1
مجبوریاں ہیں ملک کے ساتھ چلنا ہے، زرداری کا پی پی اراکین کی شکایات پر جواب،صدر مملکت آصف علی زرداری سے اتوارکو پنجاب اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی نے ملاقات کی۔اس حوالے سے اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی، ذرائع نے بتایا ہے کہ بعض ممبران پنجاب اسمبلی کی جانب سے پنجاب حکومت کا رویہ بہترنہ ہونے کی شکایت کی گئی ہے۔ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ حکومت کے اتحادی ہونے کے باوجود ہمیں 8 کلب جانے کی اجازت تک نہیں، تمام محکموں میں صرف ن لیگ کے اراکین اسمبلی کو ترجیح دی جاتی ہے ، ہمارے منصوبے انتہائی سست روی کا شکار ہیں، ہمارے ساتھ حکومت کا رویہ درست نہیں،ترلوں منتوں کے بعد صرف 2فیصد کام کئے جاتے ہیں،،ہم بلدیاتی انتخابات کی کیسے تیاری کریں؟ذرائع کے مطابق اراکین اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے حلقوں میں بے شمار ایسے افراد موجود ہیں جن کو راشن کارڈ تک نہیں ملے،ن لیگی جس کو چاہتے ہیں اس کا نام شامل کروا لیتے ہیں،ایسے افراد بھی موجود جنہوں نے گھر کرائے پر دے رکھے ہیں۔صدر مملکت کا کہنا تھا مجھے سب پتہ ہے لیکن ان میں اتنی عقل نہیں،برا وقت ہوتو پاؤں میں پڑجاتے ہیں، جب پوزیشن میں ملے تو گلے پڑ جاتے ہیں،جو فارمولا طے ہوا تھا اس پر اس طرح سے عملدآمد نہیں ہورہا۔ایک خاتون رکن اسمبلی نے نے کہا آپ جب لاہور آتے ہیں تو ایوانوں میں زلزلہ آجاتا ہے،اس پر آصف علی زرداری نے کہاکہ جو مجھے پتہ ہے دو تین دن لاہور میں بیٹھوں تو بہت سوں کو پریشانی شروع ہو جاتی ہے، فی الحال بہت سی مجبوریاں ہیں ،ہمیں ملک کیلیے ساتھ چلنا ہے،بلاول ایک تجربہ کار سفارتکار کے طورپر سامنے آیا ہے۔صدر نے ہدایات دیں کہ آپ جتنا ہوسکتا ہے ترقیاتی کام کروائیں،اطلاعات ہیں کہ اکتوبر میں بلدیاتی انتخاب ہورہے ہیں، جب بھی بلدیاتی انتخاب ہوں یا عام انتخابات ہمیں تیار رہنا ہے۔ میں اور بلاول دونوں ہم پنجاب میں بیٹھیں گے، تنظیم سازی پر فوکس ہوگا،ہم نے آپ کے تحفظات سے متعلقہ ذمہ داروں کو آگاہ کیا تھا،امید ہے اب معاملات پہلے سے بہتر ہوجائینگے۔
2
غزہ میں امداد لینے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی حملے، اقوام متحدہ کی شدید مذمت، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے امدادی سامان کی تقسیم کو عسکری رنگ دینا بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے اور اس سے عام شہریوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔مزید کہا گیا کہ خوراک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا، یا عوام کی زندگی بچانے والی سہولتوں تک رسائی روکنا نہ صرف جنگی جرم ہے بلکہ یہ نسل کشی جیسے بین الاقوامی جرائم کے زمرے میں بھی آ سکتا ہے۔
3
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت سے قبل نیب کی جانب سے اہم اقدام سامنے آیا ہے۔190 ملین پاؤنڈز کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی و سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزاؤں کے خلاف دائر اپیلوں پر نیب نے خصوصی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دے دی ہے۔یہ ٹیم اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں اور سزا معطلی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت کی معاونت کرے گی۔نیب کے مطابق یہ خصوصی ٹیم 5 جون کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے نیب کے مؤقف کی پیروی کرے گی۔چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) کی منظوری کے بعد پراسیکیوٹر جنرل نیب سید احتشام قادر شاہ کی ہدایت پر 5 خصوصی پراسیکیوٹرز پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ اس ٹیم کی قیادت سردار مظفر احمد خان کریں گے، جبکہ دیگر ارکان میں عرفان احمد، سہیل عارف، رافع مقصود اور یاسر سلیم رانا شامل ہیں۔
4
مصطفی عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے والد کی ضمانت منظور،غیر قانونی اسلحہ کیس میں مصطفی عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے والد کی درخواست ضمانت کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ کی عدالت کے روبرو ہوئی۔دورانِ سماعت وکیل صفائی خرم اعوان ایڈووکیٹ نے مؤقف دیا کہ مقدمہ جھوٹا ہے، صرف ارمغان کا والد ہونے کی سزادی جارہی ہے۔ ملزم کو کئی مقدمات میں ملوث کردیا گیا ہے۔بعد ازاں عدالت نے کامران اصغر قریشی کی ایک لاکھ روپے کی ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزم کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو اسے رہا کردیا جائے۔
5
شہری قربانی کی کھالیں کالعدم تنظیموں کو دینے سے اجتناب کریں، ترجمان محکمہ داخلہ نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ قربانی کی کھالیں ہرگز کالعدم تنظیموں یا ان کے ذیلی اداروں کو نہ دیں، کیونکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ایسی تنظیموں کو کسی قسم کی مالی یا مادی معاونت فراہم کرنا قابلِ سزا جرم ہےترجمان نے بتایا کہ جن تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے ان میں لشکر جھنگوی، سپاہ محمد، جیش محمد، لشکر طیبہ، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، جماعت الدعوۃ، داعش، حزب التحریر، بلوچستان لبریشن آرمی، جئے سندھ قومی محاذ، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، الاختر ٹرسٹ، الراشد ٹرسٹ، پشتون تحفظ موومنٹ اور درجنوں دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔تفصیلی فہرست میں کل 70 سے زائد کالعدم تنظیموں اور ان کے ذیلی اداروں کے نام شامل کیے گئے ہیں، جنہیں کسی قسم کی مالی یا مادی امداد دینا قانوناً جرم ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب نے تمام شہریوں، خصوصاً والدین، مساجد، مدارس اور سماجی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس حساس موقع پر احتیاط برتیں اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔