1
پاکستانی فضائی حدود بند، ائیر انڈیا کو روزانہ 20 کروڑ کا دھچکا،کیمبل ولسن کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کی ٹیم نے پروازوں کو بغیر کسی تعطل کے جاری رکھا، تاہم پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث مغربی ممالک کی جانب جانے والی پروازوں کا دورانیہ ایک گھنٹہ بڑھ گیا ہے، جس سے منافع پر منفی اثر پڑا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان نے اپنی فضائی حدود بھارت کے لیے بند کر دی تھی، جس سے نہ صرف ائیر انڈیا بلکہ دیگر بھارتی ایئرلائنز بھی متاثر ہوئی ہیں۔ذرائع کے مطابق ائیر انڈیا کو اس بندش کے باعث روزانہ 20 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے، اور اس نقصان کی تلافی کے لیے بھارتی حکومت کو باضابطہ خط بھی لکھا جا چکا ہے۔
2
وزیر خزانہ کو اعزازیہ کی منظوری کے صوابدیدی اختیارات مل گئے۔کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سرکاری ملازمین کیلیے نئی اعزازیہ پالیسی کی منظوری دے دی، جس کے تحت وزیر خزانہ کو مختلف وزارتوں، پارلیمنٹ اور وزیراعظم آفس کیلئے بجٹ اعزازیہ منظوری کے صوابدیدی اختیارات مل گئے، اعزازیہ پر صرف پانچ فیصد انکم ٹیکس ہوگا۔وزارت خزانہ کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزیرخزانہ کی زیر صدارت اجلاس میں اعزازیہ پالیسی سے متعلق فنانس ڈویژن کی سمری کی منظوری دی، نئی پالیسی میں فنانس ڈویژن، ریونیو ڈویژن، ایف بی آر ، پلاننگ، ڈیولپمنٹ اینڈ سپیشل انیشی ایٹو ڈویژن، قومی اسمبلی و سینٹ سیکرٹریٹ اور وزیر اعظم آفس کے ملازمین کیلئے اعزازیہ منظور کرنے کا اختیار وزیر خزانہ کو دیا گیا ہے۔بجٹ میں اعزازیہ کے حجم کا فیصلہ ہر سال وزیر خزانہ کریں گے، جسے تقسیم کرنا وزیر خزانہ کا صوابدیدی اختیار ہو گا، اعزازیہ پر ٹیکس انکم ٹیکس کی معمول کی شرح سے کم ہو گا۔ذرائع کے مطابق اس وقت وفاقی سیکرٹریوں کو مالی سال کے دوران گریڈ 18 تک افسران کو ایک اعزازیہ دینے اختیار ہے، سینئر افسران کو اعزازیہ دینے کیلئے چیئرمین ای سی سی کی منظوری ضروری ہے۔
3
رہنما تحریک انصاف نیاز اللہ نیازی کا کہنا ہے کہ آپ نے ٹھیک کہا کہ پولیٹکل اسٹیبلٹی ملک میں چاہیے اور میرا خیال ہے کہ8 فروری کے بعد ہم بھی یہی کہہ رہے ہیں. کیونکہ عمران خان کا جو ووٹ ہے ، عمران چاروں صوبوں کی یونٹی کا نشان ہے، لوگ باہر نکلتے ہیں لیکن لوگوں کے ساتھ جو ظلم، جبر اور تشدد ہو رہا ہے، اس سے لوگوں کو روکا جا رہا ہے، لوگوں کو باہر نکلنے سے روکا جا رہا ہے، لوگ باہر نکلیں گے تو پورا پاکستان نکل پڑے گا.رہنما مسلم لیگ (ن) طاہر خلیل سندھو نے کہا کہ سب سے پہلے آپ نے جو انڈیا کی بات کی مودی جو ہے وہ ان پریڈیکٹیبل آدمی ہے، میں اس کو مردودی کہتا ہوں، نمبر ٹو آپ نے کہا احتجاج ، بالکل احتجاج ان کا رائٹ ہے، ان کا جو ماضی کا ٹریک ریکارڈ ہے وہ کوئی اتنا اچھا نہیں ہے، پہلے بھی انھوں نے تین اجتماع اور بہت ساری ریلیاں کر کے دیکھی ہیں پنجاب سے کوئی بھی باہر نہیں نکلتا۔(ر)بریگیڈیئر وقار مسعود نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ جنگ میں اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہوا اور مسلح افواج نے انڈیا کو بھرپور جواب دیا، ابھی آپریشن سندور ختم نہیں ہوا، مجھے یا د ہے کہ کچھ دن پہلے مودی نے گجرات سے ایک کال دی تھی کہ گولی کھائیں اور ساتھ ہی ہمارے نوجوانوں سے اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کی تھی، کوئی امیدیں ہیں بھارت کو کہ شاید ابتری کی فضا ہو اور اس میں کوئی اسپیس نکل آئے.
4
رہنما مسلم لیگ (ن) اختیار ولی خان کا کہنا ہے کہ دھاندلی کی جو بات ہے چاہے وہ پیپلزپارٹی کرے یا تحریک انصاف کرے ، میں گزشتہ تقریباً 30 سال سے زائد کے عرصہ سے الیکشن لڑ رہا ہوں، جہاں پر دھاندلی ہوتی ہے، دھاندلی کا مارجن اتنا نہیں ہوتا کہ آدھوں آدھ فرق آجائے. پولنگ اسٹیشن سے ابھی تک دھاندلی کی رپورٹ نہیں آئی ہے، یہ اکثر واویلا کرتے ہیں، تحریک انصاف کے ہمارے ساتھی کہ فارم 47 ، فارم 47، تومیرے خیال میں ان کے پاس جواپنے فارم45 ہے اس کے حساب سے بھی یہ آدھوں آدھ سے زیادہ کے فرق سے ہار گئے تھے.رہنما تحریک انصاف احمد خان بھچر نے کہا کہ میں پہلے بھی یہ عرض کر رہا تھا کہ بہتر ہوتا جو ادھر (ن) لیگ کی قیادت موجود تھی کیونکہ کل وہ بھی گراؤنڈ پر تھے ہم بھی گراؤنڈ پر تھے تو اخیتار ولی خان صاحب کو چونکہ گراؤنڈ کے حالات کا پتہ نہیں تھا کل کا تو میں تو خود ان کو عرض کروں گا کہ میں آپ کو ساری چیزیں بتا دیتا ہوں ، یہ خود جج بن جائیں کہ کل ادھر ہوا کیا ہے، ضمنی الیکشن میں ہمیشہ گورنمنٹ کو ایج ہوتا ہے، یہ ایک پولیٹیکل بات ہے، ہوا یہ ہے کہ کل انہوں نے تین بجے کے بعد ہمارے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال دیا.
5
تجزیہ کار ایاز خان کا کہنا ہے کہ بات یہ ہے کہ ان بے چاروں کو احتجاج کا رائٹ تو دے دیں اگر وہ کرنا چاہتے ہیں تو ان کو کرنے دیں، مولانا تو بہت اچھے آدمی ہیں،نوید صاحب کہہ رہے تھے کہ گورنمنٹ ان کو سیریس نہیں لے گی، یقین کریں گورنمنٹ بہت سیریس لے گی گورنمنٹ کے اس احتجاج کو اور اس کے بعد آپ کو یہ آنیاں اور جانیاں پھر نظر آنا شروع ہو جائیں گی،کبھی پرائم منسٹر صاحب جا رہے ہوں گے، کبھی بلاول صاحب جا رہے ہوں گے اور پھر 73 کے آئین کے تناظر میں مولانا مان جائیں گے. باقی رہا پی ٹی آئی کا معاملہ ، وہ بالکل ٹھیک ہے. تجزیہ کار فیصل حسین نے کہا کہ اصل میں اس گورنمنٹ کو یہ ایڈوانٹج حاصل ہے کہ اس کو اگر مشکلات بھی پیش ہو جائیں تو اس نے ان مشکلات کو فیس نہیں کرنا، فیس کرنے والے کوئی اور لوگ ہیں، وہی فیس کر لیں گے تو حکومت کو اس حوالے سے پریشان نہیں ہونا چاہیے، ابھی پاکستان اور بھارت کے درمیان جو جنگ ہوئی تھی ، وہ جو قوم ایک صف پر کھڑی ہوئی تھی ، کل کے ضمنی الیکشن کے بعد جوہے آپ نے اس صف کو ، اس پیج کو خود ہی توڑ دیا یہ نہیں کرنا چاہیے تھا. تجزیہ کار نوید حسین نے کہا کہ مولانا فضل اپنی ہی سیاسی اسٹریٹیجی لیکر چلتے ہیں اور ان کی گیو اینڈ ٹیک کی اسٹریٹیجی ہے، اسی طرح اپنے آپ کو پولیٹیکلی ریلیونٹ رکھنے کے لیے اور کچھ نہ کچھ سیاسی مفاد گورنمنٹ سے لینے کے لیے ہم نے دیکھا ہے کہ بارہا اسی طرح کے پروٹیسٹ کیے یا پروٹیسٹ کی دھمکیاں دیں، میرے خیال میں مولانا کی اس پروٹیسٹ کی کال کو تو سیریس نہیں لینا چاہیے اور نہ ہی میرا خیال ہے کہ گورنمنٹ سیریس لے گی۔