1
حکومت کیساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی اور بیرسٹر سیف متحرک،پارٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات شروع کرنےکی کاوشیں جاری ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر سیف مذاکرات کے لیے سرگرم ہیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے باعث پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل رک گیا تھا۔پی ٹی آئی کی فی الحال کسی سے باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے تاہم بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کیلئےکاوشیں جاری ہیں۔
2
تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں نے عمران خان کے پولی گراف ٹیسٹ کو ان کی بے عزتی قرار دیدیا۔شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز عمرایوب اور شبلی فراز کے خطوط کے باوجود چیف الیکشن کمشنر کی تقرری نہیں کی جارہی ہے۔بانی پی ٹی آئی کا پولی گراف ٹیسٹ کرنے کی کوشش توہین آمیز ہے۔ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانےکا کوئی فیصلہ نہیں کیا، تحریک عدم اعتماد لائیں گے توپکا کام کریں گے۔
3
پاور ڈویژن کے حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بجلی کو بتایا گیا کہ صوبوں کی جانب سے 31 مارچ 2025 تک کل واجب الادا رقم 161بلین روپےہے۔سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاور ڈویژن کے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ بجلی بلوں کے بقایات کی مد میں خیبر پختونخوا نے 10 ارب روپے، پنجاب نے 42، سندھ نے 67 اور بلوچستان نے 42 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔کمیٹی نےیہ بھی نوٹ کیا کہ خیبرپختونخوا کے علاوہ کسی بھی صوبے نے مجوزہ مفاہمتی بیان پر دستخط نہیں کیے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے صوبائی سطح پر دکھائی جانے والی غفلت پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور بقایا جات کی فوری وصولی کی ہدایت کی۔
4
آئی ایم ایف کا پاکستان سے مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد ہدف میں لانے پر زور،پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف مشن کا دورہ پاکستان مکمل ہو گیا، مالی سال 2025-26 کے بجٹ پر پاکستانی حکام سے تعمیری بات چیت ہوئی۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا پرائمری سرپلس کا ہدف 1.6 فیصد مقرر کیا گیا ہے، زرمبادلہ ذخائر کی بحالی اور شرح مبادلہ میں لچک لانا ہو گی، اصلاحات کے لیے پاکستانی حکام پُراعتماد ہیں، آئندہ دنوں میں بجٹ پر مزید بات چیت جاری رہے گی۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں توانائی کی لاگت کم کرنے کے لیے بات چیت ہوئی جبکہ معاشی ترقی کی شرح بڑھانے کے لیے بنیادی اصلاحات پر بھی مشاورت ہوئی، معاشی پالیسی مضبوط اور دیرپا بنانے کے لیے بھی زور دیا گیا تاکہ کوئی خلا نہ رہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ معاشی پالیسی کے لیے مانیٹری پالیسی سخت بنائی جائے، اسٹیٹ بینک افراط زر کو مدنظر رکھتے ہوئے مانیٹری پالیسی بنائے، آئندہ مالی سال زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھے جائیں اور کرنسی کا ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کے مطابق رکھا جائے تاکہ بیرونی دباؤ کو برداشت کر سکے ۔
5
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا پانچواں دور ختم ، آئندہ ملاقات پر اتفاق، امریکی حکام کے مطابق دونوں فریقین کی جانب سے آئندہ بھی ملاقات پراتفاق کیا گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ امریکا اورایران کےدرمیان مذاکرات تعمیری رہے، مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ملکوں کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مشرق وسطیٰ میں امریکا کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے اپنے اپنے ملک کی نمائندگی کی۔
6
عمران خان کیلئے بیک چینل مذاکرات، امریکی پاکستانی ڈاکٹرز کی دوبارہ پاکستان آمد،پاکستانی ڈاکٹروں اور تاجروں کے ایک گروپ نے چند ماہ قبل اسلام آباد کے دورے کے دوران ایک سینئر عہدیدار کے ساتھ ساتھ عمران خان سے جیل میں ملاقات کی تھی۔ یہ گروپ اس وقت لاہور میں موجود ہے۔تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ وفد اب تک عمران خان سے ملاقات میں کامیاب نہیں ہو پایا، اس بات کی تصدیق بھی نہیں ہوئی کہ کسی اہم عہدیدار کے ساتھ اس وفد کی کوئی بات چیت ہوئی ہے یا نہیں۔اس وفد کیلئے آئندہ ہفتے کے دوران ہونے والے رابطوں کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دورے پی ٹی آئی کے حامیوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے عمران خان کے قانونی اور سیاسی معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ حالیہ مہینوں کے دوران، کچھ غیر رسمی رابطوں کے باوجود کسی اہم پیشرفت کی اطلاع نہیں ملی۔ اس معاملے سے آگاہ ذرائع کے مطابق، ایسی کوششوں میں پیشرفت نہ صرف سیاسی مذاکرات پر منحصر ہے بلکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ کے طرز عمل اور پارٹی کے غیر ملکی چیپٹرز، بالخصوص امریکا اور برطانیہ کے پیغامات پر بھی منحصر ہے۔


