اسلام آباد(ای پی آئی ) پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے بنائے گئے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کے حوالے سے مالی سال 2023–24 کی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اس قومی ادارے نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ فنڈ سے صرف ایک دن میں 2 کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد کی رقم بغیر اجازت کے ایونٹ مینجمنٹ سروسز پر خرچ کی۔

یہ بھاری اخراجات مختلف اشیاء پر کیے گئے جن میں ریفرشمنٹس، تحائف، پرنٹنگ، پینافلیکس، سرٹیفکیٹس اور شیلڈز شامل ہیں۔

آڈٹ رپورٹ میں تشویش کا اظہار کیا گیا کہ یہ اخراجات فنڈ کے قانونی مقاصد سے مطابقت نہیں رکھتے، جو این ڈی ایم اے کے قانون (ایکٹ) کے تحت صرف ہنگامی تیاری، ردِعمل، نقصانات میں کمی، ریلیف یا تعمیرِ نو تک محدود ہیں۔

رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا کہ یہ اخراجات این ڈی ایم اے کے بنیادی کام یعنی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے افعال سے براہِ راست تعلق نہیں رکھتے۔

این ڈی ایم اے نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایسے ایونٹس اس کی حکمتِ عملی میں تبدیلی کا حصہ ہیں، جس کے تحت وہ ایک ردِعمل دینے والے ادارے سے ایک فعال اور پیشگی تیاری کرنے والے ادارے میں تبدیل ہو رہا ہے۔ادارے کے مطابق آگاہی اور صلاحیت میں اضافے کی سرگرمیاں این ڈی ایم اے کے نئے کردار کے لیے ناگزیر ہیں۔