1
یکطرفہ جنگی کارروائی میں ناکامی اور 6 جنگی جہاز تباہ کروانے اور ناکام میزائل حملوں کی ہزیمت اٹھانے کے بعد بالآخر بھارت کو سفارتکاری کا خیال بھی آ ہی گیا۔بھارت نے تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل 7 سفارتی ٹیمیں تشکیل دے دیں جو سلامتی کونسل کے رکن ممالک سمیت اہم شراکت دار ممالک کا دورہ کریں گی اور آپریشن سندور سے متعلق آگاہی دیں گی۔کمیٹیاں حکومتوں، تھنک ٹینکس اور میڈیا سے بات چیت کر کے اپنی حکومت کا نقطہ نظر واضح کرنے کی کوشش کریں گی، پارلیمانی ٹیموں کے دورے اس ماہ کے آخر میں متوقع ہیں۔بھارت نے 70 ممالک کے ڈیفنس اتاشیوں کو آپریشن سندور کے دوران ہدف بنائے گئے افراد اور مقامات کے دہشت گردی سے تعلقات پر بریفنگ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
2
بھارتی حکومت پر بہت زیادہ دباؤ بڑھ رہا ہے اور مودی کوئی بھی ایڈونچر کرسکتے ہیں۔جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘میں بات کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ مودی اپنی ٹریجڈی کو ساؤتھ ایشیا کی گریٹ ٹریجڈی میں تبدیل کرسکتے ہیں اس لیے ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے۔ بھارتی حکومت پر بہت زیادہ دباؤ بڑھ رہا ہے اور مودی کوئی بھی ایڈونچر کرسکتے ہیں۔ بھارت، چین، ترکیہ اور آذربائیجان پر سوال اٹھا رہا ہے، ترکیہ اور آذربائیجان کے بائیکاٹ کا اعلان کر رہا ہے، اس سب کے درمیان جب یہ خبر آئی کہ امریکا نے ترکیہ کو 300ملین ڈالرز کے میزائل فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے تو بھارتی میڈیا اور بی جے پی رہنماؤں کو آگ لگ گئی۔
3
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ابوظبی میں ابراہیمی فیملی ہاؤس کا دورہ,ڈونلڈ ٹرمپ متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران ابو ظبی میں ابراہیمی فیملی ہاؤس گئے، اس کمپلیکس میں مسجد، کلیسا اور یہودیوں کی عبادت گاہ تینوں موجود ہیں۔ ٹرمپ نے وہاں مہمانوں کی کتاب میں دستخط کیے اور عمارت پر خوشگوار حیرت کا اظہار کیا۔


