1
سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بے نتیجہ، امریکا کا اسرائیل کی حمایت کا اعتراف، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ پر بلایا گیا ہنگامی اجلاس کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہوگیا، امریکا، ایران اور دیگر ممالک کے نمائندوں نے اپنی پوزیشن واضح کی تاہم عالمی ادارہ کوئی متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے میں ناکام رہا۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، پاکستان ایران پر اسرائیل کے غیرقانونی حملے کی مذمت کرتا ہے۔
2
اسرائیل کا ایرانی رہائشی کمپلیکس پر حملہ، 20 بچوں سمیت 60 افراد شہید،اسرائیلی فضائی حملہ تہران کے ایک مصروف اور گنجان آباد علاقے میں کیا گیا، جہاں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا، حملے کے فوراً بعد ریسکیو ادارے موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا، متعدد افراد ملبے تلے دبے رہنے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا ہے، ایرانی عوام اور حکومت کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
3
کراچی کےعلاقہ ملیر سٹی سے دہشت گرد پکڑا گیاپولیس حکام کے مطابق پکڑے گئے دہشت گرد سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کر لیا گیا، دہشت گرد سے تحویل میں لئے گئے اسلحہ میں پانچ رائفلز، ایس ایم جی شامل ہیں۔پولیس حکام نے مزید بتایا ہے کہ کارروائی میں دیگر مختلف نوعیت کے ہتھیار بھی ملے، مزید تفتیش جاری ہے۔
4
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب تھانہ نیو ٹاؤن میں درج 24 نومبر جلاؤ گھیراؤ کیس میں عدالتی حکم پر شامل تفتیش ہو گئے۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے حکم کے بعد عمر ایوب نے اپنے وکیل کے ذریعے تفتیشی افسر کے سامنے تحریری بیان جمع کروا دیا۔عمر ایوب کی جانب سے جمع کروائے گئے بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ ایک سیاسی اور جمہوری سوچ رکھنے والے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ملک بھر میں ان کے خلاف درج 90 سے زائد مقدمات بے بنیاد اور سیاسی انتقام پر مبنی ہیں، وہ تمام مقدمات میں عدالتوں کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔اپنے تحریری بیان میں عمر ایوب نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ مقدمہ جھوٹ اور من گھڑت الزامات پر مبنی ہے، میں پرامن احتجاج پر یقین رکھتا ہوں اور کسی بھی قسم کے جلاؤ گھیراؤ میں شامل نہیں رہا، میں بے گناہ ہوں۔
5
پاکستانی پارلیمانی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مسئلہ کشمیر اور دہشت گردی کا کوئی فوجی حل نہیں، سفارتکاری اور مذاکرات ہی حل ہیں۔پاکستان نے پہلگام واقعہ پر شفاف تحقیقات کی پیشکش کی، بھارت نے پاکستان کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کیا، امن کی بات کرنے کے لیے آیا ہوں، پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے، جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔پاکستان بات چیت کے ذریعے مسئلے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے مگر بھارت ہر بار بات چیت اور مذاکرات سے فرار اختیار کرتا ہے، مذاکرات نہیں ہوں گے تو کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہوگا۔ ایٹمی طاقتیں ہونے کے باوجود پاکستان اور بھارت میں کشیدگی تیزی سے بڑھی، سلامتی کونسل میں کشمیر پر بات کی ہے، پاکستان نے کہا تھا کہ کسی بھی شفاف تحقیقات کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں، پاک بھارت جنگ ختم ہو گئی مگر امن قائم نہیں۔پاکستان جامع مذاکرات پر یقین رکھتا ہے، بھارت مذاکرات سے انکاری ہے، بھارت پانی بند کرنے کی دھمکی دے کر پاکستان کو اشتعال دلا رہا ہے۔برسلز میں نیوز کانفرنس


