1
آئی ایم ایف نے پاکستان کا قرض پروگرام آن ٹریک قرار دے دیاآئی ایم ایف کی ڈائریکٹرکمیونیکیشن جیولی کوزیک نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے معاشی اصلاحات کے حوالے سے پیشرفت کی، پاکستان نے موجودہ قرض پروگرام کیلئے تمام شرائط پوری کیں۔نیوز کانفرنس کے دوران بھارتی صحافی نے سوال کیا کہ پاکستان آئی ایم ایف کا پیسہ سرحد پار دہشت گردی میں استعمال کرسکتا ہے؟جس پر ترجمان آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ قرض پروگرام پاکستان میں صرف زرمبادلہ کے ذخائر کیلئے ہے، پاکستان میں بجٹ سپورٹ کیلئے نہیں ہے، قرض کی رقم صرف سٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کیلئے دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ رقم بیلنس آف پے منٹ کیلئے ہے، حکومت پاکستان کے بجٹ کیلئے نہیں، آئی ایم ایف کے قرض کی رقم سے حکومت پاکستان کو فنڈنگ نہیں ہو سکتی، پروگرام کی شرط ہے حکومت پاکستان سٹیٹ بینک سے قرض نہیں لے سکتی، حکومت پاکستان کی سٹیٹ بینک سے بارؤنگ زیرو ہے۔
2
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی بھارت سرگرم ہے۔ بھارت 20 سال سے ریاستی دہشت گردی کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے، مکتی باہنی کا قیام، سانحہ سقوط ڈھاکہ اس کی مثالین واضح ہیں، بھارت خطے کا امن سبوتاژ کر رہا ہے۔ بھارت دہشتگردوں کو فنڈز فراہم کرتا ہے، 2016 میں بھی بھارتی دہشتگردی کے ثبوت دنیا کے سامنے رکھے، 2009 میں پاکستان نے ثبوت بھارتی وزیراعظم کو دیئے، گرفتار مختلف دہشتگردوں نے بھارتی پشت پناہی کا اعتراف کیا، کلبھوشن یادیو کو پاکستان سے گرفتار کیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آرکی وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا کے ہمراہ پریس کانفرنس
3
دفتر خارجہ نے مودی کے الزامات کو بے بنیاد اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے بیانیے سے خطے کے امن کو خطرہ ہے۔ مودی کے اشتعال انگیز بیانات کا مقصد سیاسی فائدے کے لیے خطے میں کشیدگی بڑھانا ہے، اس طرح کے بیانات عوام کو گمراہ کرنے کی دانستہ کوشش ہیں، یہ بیانات ذمہ دار ریاستی نظام کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں فعال شراکت دار ہے، پاکستان پر دہشت گردی کا الزام گمراہ کن ہے، اس طرح کا حربہ بھارت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ خودمختار ملک کے خلاف فوجی کارروائی پر فخر کرنا عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے، اس طرح کا رویہ علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے، بھارتی قیادت پر زور دیتے ہیں کہ ذمہ داری اور تحمل کا مظاہرہ کرے۔
4
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان میں معاشی استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوا۔صدر مملکت آصف علی زرداری سے جہاد اظہور کی قیادت میں عالمی مالیاتی ادارے کے وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معاشی صورتحال، جاری آئی ایم ایف پروگرام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دوران ملاقات وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان میں معاشی استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوا، پاکستان کیلئے آئی ایم ایف پروگرام سے ملک میں معاشی ترقی کو فروغ حاصل ہوگا، آئی ایم ایف ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی ترقی میں کردار ادا کر رہا ہے۔صدر مملکت نے پاکستان کی معاشی ترقی میں آئی ایم ایف کے کردار کو سراہا۔
5
خضدار میں سکول بس پر بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے طلبہ کی تعداد 6 ہو گئی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس دہشت گردانہ حملے میں حیدر شدید زخمی ہوگیا تھا، جو دورانِ علاج جانبر نہیں ہو سکا، جبکہ ایک اور زخمی طالبہ ملائکہ بھی زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئی، دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والوں میں 5 طالبات اور ایک طالب علم شامل ہیں۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور بے امنی پھیلانے کے لیے بھارت اپنی پراکسیوں کا استعمال کر رہا ہے۔
6
خیبرپختونخوا کی تحصیل آلائی کو ضلع کا درجہ دینے کا فیصلہ،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت ہزارہ ڈویژن کے عوامی نمائندوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پر مشاورت کی گئی۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت اجلاس میں اگلے مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تیاری پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔اجلاس میں وزیراعلیٰ نے پسماندہ تحصیل آلائی کے عوام کیلئے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اسے ضلع کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔ضلع بٹگرام کے عوامی نمائندوں نے وزیراعلیٰ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آلائی کو ضلع کا درجہ دینا عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا، جو کہ اب پورا ہوگیا ہے، یہ فیصلہ علاقے کی پسماندگی دور کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
7
پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان 3 ٹی 20 میچز پر مشتمل سیریز کی سکیورٹی فوج کے حوالے کرنے کی منظوری دیدی گئی۔ذرائع کے مطابق فیصلہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا گیا، محکمہ داخلہ پنجاب کی منظوری کے بعد وفاقی وزارت داخلہ نے منظوری دیدی ہے۔سیریز میں سکیورٹی کی ذمہ داری پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کو سونپنے کی منظوری دی گئی ہے۔واضح رہے کہ سیریز 28 مئی سے یکم جون تک لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلی جائے گی، سیریز کا پہلا میچ 28 مئی، دوسرا 30 مئی جبکہ تیسرا اور آخری ٹی 20 انٹرنیشنل میچ یکم جون کو کھیلا جائے گا۔