اسلام آباد(محمد اکرم عابد) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خارجہ امور کے انتخابی اجلاس میں طلبہ و دیگر درخواست گزار کی اسناد سفارتی دستاویز کی تصدیق کے معاملے میں اربوں روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے ،سابق نگران وزیراعظم نے تصدیق کی ہے کہ مافیا سرگرم اور کرپشن کا بازارگرم ہے ۔
سینیٹرعرفان صدیقی کے انتقال کے باعث سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین کے خالی عہدہ پر انتخاب مکمل کرلیاگیا۔ ن لیگ کے سینیٹر آغا شاہ زیب درانی متفقہ طور پربلامقابلہ چیئرمین کمیٹی منتخب ہو گئے۔
سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ وزارت خارجہ امور کے دفتر کے باہر ہزاروں طلبہ و دیگر درخواست گزارڈگریوں و سفارتی،مکیتی اقامتی کاغذات کی تصدیق کے لئے خوار ہو رہے ہوتے ہیں اور اس حوالے سے اربوں روپے کی کرپشن ہو رہی ہے۔
سینیٹر انوار الحق نے کہا کہ جب تک الیکٹرانک حل کی طرف نہیں جائیں گے کرپشن کے بازار ختم نہیں ہونگے۔ ایک مافیہ سرگرم عمل ہے۔ کمیٹی اجلاس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ملک کی جامعات اپنے ہی ادارے کی جانب سے جاری ڈگریوں کی تصدیق کیلئے طالبعلموں سے ہزاروں روپے بٹور رہے ہیں۔
اراکین کمیٹی نے طلبا کے ساتھ سخت زیادتی قرار دیتے ہوئے جامعات پر اس طرح کی فیسوں کی وصول کو روکنے کی سفارش کر دی۔ کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ڈگریوں و کاغذات کی تصدیق کے حوالے سے امور کا جائزہ لینے کے لئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور، سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اور سینیٹ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا تاکہ معاملات میں بہتری لائے جا سکے۔
نو منتخب چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ انتہائی اہمیت کی حامل کمیٹی ہے۔ خارجہ امور میں مزید بہتری لانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ تمام سفارتی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا ۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے بہتری لانا مقصد ہے اور وہ ممالک جو نظر انداز رہے ہیں ان سے سفارتی تعلقات میں بہتری کی سفارشات پر مشاورت کی جائے گی۔
اجلاس کے دوران مرحوم سینیٹر عرفان الحق صدیقی کی مغفرت کی دعا کی گئی۔ افریقہ،لاطینی امریکہ اور وہ ممالک جو ابھی تک سفارتی لحاظ نظر انداز رہے ہیں ان کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بہتری کے لئے تجاویز پیش کی گئیں۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ صوبہ بلوچستان، خیبر پختونخواہ، سندھ سمیت ملک بھر میں کمیٹی کے اجلاس طلب کر کے بیرونی مداخلت سمیت متعلقہ امور کے معاملات کا جائزہ لیا جائے۔


