اسلام آباد (محمد اکرم عابد) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں موبائل فونز پر بھاری ٹیکسوں کا تنازہ کھڑا ہو گیا۔ حکومت پاکستان عام مارکیٹ کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس وصول کر رہی ہے .

کمیٹی میں انکشاف اب یہ کہ اجلاس میں موبائل اب کمیٹی کا اجلاس نوید قمر کی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں موبائل فونزہ ٹیکس ہوں پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ جہاں اراکین نے موجودہ ٹیکس شرحوں کو غیر معمولی، غیر منصفانہ اور عوام پر بوجھ قرار دیتے ہوئے فوری نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا۔

اجلاس میں رکن قومی اسمبلی سید علی قاسم گیلانی نے کہا کہ اسمارٹ فونز پر ٹیکس حد سے زیادہ ہیں اور صارفین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کا موبائل فون چوری ہو جائے یا چھن جائے، تو نیا فون خریدنے پر دوبارہ بھاری ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پرانے آئی فون 6 پر 35 ہزار روپے جبکہ آئی فون 12 کی درآمد پر ایک لاکھ روپے تک ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جو عام شہری کی پہنچ سے باہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمارٹ فونز اب صرف رابطے کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ نوجوان ان سے ویڈیوز بنا کر آمدنی کما رہے ہیں اور ای کامرس میں حصہ لے رہے ہیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید نوید قمر نے کہا کہ اسمارٹ فون کو اب لگژری تصور کرنا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مؤقف اب قابلِ قبول نہیں کہ ملک آئی ایم ایف پروگرام میں ہے اس لیے ٹیکس کم نہیں کیے جا سکتے۔کاروباری رہنما مرزا اختیار بیگ نے بھی موبائل فونز پر ٹیکس کے موجودہ نظام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس لگانے کے لیے واضح اور منصفانہ طریقہ کار ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ اسمارٹ فونز صرف امیر طبقہ استعمال کرتا ہے۔اجلاس کے دوران چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چند بڑے برانڈز کے سوا زیادہ تر اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اگر ایف بی آر کی ویلیوایشن مارکیٹ ریٹ سے زیادہ ہو تو اسے کم کر دیا جائے گا۔

چیئرمین ایف بی آر نے مزید بتایا کہ موبائل فونز پر ٹیکس کے طریقہ کار سے متعلق حتمی رپورٹ آئندہ سال مارچ میں پیش کر دی جائے گی۔ ان کے مطابق گزشتہ مالی سال موبائل فونز سے 82 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا ہوا۔اس موقع پر چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ پاکستان میں صرف 6 فیصد مہنگے اسمارٹ فونز درآمد کیے جاتے ہیں جبکہ ایپل کے علاوہ تمام بڑے برانڈز کے فون ملک میں مقامی طور پر تیار ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 5 جی کا لائسنس آئندہ سال فروری یا مارچ میں جاری کر دیا جائے گا۔کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ موبائل فونز کی ویلیوایشن اور ٹیکس نظام میں بہتری کے لیے جامع سفارشات مرتب کر کے پیش کی جائیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔