پھر سے اپنی کھوئی ہوئی مارکیٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین ایک نکاتی ایجنڈا پر زور دیا۔بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر نے کہا کہ دونوں ممالک کی فلموں کا فیسٹیول بھی ہونا چاہیے۔ مشترکہ فلم سازی سے فلم انڈسٹری کو ترقی ملے گی۔
6
پرانے، بند اور ناقابلِ استعمال جنکو پلانٹس کی نیلامی 19 مئی کو ہوگی۔ نیلامی کی تقریب GENCO ہولڈنگ کمپنی کے دفتر اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔ نیلامی صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ نیلامی کا عمل شفاف اور غیر جانب دار انداز میں مکمل کیا جائے گا۔ نیلامی میں اسٹیک ہولڈرز اور میڈیا کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے، نجکاری کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔
7
قومی اسمبلی نے کم عمر بچوں کی شادیوں پر پابندی سے متعلق بل قومی اسمبلی سے منظور کرلیا، 18 سال سے کم عمر بچوں کے نکاح کا اندراج قانونی طور پر جرم قرار دے دیا گیا۔بل کے مطابق نکاح رجسٹرار کم عمر بچوں کی شادی کا اندارج نہ کرنے کے پابند ہوں گے، نکاح پڑھانے والا شخص نکاح پڑھانے یا رجسٹرڈ کرنے سے قبل دونوں فریقین کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈز کی موجودگی یقینی بنائے گا۔بل کے مطابق بنا کوائف کے نکاح رجسٹر کرنے یا پڑھانے پر ایک سال قید ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی، 18 سال سے کم عمر لڑکی سے شادی بھی جرم قرار ہوگی۔18 سال سے زائد عمر کے مرد کی کمسن لڑکی سے شادی پر سزا مقرر کردی گئی، کمسن لڑکی سے شادی پر کم سے کم 2 سال اور زیادہ سے زیادہ 3 سال قید بامشقت ہوگی، کمسن لڑکی سے شادی پر جرمانہ بھی ہوگا۔نابالغ دلہن یا دلہا کی شادی کرانے پر 5 سے 7 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی، شادی کی غرض سے کسی بچے کو ملازمت پر رکھنے، پناہ دینے یا تحویل میں دینے والے شخص کو 3 سال قید مع جرمانہ سزا ہوگی۔
8
سول سرونٹ ایکٹ میں ترمیم منظور: افسران پر اپنے و اہل خانہ کے اثاثے ظاہر کرنا لازمی قرار،ترمیم کے بعد سول سرونٹ ایکٹ میں شق 15 کے بعد 15 اے کا اضافہ کر دیا گیا ہے، بل کے تحت سول افسران کے اثاثوں کی تفصیلات پبلک کی جائیں گی، گریڈ 17 سے 22 کے سول افسران اپنے تمام ملکی اور غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے۔ول افسران کے اثاثوں کی تفصیلات پبلک ہوں گی۔
9
ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو کا الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی دفتر کا دورہ،الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر ڈاکٹر حفیظ الرحمن، سیکرٹری جنرل سید وقاص جعفری، نائب صدور محمد عبدالشکور، سید احسان اللہ وقاص، ڈاکٹر مشتاق مانگٹ اور دیگر ذمہ داران نے مہمانان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر سفیر ترکیہ کو الخدمت کے مرکزی دفتر کا تفصیلی دورہ کروایا گیا اور انہیں الخدمت کی ملک و بیرون ملک فلاحی سرگرمیوں، جاری منصوبوں اور رضاکارانہ خدمات سے متعلق بریفنگ دی گئی۔صدر الخدمت ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان مشکل وقت کے ساتھی ہیں اور ترک تنظیموں کے ساتھ اشتراک الخدمت کے لیے باعثِ افتخار ہے۔ ترکیہ کے پاکستان میں سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے الخدمت کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے جھنڈے کی طرح ہمارے دل بھی ایک جیسے ہیں۔انہوں نے الخدمت کے ساتھ فلاحی میدان میں تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا، خاص طور پر نوجوان نسل کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے مشترکہ منصوبوں پر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ڈاکٹر اوغلو نے ترکیہ میں آنے والے زلزلے کے دوران الخدمت کے رضاکاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر انہوں نے الخدمت کا رضاکار بننے کے لیے خود کو باقاعدہ رجسٹر کروایا اور مستقبل میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
10
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ میں لوگ بھوک کا شکار ہیں لیکن جلد ہی امریکا اس صورتِ حال کو ٹھیک کرے گا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملے شدت اختیار کر گئے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی ممالک کے اپنے 4 روزہ دورے کے آخری روز ابوظہبی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔امریکی صدر نے غزہ کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بہت سے لوگ بھوکے مر رہے ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا جلد ہی غزہ کے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کرلے گا۔
11
ملک میں مہنگائی میں تیسرے ہفتے بھی اضافے کا رجحان جاری رہا، حالیہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں اضافے کی رفتار میں زیادہ تیزی آگئی ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں اضافے کی رفتار 1.03 فیصد جبکہ سالانہ بنیاد پر مہنگائی 1.29 فیصد کی سطح پر رہی ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق حالیہ ایک ہفتے کے دوران 18 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 12 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور 21 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔


