اسلام آباد (عابدعلی آرائیں ) نیب قانون میں حکومتی ترامیم کے خلاف عمران خان کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے دور میں جاری ہونے والے پانچ آرڈیننسزکی وجہ سے بری ہونے والوں اور دیگر مختلف طریقوں سے مستفید ہونے والوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد 386 کیسز احتساب عدالتوں سے واپس ہوچکے ہیں

چیف جسٹس عمرعطابندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس سید منصور علی شاہ پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ جب قانون استحصال پر مبنی ہو تو عدالت میں لایا جاسکتا ہے ، انہوں نے کینیڈا کے آئین و قانون اور سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کی نظیریں پیش کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ اس طرح کے معاملات میں سپریم کورٹ قرارد ے چکی ہے کہ ایسے معاملات میں عدالت اپنے اختیارات استعمال کرے گی جہاں ناگزیر ہوگا اور عدالت اس قانون کو کالعدم قراردے سکتی ہے جو بنیادی حقوق کے منافی ہو،

اس دوران چیف جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ کیا آپ کہتے ہیں کہ defeated legislation عدالتوں میں نہیں جانی چاہیئے اور عدالت کو اس طرح کی قانون سازی کے حوالے سے مقدمات میں انتہائی محتاط ہونا چاہیئے جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ جی بالکل خصوصا اس وقت جب معاملہ دو سیاسی جماعتوں کے درمیان ہو تو عدالت کو محتاط ہونا چاہیئے۔

مخدوم علی خان نے کہاکہ تحریک انصاف ساڑھے تین سالہ دور میں 5 نیب آرڈیننس لائے گئے، اورتحریک انصاف کے دور میں جاری کئے گئے آرڈیننسز کے تحت لوگ بری ہوئے 2021میں نیب قانون میں کی گئی دوسری ترمیم کا بل لایا گیا تھا جو ان پانچوں آرڈیننس کا مجموعہ تھا سابق حکومت نے پانچ آرڈیننس جاری کیئے تھے ان کو قانون بنانا تھا ، جب عمران خان کے دور میں آرڈیننس لائے گئے تو کئی لوگ بری بھی ہوئے کئی لوگوں نے درخواستیں دائر کیں کہ ان کے مقدمات واپس کئے جائیں، عدالت نیب سے استفسار کرے کہ ان آرڈیننسزکے ذریعے کتنے ریفرنس واپس ہوئے، کتنی درخواستیں واپس ہوئیں اور کتنی درخواستوں کو منظور کیا گیا اور ان درخواستوں سے کن کن لوگوں نے فائدہ لیا .

وکیل مخدوم علی خان کہاکہ عدالت یہ بھی پوچھے کہ تحریک انصاف کے آرڈیننسز سے بری ہونے والے ملزمان میں کون کون شامل ہیں، ان کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں حالیہ ترامیم پرانے قانون کا ہی تسلسل ہے، عدالت خود کو صرف386 نیب کیسز تک محدود نہ رکھے،اس موقع پرچیف جسٹس نے مخدوم علی خان سے کہا کہ آپ بتا دیں نیب سے کیا سوالات پوچھیں ؟ وہ سوالات ہم نوٹ کرا دیتے ہیں،

اس دوران چیف جسٹس نے نیب کے نمائندے سے کہا کہ وہ یہ نکات نوٹ کرلیں۔ مخدوم علی خان نے کہاکہ نیب بتائے کہ پی ٹی آئی کے آرڈیننسز کے ذریعے کتنے ریفرنس واپس ہوئے؟ کتنے افراد بری ہوئے اور ٹرائل کورٹ نے بریت کی کتنی درخواستیں واپس کیں؟

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہاکہ اگر نیب کو ختم کر بھی دیا جائے تو جرائم کے سد باب کے لیے دیگر قوانین موجود ہیں،ایسا تاثردرست نہیں کہ نیب کیسز سے بری ہونے والے صاف شفاف ہوکر گھر چلے جاتے ہیں، اوریہ تاثربھی غلط ہے کہ نیب ختم ہو جانے سے قانون کی گرفت بھی ختم ہو جائے گی یہ مقدمات ختم نہیں ہونگے بلکہ دیگر عدالتوں میں جائیں گے۔ اس دوران مخدوم علی خان نے کہاکہ میراکہنا یہ ہے کہ ان میں سے کئی مقدمات واپس نہیں ہونے چاہیئں ایسے مقدمات میں نیب کی خامی ہے اگر کوئی عدالت کیس واپس کرتی ہے تو نیب کو اسے چیلنج کرنا چاہیئے کہ یہ کیس واپس نہیں کیا جانا چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ ٹیکس کے مقدمات واپس ہوئے ہیں تو سپریم کورٹ متعدد فیصلوں میں کہہ چکی ہے کہ ٹیکس کے مقدمات متعلقہ فورم پر چلنے چاہیئں ۔

اس دوران جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ تحریک انصاف کا موقف ہے کہ نیب کیسز میں جرم ثابت کرنے کا معیار ہی بدل دیا گیا ہے،لیکن سوال یہ بھی اہم ہے کہ نیب کیسز میں سزائیں ہونے کے بعد حالیہ ترامیم کا اطلاق ماضی سے کیسے ہو سکتا ہے؟ایسا نہیں ہو سکتا کہ نیب قانون میں ترامیم لا کر اطلاق 1985 سے کر دیا جائے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ جہاں تک میں سمجھا ہوں ہو نیب قانون میں حالیہ ترامیم عظیم ایمنسٹی ہیں اس میںسزا کا کوئی معاملہ نظر نہیں آتا جو بڑی عجیب بات ہے،مجھے یہ بھی پتا ہے کہ نیب قوانین کے علاوہ دیگر قوانین بھی موجود ہیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ اگر احتساب عدالت جرم سے بری کر دے تو ملزم گھر ہی جائے گاتاہم سماعت کے دوران میرے کیے گئے سوالات عارضی نوعیت کے ہیں۔دو بجے عدالت نے قراردیا کہ دیگر مصروفیات کی وجہ سے کیس کی سماعت کل 19 جنوری تک ملتوی کررہے ہیں۔