1
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کردی گئی۔لاہور بار ایسوسی ایشن کو 5 کروڑ روپے فنڈ دینے کے معاملے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔علی امین گنڈاپور کے خلاف درخواست ارسلان آفریدی ایڈووکیٹ نے الیکشن کمیشن میں دائر کی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے لاہور بار ایسوسی ایشن کو 5 کروڑ روپے کا فنڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور صوبائی کابینہ نے فنڈ دینے کی منظوری دی ہے۔درخواست کے مطابق دوسرے صوبے کی بار ایسوسی ایشن کو فنڈ دینا رشوت کے زمرے میں آتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے صوبے کی امانت میں خیانت کی ہے۔ صوبے کے فنڈ کو دوسرے صوبے میں استعمال ایمرجنسی یا کسی آفت کی صورت میں کیا جا سکتا ہے۔الیکشن کمیشن میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ صوبے کو پہلے ہی معاشی مشکلات کا سامنا ہے، اوپر سے صوبے کے خزانے سے فنڈ باہر استعمال ہورہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے صوبے کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے اور اپنے مینڈیٹ و حلف کی خلاف ورزی کی ہے۔درخواست کے مطابق فنڈ کے استعمال سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے اور آئین اور این ایف سی ایوارڈ موجود ہے، لہٰذا وزیراعلیٰ کو نااہل قرار دیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ وزیر اعلیٰ کو صوبائی اسمبلی کی سیٹ سے ڈی نوٹیفائی کیا جائے۔
2
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق سینئر رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت سے متعلق پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا رد عمل سامنے آگیا۔رپورٹ کے مطابق سابق گورنر اور مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کے سابق ترجمان زبیر عمر کی پی ٹی آئی میں شمولیت کا امکان ہے۔ زبیر عمر کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت سے متعلق پی ٹی آئی پیٹرن ان چیف سے مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔ پیٹرن ان چیف پی ٹی آئی کی سزاؤں کے معطلی کے حوالے سے پہلی مرتبہ کیس اسلام اباد ہائی کورٹ میں لگا ہے، پہلی مرتبہ پراسیکیوشن ٹیم کی جانب سے کوئی پیش ہوگا۔ عید سے دو دن قبل امید ہے کہ کوئی مثبت پیشرفت ہوگی، 17 جنوری کے بعد اب جون آگیا ہے، ابھی تک کیس کی سماعت نہیں ہوئی، روٹین میں یہ ایک مہینے کے اندر اندر فیصلہ ہوتا ہے۔کیس میں 51 دن کے بعد ان کی رہائی ہوئی تھی، بانی پی ٹی آئی کے کیسر کو تین اگست کو دو سال پورے ہو جائیں گے، انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔
3
ن لیگ کی وکٹ گرنے کو تیار، اہم رہنما کی پی ٹی آئی میں شمولیت کا امکان،ذرائع کے مطابق سابق گورنر اور مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کے سابق ترجمان زبیر عمر کی پی ٹی آئی میں شمولیت کا امکان ہے۔ زبیر عمر کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت سے متعلق پی ٹی آئی پیٹرن ان چیف سے مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی سینئر قیادت نے تصدیق کی ہے کہ اس سلسلے میں پیٹرن انچیف عمران خان نے گرین سگنل دے دیا ہے۔ زبیر عمر کو عید کے بعد باقاعدہ طور پر پی ٹی آئی کا حصہ بنائے جانے کا امکان ہے۔
4
بھارت کے سابق ہوم سیکرٹری گوپال پلئی نے مودی سرکار کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔گوپال پلئی کے مطابق مودی حکومت ملک میں فرقہ وارانہ بیانیے کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ کرن تھاپر کی جانب سے پروگرام میں سوال کیا گیا کہ سرعام کہا جاتا ہے کہ گولی مارو سالوں کو تو ایسے لوگوں کو ہٹانے کے بجائے ان کو ترقی دیدی جاتی ہے؟سابق ہوم سیکرٹری گوپال پلئی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگوں کو ترقی دینے سے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ آپ نفرت انگیز بات کریں گے تو حکومت کی حمایت آپ کے ساتھ ہو گی۔ وزیراعظم مودی نے آئینی حلف کی روح کو پامال کیا ۔ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویہ ریاستی سرپرستی میں جاری ہے۔ ملک کا اتحاد مذہبی رواداری سے مشروط ہے۔ کوئی بھی ملک جہاں فرقہ وارانہ فسادات ہوں، ترقی نہیں کر سکتا اور اگر تبدیلی نہ لائی گئی تو موجودہ حکومت کو تاریخ ایک تاریک باب کے طور پر یاد رکھے گی۔
5
رہنما تحریک انصاف رؤف حسن کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے لیے آئینی اور قانونی تمام راستے جو ہیں وہ بند کر دیے گئے ہیں، یہ صرف ایک دن یا دو دن، یا ایک مہینہ دو مہینے کے ایکسپیریئنس کے اوپر نہیں کہہ رہے بلکہ پچھلے تین سال کے ایکسپیریئنس کے اوپر کہہ رہے ہیں، دن بدن شکنجہ جو ہے اس کو اور ٹائٹ کیا جا رہا ہے. ان حالات میں کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے کیا آپشن بچتا ہے وہ بچتا ہے ایک پرامن احتجاجی تحریک کا جس کو کہ خان صاحب نے حکم کیا ہے کہ لانچ کرنے ہم جا رہے ہیں، اس کے خدوخال طے کیے جائیں گے اور پھر آپ لوگوں کے ساتھ بھی شیئر کر دیے جائیں گے.تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ بڑا مشکل ہے جو خان صاحب کے میسجز ہیں ان کو ڈی سائفر کرنا، کیونکہ ان کی کئی چیزیں ہوتی ہیں جو کہ وہ راؤنڈ اباؤٹ آتے ہیں اور کئی چیزیں بڑی کلیریٹی کے ساتھ کرتے ہیں، میں نے ایک ہی نتیجہ نکالا ہے کہ خان صاحب جو ہیں ان کے اندر یکسوئی نام کی کوئی چیز نہیں ہے، ان کے سامنے دو راستے ہیں ایک ہے مخاصمت کا اور ایک ہے مفاہمت کا، اب یہ جو دونوں راستے ہیں خان صاحب چاہتے ہیں کہ وہ دونوں پر سفر پیرا رہیں.
6
تجزیہ کار عامر الیاس رانا کا کہنا ہے کہ عمران خان صاحب سیاسی طور پر تو بڑی کلیئر بات ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے لوگوں کو استعمال کرنے کے بعد پھر ایک دفعہ اس کو کہیں گے اکڑ گئے ہیں کہ جو مرضی کر لو میں نے تم سے بات کرنی ہے اوراگلے کہہ رہے ہیں کہ نہیں بات کرنی، کرنی ہے تو پہلے معافی مانگو ، صدق دل سے مانگو اور حکومت سے جاکہ بات کرو جواب تو یہ ہے. میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ عمران خان کو حقائق کا علم نہیں، اگر وہ 22 مہینے سے اپنے اعصاب کے ساتھ کھیل رہاہے تو پاکستان کے ساتھ بھی کھیل رہے ہیں، ان کو یہ کام نہیں کرنا چاہیے. تجزیہ کار اطہر کاظمی نے کہا کہ اینڈ آف دی ڈے مذاکرات ملک کی ضرورت ہے، دونوں طرف کی ضرورت ہے، حکومت کی بھی خواہش ہے، اسٹیبلشمنٹ کی بھی خواہش ہے اور خان صاحب کی بھی خواہش ہے، یہ ملک کی ضرورت ہے، کسی کو ایک دوسرے کی ضرورت ہو یا نہ ہو تعلقات بہتر ہوں، ملک کا سیاسی ماحول بہتر ہو، میرے خیال میں یہ تو ملک کی ضرورت ہے، باقی جو مارنگ کا ذکر ہے، اگر مارنگ کو کسی عدالت سے سزا ہوئی ہے، اگر مارنگ کی ایسی کوئی فنڈنگ ہے، مارنگ کے اوپرکوئی دہشتگردی کا الزام ہے تو میرے خیال میں پاکستان میں عدالتیں موجود ہیں، ان پر مقدمہ دائر کیاجائے.سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ 1373 ریزولوشن کا نام ہے جو سیکیورٹی کونسل نے اڈاپٹ کی تھی، 9/11 کے فوراً بعد جب امریکا پہ 11ستمبر 2001 کو اٹیک ہوا تھا اس کے فوری بعد سیکیورٹی کونسل نے یہ ریزولوشن اڈاپٹ کی تھی کہ دنیا کے تمام ممالک اب ٹیررازم کے خلاف جنگ میں تعاون کریں اور پھر اس کے تحت 1373ایک کمیٹی بنی جو وہاں بیٹھ کر مانیٹر کرتی ہے کہ دنیا میں کہاں کہاں ٹیررازم کے خلاف کیسی جنگ جاری ہے.