اسلام آباد(عابدعلی آرائیں) پاکستان کے معروف انگریزی اخبار روزنامہ ڈان نے ایڈیٹوریل” ہیرو کی پوجا” میں ملکی صورتحال پرلکھا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اب عوامی نمائندوں کی طرح ہمارے لیے قومی ہیروز بھی سلیکٹ کیے جائیں گے۔
ایڈیٹوریل کے مطابق جمعرات کوسینیٹ اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نے اعلان کیا کہ وہ اب سے ایوان میں "اداروں، قومی ہیروز اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں” کو نشانہ بنانے والی کسی بھی تنقید پر سخت پابندی عائد کررہے ہیں۔خاص طور پر، "آپ ان سیاسی ہیروز کے خلاف بات نہیں کر سکتے جنہوں نے شہادتیں دیں، جلاوطنی اختیار کی، قوم اور ملک کے لیے کام کیا، ایٹمی تجربات کیے، اور ایٹم بم بنایا”۔
اس اعلان کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے سے بچانے کیلئے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے اس شریف آدمی(ڈپٹی چیئرمین) نے کہا کہ اس میں ان کی پارٹی کے صدر نواز شریف بھی شامل ہیں۔
ایڈیٹوریل میں لکھا گیا ہے کہ ڈپٹی چیئرمین سے ہیرو کا اعزاز حاصل کرنے والوں میں سابق وزرائے اعظم ذوالفقار علی بھٹو ،بے نظیر بھٹو، ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور "وہ تمام لوگ جنہوں نے 1973 کے آئین پر دستخط کیے تھے”شامل ہیں۔۔۔ڈپٹی چیئرمین اپنے ہیروز کی فہرست بتاتے ہوئے مطمئن نہیں تھے۔انہوں نے واضح کیا کہ وہ ان (ہیروز)کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے "سخت احکامات” بھی جاری کر سکتے ہیں۔ڈپٹی چیئرمین نے متنبع کیاکہ "ان کے پاس رول 246 کے تحت ممبر کو معطل کرنے کا اختیار موجود ہے،
ایڈیٹوریل کے مطابق یہ دلچسپ لمحات ہیں جب ہمارے پاس ایسے لیڈر ہیں جو قانون کی گرفت سے باہر ہیں اور ایسے لیڈربھی ہیں جو ملامت سے مبرا ہیں۔ان کا احترام یا تو قانون سازی کے ذریعے کرایا گیا ہے یا پارلیمانی حکم نامے کے ذریعے ا حترام پرمجبور کیا گیا ہے۔
ایڈیٹوریل میں سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کوئی پوچھے کہ یہ سب کرنےکی کیا ضرورت ہے؟ لیڈر آخر کار انسان ہیں، اور غلطیاں کرتے رہتے ہیں۔ان لیڈرزمیں سے کسی کو بھی اس بلند درجے پر کیوں پہنچادیا جانا چاہیے جہاں وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں، کر سکتے ہیں یا کر چکے ہیں ان کی تعظیم کی جائے اور ہرصورت انہیں قبول کیا جائے؟ تنقید اور مخالف نقطہ نظر کے لیے برداشت اتنی خطرناک رفتار سے کیوں ختم ہو رہی ہے؟
ایڈیٹوریل کے مطابق جب قوم اپنی سیاسی تاریخ کے ایک نئے باب کی طرف مڑ رہی ہے تویہ سوالات سب کے سوچنے کے ہیں اور بنیادی تنازعہ بھی تبدیل نہیں ہوا ۔اکثریت کی خواہش اور چند لوگوں کی مرضی کے مابین قانونی حیثیت اور سپیس کیلئے تنازعہ جاری ہے، اگر عوام اپنی مرضی کے رہنماؤں اور اپنے ہیرو کا انتخاب بھی نہیں کر سکتے، تو اس کا کیا مطلب ہے کہ وہ ریاست کے ساتھ کیا عمرانی معاہدہ کر چکے ہیں؟ ملک کے ان عوام کو مخصوص دائروں میں محدود نہیں کیا جاسکتاجو مختلف بیانیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ایڈیٹوریل میں کہا گیا ہے کہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب اس طرح کے حالات ہوتےہیں تو معاشرے پیچھے کی طرف جاتے ہیں ۔یہ بہتر ہوگا کہ معاشرے کو پیچھے جانے سے روکا جائے۔


