1
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب کا بجٹ مکمل طور پر ٹیکس فری ہوگا، تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں صوبے نے صفائی، تعلیم اور عوامی فلاح کے شعبوں میں نئی تاریخ رقم کی ہے، صوبہ پنجاب کا مالی سال 26-2025 کا بجٹ مکمل طور پر ٹیکس فری ہوگا، جو 16 جون کو پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیا ہے، جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے ان کو ٹیکس نیٹ میں لانا چاہیے، وزیراعلیٰ پنجاب نے مختلف محکموں کی جانب سے دی گئی اضافی ٹیکس تجاویز کو مسترد کر کے عوامی مفاد کو ترجیح دی ہے، مریم نواز کے ہوتے ہوئے پنجاب کے عوام کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو سکتی۔ ستھرا پنجاب پروگرام سے نہ صرف صوبہ پنجاب میں صفائی کے حوالے سے انقلابی تبدیلی آئی بلکہ دوسرے صوبوں کو بھی اس ماڈل سے سیکھنے کا موقع ملا، بعض صوبوں کو اس پروگرام سے بہت تکلیف ہوئی، کام کرنے کیلئے 15 یا 16 سال نہیں، صرف ایک سال ہی کافی ہوتا ہے۔
2
پشاور ہائی کورٹ کا کے پی حکومت سے فنڈز کی فوری فراہمی کا مطالبہ، پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جوڈیشل انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کا کم از کم 10 فیصد بجٹ مختص کیا جائے، اس سلسلے میں چیف جسٹس کی ہدایت پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو باضابطہ خط بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا بشمول ضم اضلاع میں جوڈیشل انفراسٹرکچر کی شدید کمی ہے جس سے نہ صرف انصاف کی فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے بلکہ جاری منصوبے بھی سست روی کا شکار ہیں۔دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال پشاور ہائی کورٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اے ڈی پی میں نہایت کم بجٹ مختص کیا گیا جس کے باعث کئی منصوبے بروقت مکمل نہ ہو سکے حتیٰ کہ 2013 میں شروع کیے گئے کئی منصوبے تاحال ادھورے ہیں جس کی بنیادی وجہ فنڈز کی بروقت عدم ادائیگی ہے۔چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے آئندہ آنے والے اے ڈی پی میں جوڈیشل انفراسٹرکچر کے لیے کم از کم 10 فیصد بجٹ مختص کرنے پر زور دیا ہے۔عدالتی دستاویز میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ اے ڈی پی میں جوڈیشل انفراسٹرکچر کے لیے مختص بجٹ صرف 7 ارب روپے تھا جو کل ترقیاتی بجٹ کا محض 2.8 فیصد بنتا ہے۔
3
شعیب اختر کا ڈاکٹر نعمان کے لیگل نوٹس کا مدلل جواب، الزامات کو مسترد کردیا۔شعیب اختر کی جانب سے یہ جواب ایڈووکیٹ ابوزر سلمان خان نیازی کی وساطت سے ارسال کیا گیا ہے۔قانونی جواب میں شعیب اختر نے ڈاکٹر نعمان نیاز کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ لائیو شو کے دوران کی گئی گفتگو عام نوعیت کی تھی جسے بدنیتی یا ہتک عزت کے زمرے میں لانا سراسر غیر مناسب ہے۔ ان کی گفتگو کا مقصد کسی کی شہرت کو نقصان پہنچانا نہیں تھا بلکہ وہ صرف ان حقائق کا تذکرہ کر رہے تھے جو پہلے سے سب کے علم میں تھے۔شعیب اختر کی قانونی ٹیم نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈاکٹر نعمان نیاز پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ بطور "سامان انچارج” فرائض انجام دے چکے ہیں اور اس دوران کھلاڑیوں کے بیگز اٹھانا ان کے پیشہ ورانہ کردار کا حصہ تھا جس میں کسی بھی قسم کی تضحیک یا توہین کا پہلو نہیں نکلتا۔جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر نعمان نیاز کو کھانوں سے متعلق معلومات رکھنے کی وجہ سے ٹیم کے لیے کھانے کا بندوبست کرنے کی ذمہ داری بھی دی جاتی رہی ہے جس کا ذکر ہتک عزت کے دعوے میں شامل کرنا بلاجواز اور قابل اعتراض ہے۔شعیب اختر نے قانونی طور پر مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر نعمان نیاز اس نوٹس پر نظرثانی کریں، اسے فوری طور پر واپس لیں اور اس غیر ضروری تنازع پر معذرت کریں۔
4
بھارتی ریاست گجرات کے احمد آباد ایئرپورٹ کے قریب ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایئرانڈیا کی فلائٹ نمبر اے آئی 171 بھارتی ریاست گجرات کے احمد آباد ایئرپورٹ سے لندن (برطانیہ) کیلئے روانہ ہوئی تھی، حادثہ ٹیک آف کے دوران پیش آیا، طیارے میں دو پائلٹ اور عملے کے 10 ارکان سمیت 254 افراد سوار تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثے کے شکار طیارے میں سابق وزیراعلیٰ گجرات وجے روپانی سمیت برطانوی شہری بھی سوار تھے۔رپورٹس میں کہا گیا کہ جہاز پرواز کے کچھ دیر بعد ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہوا، حادثے کے فوراً بعد منظرعام پر آنے والی ویڈیوز میں تباہ شدہ طیارے کے حصوں سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا رہا ہے، جائے وقوعہ پر ایمرجنسی سروسز فوری طور پر پہنچ گئیں جن میں فائر ٹینڈرز بھی شامل تھے۔
5
بلوچستان کے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی عدم فراہمی پر محکمہ صحت بلوچستان نے سخت کارروائی کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر میڈیکل سٹور ڈپو (ایم ایس ڈی) ڈاکٹر محمد اسماعیل مروانی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا اور اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔محکمہ صحت کے مطابق ڈاکٹر محمد اسماعیل کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، ان پر ادویات کی خریداری کے عمل میں ناکامی اور دستیاب فنڈز کے بروقت استعمال میں کوتاہی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ غریب عوام کو ضروری ادویات کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہونے کے باعث یہ اقدام ناگزیر تھا، معطل افسر کو محکمہ صحت میں رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ گریڈ 19 کے ڈاکٹر میر محمد یوسف خان کو ایڈیشنل ڈائریکٹر ایم ایس ڈی کے طور پر تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ ادویات کی سپلائی کو فوری طور پر بحال کیا جا سکے


