1
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومتِ سندھ نے سیلاب متاثرین کے لیے جو مثالی اقدامات کیے وہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے لیے ایک مثال بن چکے ہیں۔ سیلاب متاثرہ لاکھوں خاندانوں کے لیے 21 لاکھ گھروں کی تعمیر کا ہدف ایک خواب تھا، جسے سندھ حکومت نے عزم، مسلسل محنت اور عوامی خدمت کے جذبے سے حقیقت کا روپ دیا، 8 لاکھ سے زائد گھر مکمل طور پر تعمیر ہو چکے ہیں، یہ کارنامہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کرنے جیسا ہے۔سیلاب متاثرین کے لئے گھروں کی تعمیر کا کام ملکی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا، یہ سب کچھ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ویژن اور قیادت کا ثمر ہے، بلاول بھٹو واضح طور پر کہا تھا کہ سیلاب متاثرین کو صرف امداد نہیں، بلکہ باعزت زندگی گزارنے کے لیے مکمل گھر دیے جائیں گے۔
2
جعفر ایکسپریس حملے کی تشہیر سے بھارت کا دہشتگردوں سے گٹھ جوڑ بے نقاب,جنگی محاذ پر شکست کے بعد بھارت نے نیا پروپیگنڈا شروع کر دیا۔جعفر ایکسپریس واقعے کی ویڈیو نشر کر کے بھارتی چینلز کی جانب سے دہشتگردوں کی پشت پناہی جاری ہے۔ذرائع کے مطابق بھارتی ٹی وی چینل میں بی ایل اے کی ویڈیو دکھا کر دہشتگردانہ کارروائیوں کو نہ صرف سپورٹ کیا جا رہا ہے بلکہ دہشت گردی کو کھلے عام دکھایا جا رہا ہے۔
3
مودی سرکار کا آزاد صحافت پر حملہ: گجرات سماچار کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بلاک، دفتر پر چھاپے,ذرائع کے مطابق، گجرات سماچار کے ڈائریکٹر بہوبلی بھائی شاہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کی گرفتاری کی اصل وجہ مودی حکومت سے جنگی فیصلوں اور معاشی بحران پر سوالات اٹھانا ہے۔بی جے پی حکومت پر الزام ہے کہ وہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور انکم ٹیکس اداروں کو سیاسی مخالفین اور تنقیدی میڈیا کو خاموش کرانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ گجرات سماچار پر 36 گھنٹے طویل چھاپے کے بعد ای ڈی کی کارروائی کو بھی ایک منظم دباؤ کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔اپوزیشن لیڈران اور پریس کلب آف انڈیا نے ان کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سرکار کو صرف اپنی تعریف سننا پسند ہے اور جو صحافی یا ادارہ سچ بولتا ہے، وہ نشانہ بن جاتا ہے۔صحافی برادری، اپوزیشن جماعتوں اور مختلف انسانی حقوق کے اداروں نے گجرات سماچار کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آزاد صحافت کو دبانے کے اقدامات فوری بند کیے جائیں۔
4
خلیل الرّحمان قمر ایک مرتبہ پھر عدالت پہنچ گئے.معروف مصنف و ڈرامہ نگار خلیل الرّحمان قمر نے ہنی ٹریپ اور اغوا کیس میں آمنہ عروج و دیگر کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کردی.رپورٹ کے مطابق خلیل الرّحمان قمر نے ملزمہ آمنہ عروج سمیت دیگر کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔ اپیل مدثر چوہدری ایڈووکیٹ کے توسط سے جمع کرائی گئی۔خلیل الرّحمان قمر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان پولیس کے سامنے جرم کا اعتراف کرچکے ہیں، اس کے باوجود ٹرائل کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا۔اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر اپیل منظور کی جائے۔
5
پاک بھارت کشیدگی؛ آئی سی سی کے سالانہ اجلاس، اہم فیصلے متوقع,کرک بز کی رپورٹ کے مطابق آئی سی سی کا سالانہ اجلاس سنگاپور میں منعقد ہوگا، جس میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیئرمین جے شاہ اور ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ محسن نقوی بھی شریک ہوں گے۔بھارت کی جانب سے ایل او سی پر اشتعال انگیز کا رروائیوں پر پاکستان کے جواب نے مودی حکومت کو دنیا بھر رسوا کردیا ہے جبکہ آئی سی سی کے سالانہ اجلاس میں دونوں ممالک کی شرکت کو اہمیت کا حامل سمجھا جارہا ہے۔آئی سی سی اجلاس سے قبل بھارتی میڈیا نے خبریں پھیلائیں تھی کہ بھارت ایشیاکپ 2025 سے دستبردار ہورہا ہے اور ایونٹ میں شرکت نہیں کرے گا، بعدازاں بھارتی بورڈ (بی سی سی آئی) نے اس خبر کی تردید کی۔
6
وزارت ہاوسنگ اینڈ ورکس کا بغیر تحریری معاہدے اپنی عمارت نیب کو دینے کا انکشاف,ناصر بٹ کی زیرِ صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس ہوا۔ وزارت ہاؤسنگ کی لاہور میں عمارت کی مارچ 2021 سے کرایہ کی عدم ادائیگی کی وجوہات کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ وزارت ہاوسنگ اینڈ ورکس نے تحریری طور پر معاہدہ نہیں کیا۔ وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس حکام ن بتایا کہ ہم بار بار لکھ رہے ہیں نیب کو معاہدہ تحریری طور پر کریں۔سینیٹر سیف اللہ نیازی نے سوال اٹھایا کہ وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے اپنی عمارت بغیر کسی تحریری معاہدے حوالے کیوں کی؟چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس والے عجیب بات کر رہے ہیں، وزارت نے کسی قانون کو فالو ہی نہیں کیا۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سینیٹ کا اسٹاف بہت زیادہ ہے، نیب والے ہمیں اپنی عمارتیں دیں ہم وہاں آکر بیٹھ جاتے ہیں۔وزارت قانون و انصاف حکام نے بتایا کہ وزارت قانون و انصاف نے وزارت ہاؤسنگ سے درخواست کی تھی کہ بغیر کرایہ کے ہمیں یہ عمارت دی جائے۔سینیٹر سیف اللہ نیازی نے کہا کہ اگر اسے آئندہ کے لیے ٹھیک کرنا ہے تو وزارت ہاؤسنگ اور وزارت قانون کے ذمہ داران کو سزا دیں۔ وزارت قانون و انصاف حکام نے بتایا کہ محکمے نے وزیراعظم کو سمری بھیجی ہوئی ہے ہمیں یہ عمارت مفت فراہم کی جائے۔


