اسلام آباد(ای پی آئی) المیزان فاؤنڈیشن کی ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں فاضل چیف جسٹس آف پاکستان (صدر بورڈ) کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ محمد جنید غفار، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ایس ایم عتیق شاہ، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ روزی خان بریچ اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سردار محمد سرفراز ڈوگر نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران المیزان فاؤنڈیشن کے نئے تعینات شدہ سیکرٹری جناب ضیاءالرحمٰن کو باضابطہ طور پر بورڈ کے اراکین سے متعارف کرایا گیا۔ انہوں نے بورڈ کو فاؤنڈیشن کے مینڈیٹ پر بریفنگ دی، جو 1995 میں سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت قائم ہوئی تھی تاکہ جج صاحبان، عدالتی عملے، ان کے اہل خانہ اور مرحومین کے لواحقین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ اعلیٰ عدالتوں کے حاضر سروس ججز اس فاؤنڈیشن کے مستفیدین میں شامل نہیں ہیں۔ فاؤنڈیشن ایڈوائزری بورڈ کی نگرانی اور کمیٹی آف ایڈمنسٹریشن کی انتظامیہ کے تحت کام کرتی ہے۔
اپنے قیام سے اب تک المیزان فاؤنڈیشن تقریباً 31 ملین روپے کی مالی امداد تقسیم کر چکی ہے اور 27 میڈیکل و انجینئرنگ طلباء کی اعلیٰ تعلیم کے اخراجات مکمل طور پر برداشت کیے ہیں۔ اب فاؤنڈیشن اپنی فلاحی سرگرمیوں کو صحت، تعلیم اور ہنگامی امداد کے شعبوں میں وسعت دینے جا رہی ہے۔
ایڈوائزری بورڈ نے آرٹیکل 6(1) آف آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن کے تحت کمیٹی آف ایڈمنسٹریشن کو ازسرِ نو تشکیل دیا اور سات نامزدگیوں کی منظوری دی، جن میں سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج، ہائی کورٹس کے تین ریٹائرڈ جج صاحبان اور تین ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحبان شامل ہیں۔ بورڈ نے سپریم کورٹ کے سابق جج جناب جسٹس (ر) مشیر عالم کو کمیٹی آف ایڈمنسٹریشن کا چیئرمین مقرر کیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ چیئرمین اور اراکین اعزازی بنیادوں پر خدمات انجام دیں گے اور صرف سفری و یومیہ الاؤنس کے حقدار ہوں گے۔
مزید برآں، بورڈ نے صدر کے اس فیصلے کی توثیق کی کہ سیکرٹری کی ملازمت کی شرائط و ضوابط وفاقی حکومت کے افسران کے مساوی ہوں گی۔ ادارہ جاتی تقاضوں کے پیشِ نظر بورڈ نے ضروری ماہر عملے کی چھ ماہ کی مدت کے لیے یا تنظیم نو اور قواعد کی حتمی منظوری تک، جو بھی پہلے ہو، کنٹریکٹ پر بھرتی کی بھی اجازت دی۔
فاؤنڈیشن کے سیکرٹری نے پانچ سالہ اسٹریٹجک پلان کا مسودہ پیش کیا جس میں فلاحی پروگراموں کو مضبوط بنانے کا وژن شامل ہے۔ بورڈ نے اس اقدام کو سراہا اور ہدایت کی کہ اسے نئی تشکیل شدہ کمیٹی کے سامنے رکھا جائے اور پھر آئندہ اجلاس میں اس فورم کے سامنے پیش کیا جائے۔