1
لاہور میں بغیر شناختی کارڈ کےمسافر بس کے ٹکٹ جاری کرنے پرپولیس نےمعروف ٹرانسپورٹر کو گرفتار کرکےریکارڈ قبضہ میں لےلیا۔پولیس کےمطابق کارروائی نیازی اڈا پرکی گئی،معروف ٹرانسپورٹر اور یوٹیوبر مسافروں کو شناختی کارڈ کے بغیر بس کے ٹکٹ فراہم کر رہا تھا،آٹھ جعلی شناختی کارڈوں پر پوری بس کےمسافروں کی انٹری رنگے ہاتھوں پکڑی گئی،پولیس نے تمام ریکارڈ قبضہ میں لے لیا ۔پولیس کےمطابق اشتہاری ومفرورملزمان کی گرفتاری کےلیےٹریول ایک سافٹ ویئراستعمال کیاجاتا ہے،نیازی بس سروس پرسافٹ ویئرمیں جعلی انٹریاں کی جارہی تھیں،پولیس کےمطابق سواریوں کی شناخت چھپانے سے اشتہاری یا دہشت گردوں کوسہولت کاری مل سکتی ہے۔
2
وزیراعظم نے چیف الیکشن کمشنر اور دو ارکان کی تقرری کے لیے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو ملاقات کی دعوت دے دی۔نئے چیف الیکشن کمشنر اور دو ممبران کی تقرری کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو خط لکھ کر ملاقات کی دعوت دی ہے۔وزیراعظم نے خط میں کہا ہے کہ تینوں عہدیداروں کی مدت 26 جنوری کو ختم ہو چکی ہے اور وہ آئین کے آرٹیکل 215 کے تحت کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے جانے ہیں، اس لیے آئینی عمل کے تحت مشاورت ضروری ہے۔عمر ایوب کو تقرریوں کے لیے باضابطہ ملاقات کی دعوت دی گئی ہے۔
3
سندھ حکومت کا محکمہ جیل میں اہم انتظامی اقدامات کا فیصلہ، قائم مقام گورنر سندھ اویس قادرشاہ نےآرڈیننس کے اجراء کی منظوری دے دی، آرڈیننس کےذریعے انتظامی اور رولز میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، نئے قوانین کے تحت آئی جی جیل، ڈی آئی جی اور جیل سپرینٹنڈنٹس کے عہدے پر سول سروس کے افسران کی خدمات لی جاسکیں گی۔
4
وزارت آئی ٹی کے ترقیاتی بجٹ میں بھی کٹوتی کا فیصلہ،صرف ایک سال میں 10 ارب 40 کروڑ روپے کی کمی کر دی گئی۔وفاقی بجٹ 2025-26 میں آئی ٹی سیکٹر کو دی جانے والی ترجیحی حیثیت کےحکومتی دعووں کی نفی ہوگئی۔آئندہ مالی سال کے لیےوزارت آئی ٹی کے ترقیاتی بجٹ میں 43فیصد سے زائدکمی تجویز کی گئی ہے،ترقیاتی بجٹ میں 10 ارب 40 کروڑ روپےکی کٹوتی کی گئی ہے۔
5
دو روز سے پاکستانی آبی ذخائر میں قابل استعمال پانی میں کمی کا سلسلہ جاری ہے،آج بھی ملکی ذخائرمیں ستاسی ہزار ایکڑ فٹ پانی کم ہو گیا،بھارت سے آنے والے دریائے چناب اور جہلم میں بھی پانی کی آمد میں کمی ہو گئی۔واپڈا سے جاری اعدادوشمار کےمطابق پاکستان میں قابل استعمال پانی کا ذخیرہ تینتالیس لاکھ سینتیس ہزارایکٹرفٹ سے کم ہوکربیالیس لاکھ پانچ ہزارایک فٹ رہ گیا،بھارت سے آنےوالےدریائے چناب میں پانی کی آمد میں نو ہزارکیوسک کی کمی ہوئی،آج پانی کی آمد پچیس ہزارکیوسک رہی۔اسی طرح دریائے جیلم میں بھی پانی کی امد با سو کیوسک کمی کےبعد تینتیس ہزار دو سو کیوسک رہ گئی،دریائے سندھ میں پانی کی آمدمیں بھی دس ہزاردوسو کیوسک جبکہ دریائے کابل میں پانی کی امد میں دو ہزار کیو سک سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ۔