اسلام آباد(محمداکرم عابد)ُپارلیمینٹ میں سیاسی جماعتوں کے تضادات سامنے آنے کا سلسلہ جارہی ہے سسٹم کو جعلی قراردینے والے اس سے؎ مراعات مالی فوائد بھی لے رہے ہیں اور تازہ ترین یہ ہے کہ صاف صاف کہہ دیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی جعلی ہے تو اس میں بیٹھے کیو ں ہو؟۔ اسپیکر سردارایازصادق بلآخر پھٹ پڑے۔پارہ ہائی ہوگیا پی ٹی آئی کو کھری کھری سنادی گئی۔اپوزیشن دفاعی پوزیشن پر پارلیمینٹ نہ چلنے دینے کا اعلان بھول گئے۔
پی ٹی آئی کی موجودہ قومی اسمبلی پر مسلسل جعلی قراردینے کی سیاسی گولہ باری پر اسپیکر سردارایازصادق کاصبر کا پیمانہ لبریز ہوتے دکھائی دینے لگا۔انتباہ کرتے ہوئے ایازصادق نے ہے کہ اسمبلی اگر جعلی ہے اس میں بیٹھے کیوں ہوپی ٹی آئی قیادت بیرسٹرگوہرخان، عامرڈوگر،اسدقیصرخاموش نشستوں پر سنتے رہے۔ ایوان میں وقفہ سوالات دوران ایوی ایشن ڈویژن سے متعلق عامرڈوگر کے سوالات کے جواب نہ آنے پر چیف وہیپ پی ٹی آئی نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ پارلیمینٹ کی کاروائی کا حصہ بنیں کیا اس پارلیمان میں بیٹھیں۔اگرچہ یہ جعلی اسمبلی ہے مگر ہم اس جعلی پارلیمان پر بھی حملہ نہیں ہونے دیں گے.
ایازصادق نے پی ٹی آئی ارکان پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسمبلی جعلی ہے تو اس میں بیٹھے کیوں ہو؟پی ٹی آئی والے اس موقع پر شرمندہ شرمندہ دفاعی پوزیشن میں نظر آئے۔اور اسپیکرکے انتباہ پر کوئی دلائل نہ دیئے۔بس روایتی تقاریرکے بعد پی ٹی آئی ارکان ایوان سے چلے گئے۔
اسپیکر قومی اسمبلی کا متذکرہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی کی پارلیمانی قیادت ان سے حالیہ ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لئے کردار اداکرنے کا مطالبہ کرچکی ہے اس میں تو کوئی پیش رفت نہ ہوسکے البتہ پی ٹی آئی شاید پارلیمان کو نہ چلنے دینے کے اعلان کو بھول چکی ہے دونوں ایوانوں میں اٖڈیالہ جیل کے باہر اپوزیشن ارکان سے انتظامیہ اور پنجاب پولیس کی بدسلوکی کا چیئرمین سینیٹ اسپیکر قومی اسمبلی سے نوٹس لینے کی التجائیں کی جارہی ہیں جعلی پارلیمان قراردیتے ہوئے پی ٹی آئی والے کاروائی میں بھی شریک ہیں یعنی جعلی بندوبست کے آئینی جوازکے لئے اپوزیشن مکمل شریک جرم ہیں سہولت کاری اپوزیشن سے بھی کی جارہی ہے اپنے کپتان کے بیانیہ کی دھجیاں ہر روزپارلیمان میں بکھرتے دیکھ رہے ہیں۔


