1
پہلگام واقعے پر غیر ملکی صحافی کے تیکھے سوالات؛ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر بوکھلا گئے۔بھارتی وزیر خارجہ کو ایک حالیہ انٹرویو کے دوران اُس وقت سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا جب ایک غیر ملکی صحافی نے پہلگام واقعے اور پاکستان سے کشیدگی میں امریکا کے کردار پر وضاحت مانگی۔ صحافی کے براہِ راست سوالات نے جے شنکر کو ایسے گھیرے میں لیا کہ وہ واضح جواب دینے کے بجائے گول مول باتیں کرتے نظر آئے۔انٹرویو میں سب سے پہلے صحافی نے استفسار کیا کہ کیا بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کا خاتمہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کا نتیجہ ہے؟ اس پر جے شنکر کوئی واضح مؤقف اختیار نہ کرسکے اور بات کو ادھر اُدھر گھما کر ٹالنے لگے۔اگلا سوال اور بھی براہِ راست تھا۔ صحافی نے پوچھا، ’’کیا آپ نے پہلگام واقعے میں ملوث 26 افراد کے قاتلوں کو گرفتار کرلیا ہے؟ ان کی تلاش یا گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے؟ اور کیا اس سارے عمل میں امریکا کا کوئی کردار تھا؟‘‘ ان سوالات پر بھارتی وزیر خارجہ کی بوکھلاہٹ مزید بڑھ گئی، اور وہ کٹے ہوئے الفاظ، غیر مربوط جملے اور ہچکچاتے بیانات میں الجھ گئے۔
2
ڈی پورٹ افراد کیخلاف مقدمہ درج اور پاسپورٹ منسوخ کرنےکا فیصلہ،جبکہ ڈی پورٹ افراد 5 سال کے لیے بیرون ملک بھی نہیں جاسکیں گے۔یہ فیصلہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیرصدارت اہم اجلاس میں کیا گیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ ڈی پورٹ ہونے افراد کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے گا، ڈی پورٹ ہونے والوں کے پاسپورٹ منسوخ کئے جائیں گے، ڈی پورٹ ہونے والے افراد کو پانچ سال کیلئے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ پر بھی ڈالا جائے گا،۔وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر پاسپورٹ کے قوانین کو مزید سخت اور بہتر بنانے کیلئے سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی۔محسن نقوی نے کہا کہ ڈی پورٹ ہونے والے افراد پاکستان کیلئے بین الاقوامی سطح پر شرمساری کا باعث بن رہے ہیں، آئندہ ان سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
3
بھارتی پروپیگنڈا ناکام، آئی ایم ایف پاکستان کے اقدامات سے مطمئن،رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے تصدیق کی ہے کہ اضافی فنڈنگ کیلئے پاکستان نے تمام اہداف پورے کرلئے ہیں، آئی ایم ایف کی ترجمان جولی کوزیک نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’بورڈ نے پاکستان کے لئیے فنڈنگ سے اتفاق کیا پاکستان نے مطلوبہ اصلاحات پر پیشرفت کی اور تمام ضروری شرائط کو پورا کیا تھا۔جولی کوزیک کا یہ ردعمل بھارتی صحافی کے سوال کے جواب میں تھا، بھارتی صحافی نے الزام لگایا کہ پاکستان سرحد پار دہشتگردی کیلئے اس فنڈنگ کو استعمال کرسکتا ہے۔جولی کوزیک نے واضح کیا کہ ’آئی ایم ایف ایک باقاعدہ عمل کی پیروی کرتا ہے کہ ممالک ان پروگراموں کے تحت کیسے کام کر رہے ہیں‘ بورڈ چیک کرتا ہے کہ آیا ممالک اپنے اہداف کو پورا کر رہے ہیں، پروگرام میں مطلوبہ حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔جولی کوزیک نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے پرامن حل کی امید رکھتے ہیں۔
4
امریکا نے شام کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی راہ پر ڈالتے ہوئے 13 سال سے جاری اقتصادی پابندیوں کو باضابطہ طور پر اٹھانے کا تاریخی فیصلہ کرلیا ہےامریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو کے مطابق، شام کو 180 دن کی معطلی کے بعد یہ پابندیاں مکمل طور پر ختم کردی گئی ہیں، جو دونوں ممالک کے تعلقات کی بحالی کی جانب پہلا اہم قدم ہے۔امریکی وزیر خزانہ نے اس موقع پر کہا کہ ’’شام کو ایک مستحکم اور خوشحال ملک بننے کے لیے کام جاری رکھنا چاہیے۔ ہمارے یہ اقدامات شامی عوام کو استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔‘‘یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران ریاض میں ہونے والے سرمایہ کاری فورم میں کیے گئے اعلان کے بعد عمل میں لایا گیا ہے۔
5
آئی ایم ایف مشن کا دورۂ پاکستان مکمل؛ مہنگائی میں کمی، ٹیکس آمدن بڑھانے اور اصلاحات پر زور، یہ دورہ 19 مئی سے شروع ہوا تھا، جس میں مالی سال 2025-26 کے بجٹ، اقتصادی اصلاحات اور پالیسی معاملات پر تفصیلی اور تعمیری مذاکرات کیے گئے۔مشن کے اختتام پر جاری کیے گئے اعلامیے میں آئندہ دنوں میں بجٹ مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے، جب کہ اگلا جائزہ اجلاس رواں سال کی دوسری ششماہی میں ہوگا۔اعلامیے کے مطابق پاکستانی حکام سے ہونے والی بات چیت مثبت اور تعمیری رہی۔ وفد نے اعتراف کیا کہ پاکستان نے مالیاتی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کے لیے عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات، مہنگی بجلی کے ڈھانچے کو ختم کرنے اور توانائی کی لاگت کو کم کرنے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک کو ہدایت کی گئی ہے کہ افراطِ زر کو مدِنظر رکھتے ہوئے مانیٹری پالیسی بنائے۔ معاشی ترقی کی شرح کو بڑھانے کے لیے بنیادی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور ٹیکس نیٹ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
6
غزہ پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جمعے کی صبح سے اب تک کم از کم 76 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق غزہ کے شمالی علاقے میں واقع جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملہ سب سے ہولناک ثابت ہوا جہاں ایک خاندان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں تقریباً 50 افراد شہید یا لاپتہ ہو گئے۔ عینی شاہدین نے الجزیرہ کو بتایا کہ "اسرائیلی فوج شہریوں کو تفریحاً قتل کر رہی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ کی صورتحال کواس سفاک جنگ کا سب سے ظالمانہ مرحلہ قرار دیا ہے۔ اسرائیل غزہ کو معمولی مقدار میں امداد فراہم کر رہا ہے، جبکہ شمالی غزہ مکمل طور پر محاصرے میں ہے جہاں کوئی امداد نہیں پہنچی۔ انہوں نے کہا "قحط زدہ علاقے کو محض چائے کے چمچ جتنی امداد دی جا رہی ہے۔یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی جس میں 1,139 اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے تھے اور 200 سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ اس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر شدید حملے شروع کر دیے جنہیں عالمی برادری نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔


