اسلام آباد(ای پی آئی) پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کی پراپرٹیز کی نیلامی کیخلاف اپیلوں پر جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ہے،جس میں جسٹس امین الدین نے کہا کہ یہ تو متفرق درخواست ہے مرکزی اپیلیں تو نہیں لگیں،جس پر بحریہ ٹاؤن وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ مجھے بھی آدھی رات میں بتایا گیا ہے تھا کہ آپ کا کیس لگ گیا ہے یہ تو آپ آفس سے پوچھیں کہ مرکزی اپیلیں۔ کیوں نہیں لگائیں
جسٹس امین الدین نے کہاکہ کیس کی سماعت اگلے ہفتے رکھ دیتے ہیں جس پر فاروق ایچ نائیک کہتے ہیں کہ اپ یہ حکم امتناع تو دے دیں جس پر جسٹس امین الدین سماعت میں مختصر وقفہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں دیکھتے ہیں.
وقفہ کے بعد پھر کیس سماعت شروع ہوئی اور جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ آج صرف متفرق درخواست لگی ہے، مرکزی اپیلیں فکس نہیں ہوئیں، نیب ریفرنسز کی کاپیاں بھی اپیلوں کے ساتھ لگائی جائیں تاکہ اصل غبن واضح ہو، ملزمان نے نیب کے ساتھ پلی بارگین کی تھی اور آٹھ پراپرٹیز دی تھیں،اب ملزم کہتا ہے کہ پلی بارگین دباؤ میں تھی اور چیئرمین نیب کو اسے ختم کرنے کی درخواست دی گئی ہے، پلی بارگین ختم ہونے کے بعد کیس پہلی اسٹیج پر آ گیا، نیب جائیدادوں کی نیلامی کی طرف کیسے گیا؟ پلی بارگین ختم ہونے کے بعد ریفرنس پر ٹرائل ہوگا اور سزا پر ہی پراپرٹیز ضبط ہوں گی.
وکیل بحریہ ٹاؤن فاروق ایچ نائیک نے مؤقف اپنایا کہ پلی بارگین ختم کرنے کی درخواست اور نیب ریفرنس دونوں پینڈنگ ہیں، جسٹس امین الدین نے کہا اسٹے کا فیصلہ یک طرفہ نہیں ہوگا، دوسری سائیڈ کو سن کر کیا جائے گا اور وکیل کو ملک ریاض و بحریہ ٹاؤن کیخلاف ریفرنسز کی نقول جمع کرانے کا حکم دیا،
عدالت نے بحریہ ٹاؤن کی پراپرٹی نیلامی کیخلاف حکم امتناع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13 اگست تک ملتوی کر دی